LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ”سفارتی پل” کا کردار ..؟

اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی حالیہ پیش رفت میں پاکستان کا کردار ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔مجموعی طور پر، پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں جنگ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
امریکا اسرائیل ایران جنگ کا مستقبل کیا ہے؟ اس کا پتا 2 اپریل سے 8 سے 12 اپریل کے درمیان چلے گا۔ پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے،اس حوالے سے مثبت پیغامات کا تبادلہ ہواہے, جلد ڈیل ہوسکتی ہے، وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کےلیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ کشیدگی سے قیمتی جانوں، معیشت اور املاک کا نقصان ہورہا ہے۔ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے وزیرِاعظم ہاؤس میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی ملاقات میں موجود تھے۔وزیراعظم نے معزز مہمانوں کو پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہ کیا، وزیراعظم نے رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے طیب اردوان،عبدالفتاح السیسی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔وزرائے خارجہ نے وزیرِاعظم کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال پر اپنے اپنے ممالک کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اگر ایران اور امریکا آمادہ ہوں تو مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرنا پاکستان کیلئے باعثِ اعزاز ہوگا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ رابطوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان 15 نکات پر مشتمل ایک معاہدہ طے پا چکا ہے، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔قبل ازیں اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کی اہم ملاقات ہو سکتی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں بھی سرگرم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ امریکی ایلچی کے مطابق، ایران کی جانب سے ایک 15 نکاتی ایکشن لسٹ پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو سفارتی کوششوں کی کامیابی کا اشارہ ہے, پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کو مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے, انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات وسیع امور پر محیط ہوں گے جہاں کچھ رپورٹس میں پیش رفت کا ذکر ہے، وہیں پاکستانی دارالحکومت میں مقیم ایرانی سفیر نے بعض مواقع پر براہِ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں پر سوالات بھی اٹھائے ہیں, پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی بعض خبروں کو “غیر ضروری قیاس آرائیاں” قرار دیتے ہوئے محتاط رہنے کی تلقین کی ہےاس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتکاروں کےذریعےبالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہےامریکی صدر ٹرمپ نے برطانوی اخبارسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے تیل کو قبضے میں لے سکتا ہے، امریکا خارگ جزیرے پر قبضہ کرسکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے کئی پاکستانی پرچم بردار جہاروں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی، آبنائے ہرمز سے گزرنے والےجہازوں کی تعداد 20 ہوگئی۔ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ۔نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈار نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پر اپنے پیغام میں کہا مشرقِ وسطیٰ تنازع ،امن مذاکرات کےحوالے سے میڈیا میں غیرضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں،حقیقت میں امریکہ اور ایران کےدرمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کے تبادلے سے جاری ہیں۔مزید لکھا کہ اس تناظرمیں امریکہ نے 15 نکات شیئر کیے ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے،برادر ممالک ترکی اورمصرسمیت دیگربھی اس اقدام میں اپنی حمایت فراہم کر رہے ہیں،پاکستان امن کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے،پاکستان خطے سمیت دنیا بھرمیں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہے،مذاکرات اورسفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں،وزیرخارجہ اسحاق ڈار نےپوسٹ مارکو روبیو، اسٹیووٹکوف اور عباس عراقچی کو ٹیگ کر دی۔
جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے امریکا کی ایران جنگ کو تباہ کن سیاسی غلطی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ برلن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس سے با آسانی بچا جا سکتا تھا۔ اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو یہ غیر ضروری جنگ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ کابینہ اجلاس میں کہا کہ اگرچہ یہ جنگ اسرائیل کی جنگ ہے لیکن اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔امریکا کئی دہائیوں سے اپنے مفادات کے تحفظ کے نام پر دُنیا کے نقشے بدلنے کی کوشش کرتا رہا ہے، صدیوں سے سپر پاورز کرہ ارض پر اپنی مرضی سے تبدیلی لاتی رہی ہیں، ایران جسے امریکا بارہا بدلنا چاہتا رہا، کبھی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے، کبھی اقتصادی پابندیوں سے اور کبھی اسرائیل جیسے حلیفوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر، لیکن ایران کبھی بھی نرم موم نہیں تھا؟ 1953 میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ گرا کر امریکا نے تاریخ کی ایک تلخ مثال قائم کی تھی، مگر اب کئی عشروں میں نہ صرف ایرانی عوام نے شعور کی آنکھ کھول لی ہے بلکہ امریکی چالوں کو بھی خوب پہچاننا بھی سیکھ لیا ہے۔ حالیہ اسرائیلی جارحیت کے دوران امریکا نے ایک بار پھر پرانی بساط بچھانے کی کوشش کی، لیکن اب تک کچھ ہاتھ نہیں آسکا۔اکتوبر1951 میں تہران میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق نے پارلیمنٹ کے باہر برطانیہ کے خلاف مظاہرین سے خطاب کیا تو عوام نے بھی “برطانیہ مردہ باد” کا پرجوش نعرہ لگا دیا، لیکن محض دو سال بعد یعنی 19 اگست 1953 میں خفیہ “آپریشن ایجیکس” کے ذریعے اُن کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ محمد مصدق نے آئل انڈسٹری کو قومیانے کی کوشش کی تھی جو اس وقت برطانوی اینگلو۔ایرانین آئل کمپنی کے کنٹرول میں تھی۔ یہ فیصلہ ایران میں تو بے حد مقبول تھا، لیکن مغربی طاقتیں ناراض ہو گئیں۔ اس آپریشن کی نگرانی اور سرپرستی امریکا اور برطانیہ نے کی تھی۔ یہ واقعہ 1979 میں انقلاب ایران سے پہلے پیش آیا تھا۔ بعد میں شاہ محمد رضا پہلوی جلاوطنی سے لوٹ آئے۔ 11 فروری 1979 کو ایران میں اسلامی انقلاب آیا جس کی قیادت سید روح‌ اللہ موسوی خمینی نے کی۔ 1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد علی خامنہ ای ایران کے دوسرے سپریم لیڈر بنےپھر 13 جون 2025 آیا جب اسرائیل نے بلااشتعال ایران پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے ساتھ ہی 72 سال بعد دوبارہ ایران میں رجیم چینج کی گونج سنائی دی۔ایران میں رجیم چینج کا پہلا اشارہ 17 جون 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ٹویٹ سے ملا جس میں انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو “آسان ہدف” قرار دیا۔22 جون کو دوبارہ صدر ٹرمپ نے مخصوص لہجے میں کہا،”بہت سے اہداف باقی ہیں”امن جلد نہیں قائم ہوا تو ہم درستگی، رفتار اور مہارت کے ساتھ ان دوسرے اہداف تک جائیں گے”۔یہ وارننگ “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کی تکمیل کےبعد سامنے آئی تھی۔ اس مشن کے لئے امریکا کے بی 2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے رات 12 بجے وائٹمین فضائی اڈے سے اڑان بھری، 18 گھنٹے طویل پرواز کر کے ایران میں داخل ہوئے اور بمباری کر کے واپس چلے گئے، تاہم دنیا کو اس کی خبر تک نہ ہو سکی۔ آواز کی رفتار سے قدرے کم رفتار پر پرواز کی صلاحیت رکھنے والے طیارے بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے اڑے جن میں طاقتور بنکر شکن بم نصب تھے جو زیرِ زمین 18 میٹر گہرائی تک تباہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایران پہنچ کر ان طیاروں نے فردو، نطنز اوراصفہان پر بنکر بسٹربم برسائے۔ فردو پر30 ٹن دھماکا خیزمواد گرایا گیا۔ 30 ٹاما ہاک میزائلوں کا استعمال بھی کیا گیا جنہیں 400 میل دور سے داغا گیا۔ ایران نے بھی فوردو سمیت تین ایٹمی تنصیبات پر حملے کی تصدیق کی,ایران اسرائیل جنگ میں اگرچہ امریکی حکومت نے بھی کافی کیلکولیشن کی، لیکن مبصرین نے کسی بھی موقع پر رجیم چینج کے آئیڈیا کو میچور نہیں سمجھا اور زمینی حملے تک ایرانی حکومت گرنے کے امکانات رد کرتے رہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران ایک مضبوط نظریاتی ملک ہے۔ وہاں کوئی مضبوط اپوزیشن بھی نہیں کہ جس پر امریکا یا یورپ اعتماد کر کے اس تصوراتی آئیڈیا کو آگے بڑھا سکیں۔ امریکا یا یورپ میں اٹھتی رجیم چینج کی آوازیں محض حالیہ واقعات تک محدود نہیں تھیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں اور آج بھی “نظام کی تبدیلی” کا خوف، بیانات اور حملے اسی تاریخ کی گونج محسوس ہوتے ہیں۔ مغربی تجزیہ کار ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کو حکومت گرانے کی سازش سمجھتے رہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی غیر معمولی مزاحمت اور پھر امریکی حملے کے بھرپور جواب سے امریکا اور اسرائیل بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ اس ایشو پر یک زبان نہ ہونا بھی امریکی انتظامیہ میں یکسو نہ ہونے کا اشارہ تھا۔ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رجیم چینج کی گونج محض توجہ ہٹانے کیلئے ہے اور درحقیقت امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس جھوٹا پروپیگنڈے، جھوٹے الزامات اور افرا تفری پھیلانے کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔یادرہےکہ ترک صدر نے کہا ہےکہ علاقائی امن اور انسانیت کی خاطر نیتن یاہو کی قیادت میں قتل عام کے نیٹ ورک کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ جس کے لیے ہر ملک کو دلیرانہ فعال موقف اختیار کرنا چاہیے۔ دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پز شکیان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے عوام کی بیداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان، ترکی، عراق، لبنان ، مصر اور عرب ممالک کے عوام امریکا ، اسرائیل اور ان کے جرائم کے خلاف ببانگ دہل نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ایک امریکی پروفیسر کاکہناہےکہ امریکا 1971سے لے کر 2021 تک 3 کروڑ 80 لاکھ انسانوں کو قتل کر چکا ہے۔ اس سے پہلے امریکا اپنے قیام سے لے کر اب تک مجموعی طور پر کروڑوں افراد کو قتل کر چکا ہے۔ ویت نام کی جنگ میں امریکا نے 33 لاکھ ویت نامیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے اور اس کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کا قتل عام اپنی جگہ ہے۔ غزہ میں امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے 80 ہزار سے زائد بے گناہ انسانوں کو قتل کیا جس میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔ امریکی سرپرستی میں آٹھ لاکھ انسان خلیج کی جنگ کا ایندھن بنے۔سال 2025 امریکی صدر ٹرمپ کے بغیر کبھی اتنا ہنگامہ خیز نہ ہوتا ، جنوری میں اپنے دوسرے دور کے آغاز کے ساتھ ہی ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف جنگ شروع کرنے، ملک میں پروٹیکشنزم کی پالیسی، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد میں ملک بدری اور وفاقی حکومت کے کئی محکموں کی دوبارہ تشکیل پر کام شروع کیاتھا۔ ان سب کارناموں کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے دنیا میں جنگیں رکوانے کا فریضہ بھی انجام دیا تھاجس میں سب سے نمایاں اقدام پاک بھارت جنگ کو رکوانا اور غزہ میں جنگ بندی تھا جبکہ ایران اسرائیل جنگ میں بھی امریکی صدر کا کردار نہایت اہم رہا تھاجبکہ اس جنگ کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان قربتیں شدید بڑھیں کیونکہ پاکستان نے کھل کر عالمی سطح پر سفارتی محاذ پر اپنے برادر ملک ایران کی حمایت کی تھی۔امریکہ صدر کے دباؤ پر اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی عمل میں آئی، جس سے اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔اس دوران غزہ میں انسانی امداد کا سلسلہ بڑھا جہاں 70 ہزار کے قریب فلسطینی شہریوں کو اسرائیل نے شہید کیا جن میں بیشتر تعداد بچوں کی شامل ہے۔فائر بندی معاہدے کے بعد بھی اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں غزہ پر کئی فضائی حملے کیے اور خطے میں کشیدگی برقرار رہی۔روس کے 2022 میں حملے کے بعد یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔صدر ٹرمپ نے مختلف مواقع پر یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی مگر مذاکرات ناکام رہے۔امریکی جریدے ٹائم کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور سائنسدانوں پر حملوں کے باوجود تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران اب مزید پرعزم ہو کر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ اختیار کر سکتا ہے تا کہ وہ اپنے وجود کو محفوظ بنا سکے۔ امریکی سامراج کی غنڈہ گردی نے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی ایسا ہی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اپنی آزادی خودمختاری اور بقا کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا ناگزیر ہے۔وینزویلا کی مثال سامنے ہے جب صدر اور ان کی بیوی کو امریکا نے اغوا کیا کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ صاحب فرماتے تھے کہ وینزویلا کا 80 فیصد تیل میں اپنی مرضی سے فروخت کرونگا جب کہ وینز ویلا کے پاس دنیا کے بہت بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ایرانی سلامتی کونسل کے ترجمان نے یہ بیان دیا کہ ہم این پی ٹی سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ اس میں شمولیت سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی ہوا ہے۔ خلیجی ملکوں میں تئیس امریکی فوجی اڈے ہیں جہاں امریکا اسرائیل کے بیک وقت 600 طیارے دن رات حملہ کرتے رہے ہیں۔امریکا اسرائیل ایران جنگ پر پوری دنیا میں تجزیہ اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ العربیہ ٹی وی کے پروگرام کی خاتون میزبان جس میں امریکی مصنف اور سینئر نیشنل سیکیورٹی ایڈیٹر برانڈن نے بتایا کہ اسرائیل اپنے ایرو انٹر سیپٹر ختم ہونے سے محض چند دن کے فاصلے پر ہے۔ برانڈن نے کہا کہ ایران نے ایک شاندار حکمت عملی دکھائی ہے۔ امریکا اسرائیل کو اتنا تھکا دینا کہ ان کے ذخائر ختم ہو جائیں اور امریکا داخلی، سیاسی، معاشی دباؤ کے تحت گھٹنے ٹیک دے۔حالات واقعی خراب ہو رہے ہیں اسرائیل محض چند دنوں کے فاصلے پر ہے اپنے انٹرو سیپٹر ختم کرنے میں اور امریکا نے بھی اپنے تھاڈ ذخائر کا چالیس فیصد استعمال کر لیا ہے اور صرف تین ہفتے کا اسٹاک باقی ہے۔ اگر جنگ کی رفتار بڑھی تو یہ مزید جلد ختم ہو جائیں گے۔ایرانی حکمت عملی دھیرے دھیرے تھکا دینا شروع سے ہی تھی۔ اور ہم نے ان کے میزائل ذخائر کو قلیل اور کم سمجھا تھا ۔ جس کی قیمت اب ادا کر رہے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ نہ ٹرمپ نہ ایران نہ اسرائیل کوئی بھی سنجیدہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں۔ لہذا ہم مزید خطرناک سطح پر جا رہے ہیں اور شائد امریکا کو آبنائے ہرمز میں ’’گیلی پولی‘‘ جیسا منظر دوبارہ دیکھنا پڑے۔ یہ اچھا انجام نہیں ہوگا۔ چند دن پیشتر امریکا میں ڈھائی لاکھ افراد نے صدر ٹرمپ کی امپیچمنٹ کا مطالبہ کیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں حالیہ برسوں میں ہونیوالی تبدیلیاں اس اثر کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔ ماضی میں 2008 اور 2022 میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے نے پاکستان کی معیشت کو سخت متاثر کیا تھا، جس سے مہنگائی میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا لیکن اب توانائی کے ذرائع میں تنوع کے باعث صورتحال نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اب مجموعی بجلی کے استعمال کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان نے تیل اور گیس کی درآمدات میں نمایاں کمی کی ہے اور اربوں ڈالر کی بچت ممکن بنائی ہے۔ اسی طرح فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کا حصہ گزشتہ دہائی میں تقریباً 35 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے، جبکہ ایل این جی کا استعمال بڑھا ہے۔ مجموعی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے۔ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم بڑے منصوبوں میں تاخیر کے باعث اس شعبے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کی جا سکی۔ تھر کول منصوبے کے تحت مقامی کوئلے کا استعمال بڑھا ہے، جو اب بجلی پیداوار میں 11 فیصد سے زائد حصہ ڈال رہا ہے اور مستقبل میں کھاد کی تیاری کیلیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ نیوکلیئر توانائی بھی پاکستان کیلیے مستحکم ذریعہ بن کر ابھری ہے، جس کا حصہ 2015 میں 5 فیصد سے کم ہونے کے مقابلے میں اب 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس کے باوجود، توانائی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تیل پر انحصاراورتوانائی کے مؤثر استعمال میں کمی جیسے مساء ل بدستور موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ جنگ کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو شدت دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 102.56 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔ صرف ایک ماہ کے دوران برینٹ میں 59 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔ ان حملوں کے بعد عالمی شپنگ روٹس اور تیل کی ترسیل شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کا رخ تبدیل کرتے ہوئے ینبع پورٹ کے ذریعے یومیہ 46 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے تاہم اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوا تو سپلائی مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ ادھر عمان کے سلالہ ٹرمینل کو بھی حملوں میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں، جنگ کی آگ بجھانے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار گزشتہ روز پاکستان میں ملاقات کی۔ چاروں وزرائے خارجہ نے خطے میں جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے لیے اقدامات پر بات چیت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر شدید انداز میں مرتب ہوں گے۔

X