اسلام آباد (سہ پہر) وزیرِ اعظم پاکستان کےعوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اہم اقدامات….؟
اسلام آباد (سہ پہر) مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود حکومت نے اضافی بوجھ اٹھایا ہے۔ وزیراعظم نے ایک ماہ میں اربوں روپے کا ریلیف دے کر عوام کو مشکلات سے بچانے کی کوشش کی،اور بدترین معاشی صورتحال میں عوام کو ریلیف دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلویز کو کرایوں میں اضافے سے روک دیا جبکہ دوسری طرف وزیر مواصلات نے ٹول فیس میں ہونے والا سہ ماہی اضافہ معطل کر دیاہے۔
حکومت پہلے ہی صارفین کو خاطر خواہ ریلیف فراہم کر چکی ہے، تقریباً 129 ارب روپے سبسڈی کے ذریعے ایندھن کی قیمتیں مستحکم رکھی گئی ہیں, یہ ریلیف ترقیاتی بجٹ میں کمی اور دیگر اخراجات میں بچت کے ذریعے ممکن بنایا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عوام کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر ایندھن کے بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے درج ذیل اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے:
مفت پبلک ٹرانسپورٹ:
اسلام آباد میں تمام سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ کو اگلے 30 دنوں کے لیے بالکل مفت کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا آغاز 4 اپریل 2026 سے ہو رہا ہے اور اس کے اخراجات وفاقی وزارتِ داخلہ برداشت کرے گی۔
پنجاب میں ریلیف:
اسی طرح کی سہولت پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں بھی فراہم کی گئی ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ ایک ماہ کے لیے مفت رہے گی۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں:
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود، وزیرِ اعظم نے عوام پر اضافی بوجھ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے اور بچت کے اقدامات سے حاصل شدہ رقم کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ٹارگٹڈ پٹرول سبسڈی:
موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کے لیے کم قیمت پر پٹرول فراہم کرنے کی اسکیم (Discounted Petrol Scheme) پر تیزی سے کام جاری ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل واؤچرز کے ذریعے ماہانہ 20 سے 30 لیٹر سستا پٹرول دیا جائے گا۔
کفایت شعاری مہم:
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی بچت کے لیے سرکاری سطح پر سخت اقدامات کیے ہیں جن میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کٹوتی اور غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنا شامل ہے۔
یاد رہے کہ اس مشکل گھڑی میں حکومت کی اولین ترجیح کمزور اور متوسط طبقے کو عالمی بحران کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
وزیراعظم نے مشکل وقت میں کمیٹی بنائی جس نے بروقت فیصلے کیے ، بروقت فیصلوں سے ایندھن کی فراہمی میں خلل نہیں آنے دیا گیا تقریباً 129 ارب روپے سبسڈی کے ذریعے ایندھن کی قیمتیں مستحکم رکھی گئی ہیں۔ حکومت 30 جون تک 6 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود برداشت کرے گی۔
حکومت نے بھرپور کوشش کی ہے کہ عوام کو تحفظ دیا جاسکے حکومت مجبوراً معاہدوں اور وعدوں کے تحت قیمت میں اضافہ کیاہے۔ حکومت نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے با عث پیٹرول137 روپے 24 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کیاہے, ڈیزل کی عالمی منڈی میں قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ چکی ہے ،
حکومت نے کفایت شعاری اور اخراجات میں کٹوتی عوام پر بوجھ نہیں پڑنے دیا، تیل کی سپلائی بنیادی طور پر آبنائے ہرمز سے آتی ہے ، جن ممالک کے پاس اسٹر یٹیجک ذخائر موجود ہیں وہاں بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی کاکہنا ہے کہ وزیراعظم نے مشکل وقت میں مسافروں کے دل جیت لیے یہ عوام کیلئے تحفہ ہے ، ریلوے کا سفر ہر شخص کی پہنچ میں رہے گا ۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تمام مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ مسافر ٹرینوں میں اکانومی اور اے سی کلاسز جبکہ فریٹ ٹرینوں کے کرایوں میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر ٹول فیس میں ہونے والا سہ ماہی اضافہ معطل کر دیاہے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات پر این ایچ اے کو نوٹیفکیشن واپس لینے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورت حال میں شہریوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیاہے۔ اعلان کے بعد اب اورنج لائن ٹرین، میٹرو بس سروس، اسپیڈو بس کے مسافروں کو ٹکٹ خریدنا نہیں پڑے گا۔گرین الیکٹرو بس میں بھی سفر کے دوران شہریوں کو ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کاشتکاروں کو فی ایکڑ ایک لیٹر ڈیزل پر 100 روپے سبسڈی دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا مشکل حالات میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، غیرمعمولی حالات میں شہری ذاتی سواری کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں,جنگ کے نتیجے میں دنیا عالمی معاشی بحران کا شکار ہے، حالات کی بہتری کے ساتھ ہی عوام کو معاشی بوجھ سے نجات دلائیں گے۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ ایک ماہ کے لیے مفت کر دی گئی ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا وزیر اعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ فری کر دی ہے، وزارت داخلہ مفت ٹرانسپورٹ کا 35 کروڑ روپے کا بوجھ برداشت کرے گی۔ مزید یہ کہ وزیراعلیٰ سندھ نے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی کے تحت ہرماہ 2 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کچھ اہم فیصلے ہوئے، خطے کی صورتحال بہت کشیدہ ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنگ ختم کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں، موجودہ حالات دیکھتے ہوئے ہم نے کئی اقدامات کیے جس کے تحت ٹارگٹڈ سبسڈی دینا ہوگی۔ فیصلہ کیا کہ موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دی جائے، سندھ میں 66 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، ہر موٹرسائیکل والے کو اپریل سے ہرماہ 2ہزار دیے جائیں گے، 20 لیٹر کےحساب سے ہر ایک لیٹر پر 100 روپے ملیں گے۔ ایپ میں اپنا شناختی کارڈ نمبر ڈالنے سےموٹرسائیکل کانمبر آجائےگا، 15دن بعد رقم موٹر سائیکل والوں کو منتقل کی جائے گی تاہم رقوم تصدیق شدہ موٹرسائیکل والوں کو دی جائے گی لوئر کلاس کے ریلوے کرایوں میں اضافہ نہیں ہوگا، پہلے مرحلے میں صرف اپریل کے مہینے میں یہ سبسڈی دی جائے گی مزید برآں, پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جمعرات کو تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے عوامی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ پٹرولیم قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ملک کی جاری معاشی ابتری میں ایک انتہائی نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں 43 فیصد کے بھاری اضافے کا اعلان کیا جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 458.40 روپے فی لٹر مقرر کردی گئی جب کہ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 فیصد کا ہوشرُبا اضافہ کیا گیا جو اب 520.35 روپے فی لٹر ہوگئی ہے۔ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر کیا گیا جس نے ملک کی پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت میں ہلچل مچادی ہے مزید برآں مسافر بسوں کو وفاقی حکومت بھی ایک لاکھ روپے دے گی یاد رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوگیاہے۔دستاویز کے مطابق ایک ماہ میں ملک میں ہرقسم کی ٹرانسپورٹ 12.14 فیصد تک مہنگی ہوگئی، گاڑیوں کی مکینیکل سروسز ماہانہ 1.29 فیصد اور سالانہ 8.92 فیصد مہنگی ہوگئیں۔ بتایا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز نے مارچ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر تیل کی فروخت میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا، یہ اضافہ خاص طور پر عید کی تعطیلات اور ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران دیکھنے میں آیا،اس کے علاوہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی کے سبب بجلی گھروں نے بھی فرنس آئل کی خریداری بڑھا دی، جس سے مجموعی طلب میں اضافہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق مارچ میں پٹرول کی فروخت فروری کے مقابلے میں 8 فیصد بڑھ کر 6 لاکھ 70 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ فروری میں یہ فروخت 6 لاکھ 20 ہزار ٹن تھی۔اسی طرح ڈیزل کی فروخت میں بھی 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مارچ میں ڈیزل کی فروخت 5 لاکھ 90 ہزار ٹن رہی، جو فروری میں 5 لاکھ 20 ہزار ٹن تھی۔دوسری جانب فرنس آئل کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، مارچ میں فرنس آئل کی فروخت 90 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ فروری میں یہ صرف 40 ہزار ٹن تھی۔ پیٹرولیم قیمتیں بڑھنے سے ایک ماہ میں پوسٹل سروسز 2.15 فیصد مہنگی ہونے کے بعد پوسٹل سہولیات کے دام میں سالانہ 14.98 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ملک میں ایک ماہ میں تعلیمی اخراجات مزید 1.29 فیصد تک بڑھ گئے، تعلیمی اخراجات میں سالانہ بنیادوں پر 8.85 فیصد اضافہ ہوا ہے جبک ہ ایک ماہ کے دوران قیام و طعام کی سہولیات 2.92 فیصد تک مہنگی ہوگئیں، واشنگ سوپ اور ڈیٹرجنٹ کی قیمتوں میں مزید 0.57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مارچ میں شادی ہالز مالکان نے بھی دام 0.61 فیصد تک بڑھا دیے، ایک ماہ کے دوران گھریلو ملازمین نے اپنے دام 0.53 فیصد تک بڑھا دیے، ایک ماہ کے دوران ملک میں ہر قسم کی صحت سہولیات بھی مہنگی ہوگئی، ادویات کی قیمت میں ماہانہ 0.17 اور سالانہ 6.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک ماہ میں ڈاکٹرز نے کلینک فیسیں 0.93 فیصد تک بڑھا دیں، مارچ میں ڈینٹل سروسز 0.81 فیصد، میڈیکل ٹیسٹ مزید 0.17 فیصد مہنگے ہوگئے، ایک ماہ میں اسپتال 0.18 اور ایک سال میں 5.07 فیصد تک مہنگے ہوگئے۔دستاویز کے مطابق مارچ میں گھریلو سامان کی قیمتوں میں 0.84 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، ایک ماہ کے دوران پلاسٹک سامان 0.92 فیصد تک مہنگا ہوگیا جب کہ اسٹیشنری،گاڑیوں کے پرزہ جات،فرنیچر،کارپٹ اور ریسٹورنٹ بھی مہنگے ہوگئے۔گزشتہ روز وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے اور اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کیا تھا۔وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔ ڈیزل کی قیمت میں184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسےمقرر کردی گئی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے پیٹرول پر لیوی میں 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد پیٹرول پر لیوی 160 روپے 61 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔ ڈیزل پر لیوی صفر کر دی گئی۔ ڈیزل پر لیوی 55 روپے 24 پیسے مقرر تھی۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ جو فیصلہ کیا گیا ملک کی قیادت کی مشاورت سے کیا گیا ، ٹارگٹڈ سبسڈی کا اعلان کررہے ہیں تاکہ یہ حقیقی حقدار تک پہنچے۔ ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول پر موٹرسائیکل کے لیے100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔ انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر بھی فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے ، ٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو فیول پر 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی ، ریلوے کے لیے حکومت سبسڈی دے گی تاکہ کرایوں کو منیج کیا جاسکے ۔ وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ صدر مملکت نے موجودہ معاشی صورتحال میں رہنمائی کی، شکریہ ادا کرتے ہیں خطے کی صورتحال نے پوری دنیا کی معیشت کو مشکل کر دیا ہے ۔حکومت کے فیصلے کو اس نظرسے دیکھا جائے کہ یہ طوفان برپا کرنے میں ہمارا کوئی کردار نہیں تھا، بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ جلد از جلد اس آگ کو بجھانے کی کوشش کریں۔ چند ہفتوں سے معاملہ بگڑتا چلا جارہا ہے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ فیصلہ کیا گیا کہ بلینکٹ سسبڈی سے ہٹ کر صرف کمزور طبقات کا رخ کرے، آج ایک بڑی بیٹھک ہوئی جس میں وزیراعظم اور وزراعلیٰ موجود تھے ، فیصلہ کیا گیا کہ شاید عالمی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو بیلنکٹ سسبڈی کے ذریعے تحفظ نہیں دیا جاسکتا۔اسی طرح مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی۔ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 12 فیصد اضافے سے 112 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔اس کے علاوہ برینٹ خام تیل 8 فیصد بڑھ کر 109 ڈالر پر ٹریڈ ہوتا دکھائی دیا۔ دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا ہنڈریڈ انڈیکس 1612 پوائنٹس کم ہوکر ایک لاکھ 50 ہزار 398 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ہانگ کانگ ہینگ سینگ انڈیکس میں صفر اعشاریہ 7 فیصد کمی آئی جبکہ شنگھائی انڈیکس ایک فیصد گرا۔ اس کے برعکس جاپان کے نکئی انڈیکس میں 1.26 فیصد اور کورین کاسپی میں ڈھائی فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا جبکہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ بھی مثبت رہی ۔اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے سے روزانہ سفرکرنے والےشہری شدید متاثر ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی جینا مشکل کر رکھا ہے ، حکمرانوں کو سوچنا چاہیے عوام کو کیا سہولت دے رہے ہیں ,سوشل میڈیا پوسٹس میں کہیں صارفین سائیکلوں کی واپسی کا اعلان کررہے ہیں ، تو کہیں گھوڑا گاڑی کو ’’نئی لگژری ٹرانسپورٹ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔