LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) وزیرِ اعظم کی کفایت شعاری مہم اورعید کا تہوار

اسلام آباد (سہ پہر) عید کو کفایت شعاری سے منانا نہ صرف انفرادی بچت کا باعث ہے بلکہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہےعید کا تہوار خوشیوں اور معاشرتی میل جول کا نام ہے، لیکن موجودہ معاشی حالات میں کفایت شعاری اور سادگی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہےشہری عام طریقوں سے کفایت شعاری کے ساتھ عید منا سکتے ہیں عید کے دسترخوان پر انواع و اقسام کے مہنگے پکوانوں کے بجائے سادہ اور روایتی پکوان تیار کریں اور اسراف سے بچیں,حکومتِ پاکستان نے بھی حالیہ معاشی پالیسیوں کے تحت سرکاری سطح پر کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا ہے، جس میں تقریبات کی منسوخی اور غیر ضروری اخراجات میں کمی شامل ہے .عید پر نئے کپڑوں اور جوتوں کے بجائے موجودہ وسائل میں رہ کر سادگی کو ترجیح دیں تاکہ بچت ممکن ہو۔غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ایندھن کی بچت مہم میں اپنا حصہ ڈالیں , اپنی خوشیوں میں غریبوں اور ضرورت مندوں کو شامل کرنا عید کی اصل روح ہے، جس سے معاشرے میں یکجہتی کا جذبہ پیدا ہوتا ہےخاندانی تقریبات کو محدود اور سادہ رکھیں تاکہ مالی بوجھ کم ہو۔ حکومت نے عوامی سہولت کے لیے ٹریفک پولیس کو ہدایت کی ہے کہ عید تک معمولی خلاف ورزیوں پر چالان نہ کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ کفایت شعاری کا مطلب ہے “میانہ روی” یعنی فضول خرچی اور کنجوسی کے درمیان کا راستہ اختیار کرنا۔اسلام میں بھی کفایت شعاری کی بہت اہمیت ہے؛ قرآن پاک میں فضول خرچی کرنے والوں کو “شیطان کا بھائی” کہا گیا ہے جبکہ میانہ روی اختیار کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے۔ اسے عام زندگی میں اپنانے کے چند سادہ طریقوں میں اپنی آمدنی اور اخراجات کا حساب رکھناتاکہ معلوم ہو کہ پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے سوچیں کہ کیا یہ واقعی “ضرورت” ہے یا محض ایک “خواہش”ہے چھوٹی رقم ہی سہی، لیکن ہر ماہ مستقل بچت , کھانے پینے، پہناوے اور تقریبات میں دکھاوے سے پرہیز , بجلی، پانی اور گیس کا ضیاع روکنا بھی کفایت شعاری ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اخراجات میں بھاری کٹوتی اور بچت شدہ رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے درجہ بہ درجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے موجود ہیں وہ حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائےگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کے فیصلے کی تصدیق کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا۔ تاہم، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار چھٹیوں کے اصول کا اطلاق نہیں ہوگا۔ کابینہ ارکان، وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کی اگلے دو ماہ کی تنخواہیں عوامی فلاح کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ ساتھ ہی وزرا اور سرکاری افسران کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نئی سرکاری گاڑیوں اور ہر قسم کی سرکاری خریداریوں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ وزیراعظم نے دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ 23 مارچ کی تقریبات کو انتہائی سادگی سے منایا جائے۔ ان اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہوں گے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت ہر سطح پر سادگی اپنا کر عوام پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اجلاس میں وفاقی وزرا عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، بلال اظہر کیانی اور ایف بی آر چیئرمین شریک ہوئے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ جنگی حالات میں کٹوتی فیصلے سے قبل سادگی اختیار کرنے کا بیان دیا تھا تاکہ غریبوں کی مشکلات کم کی جائیں۔ وزیر اعظم نے حکومتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں دو ماہ کے لیے بچت کے لیے پٹرول اخراجات میں کٹوتی، گاڑیاں کم کرنے، تنخواہوں میں کچھ کمی جیسے اعلانات کیے تھے جس کے بعد پنجاب اور سندھ حکومت نے بھی کفایت شعاری کے اعلانات کیے مگر پی ٹی آئی کی کے پی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں 65 روپے اضافے کے بعد کے پی کے نوجوانوں کو جو موٹرسائیکلیں استعمال کرتے ہیں 22 سو روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا مگر یہ نہیں بتایا تھا ۔ پی ٹی آئی حکومت میں جب پٹرول مہنگا ہوتا تھا تو پارٹی کے جذباتی نوجوان میڈیا پر بیان دیتے تھے کہ ہم پانچ سو روپے لیٹر بھی پٹرول خریدیں گےپنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کفایت شعاری مہم کے تحت متعدد اقدامات کا اعلان کیا اور خود اسپیکر نے اپنی تنخواہ سرکاری پٹرول سمیت تمام سرکاری مراعات ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور سرکاری الاؤنسز میں آئندہ دو ماہ کے لیے 25 فی صد کمی اور پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کی 70 فی صد سرکاری گاڑیاں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ قابل ستائش ضرور ہے مگر تمام گورنروں اور سب سے زیادہ سرکاری تنخواہیں اور مراعات لینے والے ججز کو بھی اس نازک وقت میں سادگی اور کفایت شعاری کی مہم کا حصہ بننا چاہیے رپورٹ کے مطابق ایوان صدر اور وزیر اعظم کے سرکاری اخراجات میں 60 فی صد اضافے کا بتایا گیا تھا مگر ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس و پی ایم سیکریٹریٹ، گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کی طرف سے کفایت شعاری مہم کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔یہ منتخب ہونے کے لیے اپنی انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کرکے منتخب ہونے کی مالیت حیثیت رکھتے ہیں ، جب کہ سینیٹروں کو منتخب ہونے کے لیے واقعی بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے مگر وہ اکثریت میں نہیں ہیں اور ارکان اسمبلی کی ملی بھگت سے منتخب ہو جاتے ہیں۔سینیٹروں اور ارکان اسمبلی میں وہ تمام اربوں نہیں تو کروڑوں پتی ضرور ہیں اور ان میں کوئی بھی مرحوم عبدالستار ایدھی نہیں جو وفاقی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی سے اسلام آباد بس سے جایا کرتے تھے اور ایدھی ٹرسٹ کی گاڑی بھی استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔پاکستان میں سرکاری عہدے بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات کے حصول کے لیے سیاسی طور پر لیے جاتے ہیں۔ ملک کی بیورو کریسی تو ہر دور میں شاہی رہی ہے اعلیٰ سرکاری افسران تو بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات اور سہولیات کے حامل رہے ہیں جو بڑی بڑی سرکاری رہائش گاہوں، سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول، مفت میں ملنے والی گیس و بجلی اور خادمین کی سہولیات رکھتے ہیں اور موجودہ حالات میں کسی سرکاری افسران نے تنخواہ تو کیا سرکاری مراعات ترک کرنے کا بھی فیصلہ نہیں کیا
کفایت شعاری اور بچت مہم عارضی اور صرف دو ماہ کے لیے ہے۔ اس مہم میں شامل حکام کو چاہیے کہ وہ کفایت شعاری اور بچت مہم کو مستقل بنائیں کیونکہ جب وہ یہ عارضی قربانی دے سکتے ہیں تو اربوں کھربوں ڈالر مقروض اپنے ملک کے لیے مستقل طور پر بھی کفایت شعاری اور بچت کرسکتے ہیں۔ یہ قربانی سیاسی و سرکاری عہدیداروں کو بھی دینا چاہیے کیونکہ یہ ملک ان کا بھی ہے صرف غریبوں اور متوسط طبقے کا نہیں ہے جو قربانی کے مستقل بکرے بنے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی شہریتیں، اپنے گھر، مال، اولاد ملک سے باہر رکھنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد خود بھی باہر منتقل ہونے کا منصوبہ رکھنے والوں کو بھی اس ملک کو کچھ ضرور دینا چاہیے کیونکہ ملک نے ہی انھیں سب کچھ دے رکھا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ جنگی حالات میں کٹوتی فیصلے سے قبل سادگی اختیار کرنے کا بیان دیا تھا تاکہ غریبوں کی مشکلات کم کی جائیں۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بین الاقوامی سطح پر حالیہ کشیدگی کی وجہ سے ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم کو عالمی سطح پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پاکستان کی معیشت، بالخصوص توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات کا نفاذ ناگزیر ہے حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی معیشت کو ہر ممکن استحکام فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حالیہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے جن سے عوام کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، وفاقی و صوبائی سطح پر تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ واضح کیا کہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنی ہوگی۔ کہا کہ موجودہ مشکل وقت میں قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے اور جیسے ہی یہ مشکل مرحلہ گزرے گا اور معیشت مزید مستحکم ہوگی، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کفایت شعاری، سادگی اور بچت کے حوالے سے ہدایات صنعت اور زرعی شعبے پر لاگو نہیں ہوں گی تاکہ ملکی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہو۔ بچت اور کفایت شعاری کا بوجھ منصفانہ طور پر سب کو برداشت کرنا چاہیے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کے مراعات یافتہ اور اشرافیہ طبقات کو ضروری ایڈجسٹمنٹس برداشت کرنے میں خود مثال قائم کرنی چاہیے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ملکی معیشت میں استحکام کے لیے کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی متعدد تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیابریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیزل، پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پیشگی انتظامات کر رکھے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے استعمال میں دانشمندانہ انتظام اور ایندھن کے محتاط استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا گیاپاکستان اپنی تیل کی 80 فیصد سے زائد ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ جولائی 2025 اور فروری 2026 کے درمیان، اس کی تیل کی درآمدات کل 10.71 بلین ڈالر تھیں، جب کہ 2024 میں کل کیلنڈر سال 15 بلین ڈالر سے زیادہ تھی۔ حالیہ توانائی کے بحران نے ملک کی تاریخ میں ایندھن کی قیمتوں میں سب سے بڑا اضافہ شروع کر دیا ہے، جس میں پٹرول کی قیمت 1.15 ڈالر فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 1.20 ڈالر فی لیٹر ہو گئی ہے جو کہ گزشتہ ہفتے سے 20 فیصد اضافہ ہے۔ عالمی بینک کے سابق چیف ایگزیکٹیو نے کہا کہ حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات مختصر مدت میں کام کر سکتے ہیں، لیکن وہ ایندھن کی طلب کے بنیادی محرک کو بڑی حد تک بے توجہ چھوڑ دیتے ہیں۔ “ٹرانسپورٹ پٹرولیم کی کھپت پر حاوی ہے۔” “تقریباً 80 فیصد پٹرولیم مصنوعات نقل و حمل میں استعمال ہوتی ہیں، یعنی ملک کا تیل پر انحصار بنیادی طور پر نقل و حرکت کا مسئلہ ہے۔ تنخواہوں میں کٹوتی یا پروکیورمنٹ منجمد کرنے جیسے اقدامات بنیادی طور پر عوامی مالیات کو متاثر کرتے ہیں اور قومی ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کے لیے بہت کم کام کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ مزید کارگو کو سڑکوں سے ریل کی طرف منتقل کرکے مال برداری کی رسد کو بہتر بنانے سے بہتر اثر ہو سکتا ہے۔ عالمی منڈی میں اپنی کرنسی کی قدر کے پیش نظر پاکستان خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے “سب سے بڑا خطرہ صرف تیل کی قیمتوں سے نہیں آتا۔ حقیقی معاشی محرک کرنسی کی قدر میں کمی ہے، جو ملکی افراط زر پر تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات کو بڑھاتی ہے،” انہوں نے کہا۔ ایک طویل مدتی حل نقل و حمل کی ضروریات کے لیے زیادہ برقی طاقت کا استعمال، ڈیزل پر صنعتوں کے انحصار کو کم کرنے اور قابل تجدید توانائی کو پھیلانے میں مضمر ہے۔ ان ساختی تبدیلیوں کے بغیر، توانائی کے ہر عالمی جھٹکے سے پاکستان کی معیشت کو خطرہ لاحق رہے گا۔” پاکستان کی کمزوری قدرتی گیس تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ ملکی ذخائر میں کمی کے بعد یہ 2015 سے مائع قدرتی گیس (LNG) درآمد کر رہا ہے۔ ایل این جی اب پاکستان کی بجلی کی فراہمی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بناتی ہے، جس میں پاور سیکٹر سب سے بڑا صارف ہے۔ قطر پاکستان کا بنیادی ایل این جی فراہم کنندہ ہے، اور اس کا کارگو آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ایران کے جوابی حملوں نے پورے مشرق وسطی میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، بشمول آبنائے سے گزرنے والی تیل کی آمدورفت۔ پاکستان میں ایندھن کا بحران رمضان کے آخری دنوں میں اس وقت پیدا ہوا، جب خاندان عید الفطر کی چھٹیوں کی تیاری کر رہے ہیں، جو مسلمانوں کا سب سے اہم تہوار ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتوں نے پہلے ہی ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور گروسری کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر ایسے وقت میں دباؤ پڑتا ہے جب عام طور پر اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ ۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارتِ آئی ٹی سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے طلب اور رسد کی مستقل نگرانی کے نظام کی سہولت فراہم کرے گی تاکہ متعلقہ ادارے بروقت فیصلے کر سکیں۔چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے بھی حالیہ عالمی کشیدگی کے پیش نظر صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال اور انتظامی تیاریوں کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے حکومتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں دو ماہ کے لیے بچت کے لیے پٹرول اخراجات میں کٹوتی، گاڑیاں کم کرنے، تنخواہوں میں کچھ کمی جیسے اعلانات کیے تھے وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ کہا کہ بحران کے پیشِ نظر ہفتے میں چار دن دفاتر کھلے گئے ورک فرام ہوم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فوری طور پر تمام سکولوں میں دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جا رہی ہیں، 50 فیصد ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے اور آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں میں 50 فیصد فی الفور کٹوتی کی جا رہی ہے۔پاکستانی کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے، پاکستان معاملات سفارت کاری کے ذریعے حل کرانے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں متاثرہ ممالک کے ساتھ ہے، عالمی سطح پر ہونے والے نقصانات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ وقت آ گیا ہے اشرافیہ آگے بڑھے، صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھیں، آئندہ دو ماہ کے لیے 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے، آئندہ دو ماہ کے لیے وزرا، مشیران، معاونین خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے، ارکان پارلیمنٹ کی 25 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔ سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنڈ دیگر اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینار ہوٹلوں کے بجائے سرکاری دفاتر میں منعقد ہوں گے۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ مفاد پرست عناصر، ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں موجودہ صورتِ حال سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، دنیا میں نئے اتحاد بن رہے ہیں، اس نازک ترین موڑ پر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر اتحاد، قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے، رمضان المبارک کا مبارک مہینہ صبر، اخوت، ایثار، قربانی کا درس دیتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک مضبوط اور باوقار قوم وہ ہوتی ہے جومشکل کی گھڑی میں باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد سے پاکستان میں معاشی حالات مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔جس کے بعد پنجاب اور سندھ حکومت نے بھی کفایت شعاری کے اعلانات کیے مگر پی ٹی آئی کی کے پی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں 65 روپے اضافے کے بعد کے پی کے نوجوانوں کو جو موٹرسائیکلیں استعمال کرتے ہیں 22 سو روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا مگر یہ نہیں بتایا تھا ۔ پی ٹی آئی حکومت میں جب پٹرول مہنگا ہوتا تھا تو پارٹی کے جذباتی نوجوان میڈیا پر بیان دیتے تھے کہ ہم پانچ سو روپے لیٹر بھی پٹرول خریدیں گےپنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کفایت شعاری مہم کے تحت متعدد اقدامات کا اعلان کیا اور خود اسپیکر نے اپنی تنخواہ سرکاری پٹرول سمیت تمام سرکاری مراعات ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور سرکاری الاؤنسز میں آئندہ دو ماہ کے لیے 25 فی صد کمی اور پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کی 70 فی صد سرکاری گاڑیاں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ قابل ستائش ضرور ہے مگر تمام گورنروں اور سب سے زیادہ سرکاری تنخواہیں اور مراعات لینے والے ججز کو بھی اس نازک وقت میں سادگی اور کفایت شعاری کی مہم کا حصہ بننا چاہیے رپورٹ کے مطابق ایوان صدر اور وزیر اعظم کے سرکاری اخراجات میں 60 فی صد اضافے کا بتایا گیا تھا مگر ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس و پی ایم سیکریٹریٹ، گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کی طرف سے کفایت شعاری مہم کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔یہ منتخب ہونے کے لیے اپنی انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کرکے منتخب ہونے کی مالیت حیثیت رکھتے ہیں ، جب کہ سینیٹروں کو منتخب ہونے کے لیے واقعی بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے مگر وہ اکثریت میں نہیں ہیں اور ارکان اسمبلی کی ملی بھگت سے منتخب ہو جاتے ہیں۔سینیٹروں اور ارکان اسمبلی میں وہ تمام اربوں نہیں تو کروڑوں پتی ضرور ہیں اور ان میں کوئی بھی مرحوم عبدالستار ایدھی نہیں جو وفاقی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی سے اسلام آباد بس سے جایا کرتے تھے اور ایدھی ٹرسٹ کی گاڑی بھی استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔پاکستان میں سرکاری عہدے بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات کے حصول کے لیے سیاسی طور پر لیے جاتے ہیں۔ ملک کی بیورو کریسی تو ہر دور میں شاہی رہی ہے اعلیٰ سرکاری افسران تو بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات اور سہولیات کے حامل رہے ہیں جو بڑی بڑی سرکاری رہائش گاہوں، سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول، مفت میں ملنے والی گیس و بجلی اور خادمین کی سہولیات رکھتے ہیں اور موجودہ حالات میں کسی سرکاری افسران نے تنخواہ تو کیا سرکاری مراعات ترک کرنے کا بھی فیصلہ نہیں کیا
کفایت شعاری اور بچت مہم عارضی اور صرف دو ماہ کے لیے ہے۔ اس مہم میں شامل حکام کو چاہیے کہ وہ کفایت شعاری اور بچت مہم کو مستقل بنائیں کیونکہ جب وہ یہ عارضی قربانی دے سکتے ہیں تو اربوں کھربوں ڈالر مقروض اپنے ملک کے لیے مستقل طور پر بھی کفایت شعاری اور بچت کرسکتے ہیں۔ یہ قربانی سیاسی و سرکاری عہدیداروں کو بھی دینا چاہیے کیونکہ یہ ملک ان کا بھی ہے صرف غریبوں اور متوسط طبقے کا نہیں ہے جو قربانی کے مستقل بکرے بنے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی شہریتیں، اپنے گھر، مال، اولاد ملک سے باہر رکھنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد خود بھی باہر منتقل ہونے کا منصوبہ رکھنے والوں کو بھی اس ملک کو کچھ ضرور دینا چاہیے کیونکہ ملک نے ہی انھیں سب کچھ دے رکھا ہے۔حکومت نے ملک بھر میں جاری کفایت شعاری مہم کے تحت شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں نئے ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اب ہر تقریب میں ’ ون ڈش’ کا اصول لازمی ہوگا اور مہمانوں کی تعداد 200 سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان قواعد پر سختی سے عملدرآمد کروائے
مزید برآں، کھانے میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے ہال مالکان اور منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تقریبات کو مقررہ وقت پر ختم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا تاکہ بجلی کی بچت ممکن ہو سکے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شادی ہالز، فارم ہاؤسز اور ہوٹلوں کی اچانک چیکنگ کریں اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ہالز کو سیل کرنے کی کارروائی بھی عمل میں لائیں۔واضح رہے کہ پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے شادی بیاہ اور بڑی تقریبات میں وسائل کی ضیاع اور غیر ضروری اخراجات ایک سنجیدہ مسئلہ بن گئے ہیں۔ گزشتہ سال بھی حکومت نے شادیوں میں بڑے ضیافتوں اور اضافی کھانے پر پابندیاں عائد کی تھیں، تاکہ توانائی اور مالی وسائل کی بچت کی جا سکے۔ ” ون ڈش” کی پالیسی کا مقصد خاص طور پر یہ ہے کہ گھریلو سطح پر مالی بوجھ کم کیا جائے اور زیادہ کھانے اور ضیاع کی روک تھام تھا۔ شادی ہالز اور فارم ہاؤسز کے منتظمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس نئے اصول پر سختی سے عمل کریں اور اپنی تقریبات کی منصوبہ بندی اسی کے مطابق کریں۔ حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ کفایت شعاری مہم کے تحت کیے جانے والے اقدامات قومی مفاد اور وسائل کی بچت کے لیے ضروری ہیں۔وزیراعظم کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت یوم پاکستان استقبالیہ تقریبات منسوخ کرتے ہوئے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں تقریبات محدود رکھنے کا اعلان کردیا گیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف کی کفایت شعاری پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر یومِ پاکستان (23 مارچ) کی استقبالیہ تقریبات منسوخ کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس سال بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سفارتخانوں میں یومِ پاکستان پر روایتی استقبالیہ تقریبات منعقد نہیں کی جائیں گی اور پاکستانی مشنز میں تقریبات کو انتہائی محدود رکھا جائے گا اور صرف پرچم کشائی کی سادہ تقاریب منعقد ہوں گی۔ اسحاق ڈار نے اس فیصلے کی دو بڑی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اخراجات میں کمی کے پلان کے تحت سرکاری سطح پر بچت کو یقینی بنانا اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار اور متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔ اسحاق ڈار نے خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کو فروغ دیا جائے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔اس ضمن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم کی معاشی کفایت شعاری کی ہدایات اور مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات کے دوران ہونے والے انسانی نقصان کے تناظر میں ممالک اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر کیا گیا ہے۔اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جلد بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے امن، استحکام اور خوشحالی قائم ہوگی اور پاکستان پوری دنیا کے ساتھ امن اور ترقی کے سفر میں شریک رہے گا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بوجھ کو ممکنہ حد تک کم رکھا جائے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق قائم کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں ذخائر کی صورت حال کا جامع جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے موجودہ ذخائر اور درآمدی انتظامات، سپلائی چین کی لاجسٹکس سے متعلق بریفنگ دی گئی، کمیٹی اراکین کو راستے میں موجود کارگو جہازوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں، سپلائی چین مؤثر انداز میں کام کررہی ہے، آئندہ ہفتے سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے مناسب انتظامات موجود ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، عالمی توانائی منڈیوں میں اس وقت نمایاں اتار چڑھاؤ ہے، بروقت منصوبہ بندی کی بدولت ملک میں سپلائی صورتحال مستحکم ہے۔ علاوہ ازیں اجلاس میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا، ممکنہ بیرونی منظرناموں کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ ڈیزل قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کے بعد ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ اکانومی کلاس کا کرایہ 5 فیصد، اے سی کلاس کا کرایہ 10فیصد بڑھا دیا گیا، مسافر ٹرینوں کے آپریشنل اخراجات کا اضافی بوجھ ریلویز خود برداشت کرے گا۔ ترجمان ریلویز کا کہنا ہے کہ مال گاڑیوں کے کرایوں میں 20 فیصد اضافہ کردیا گیا، اضافے کا اطلاق 9 مارچ سے تمام مال گاڑیوں اور مسافر ٹرینوں کے کرایوں پر ہوگا۔ فیصلے کا اطلاق پہلے سے کی ہوئی بکنگ پر نہیں ہوگا۔ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ میٹرو بس کے کرایے میں 33 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق کرایوں میں اضافے کا اطلاق 26 مارچ سے ہوگا، تمام بی آر ٹی بشمول پاکستان میٹرو بس کے کرایوں میں 10 روپے اضافہ ہوگا۔ ریڈ میٹرو بس کا راولپنڈی، لاہور اور ملتان میں کرایہ 40 روپے کردیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق گرین ٹرانسپورٹ رکھنے والے افراد کو 15 روپے رعایت ہوگی۔ انسپکٹر جنرل نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس سلطان احمد چودھری کی زیر صدارت موٹروے پولیس کی ماہانہ ریجنل کانفرنس میں ملک بھر کے مختلف زونز سے ایڈیشنل انسپکٹرز جنرل اور ڈپٹی انسپکٹرز جنرل نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ملک بھر کے تمام زونز کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جبکہ اہم آپریشنل امور، ٹریفک مینجمنٹ اور روڈ سیفٹی سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر آئندہ کے لائحہ عمل اور مؤثر حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا آئی جی موٹروے پولیس نے ہدایت کی کہ موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال کے پیش نظر کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے عید کے دوران پبلک سروس وہیکلز کی جانب سے زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی، اوور لوڈنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد اور پبلک سروس وہیکلز کے فٹنس سرٹیفکیٹس اور روٹ پرمٹس کی سخت جانچ پڑتال یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ملک بھر میں عدالتوں میں کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ، چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اعلامیے کے مطابق عدلیہ نے ملک بھر میں کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت اور ہائیکورٹس میں ہفتے میں 4 دن کام کیا جائے گا، اعلامیے کے مطابق ضلعی عدالتیں بھی پیر سے جمعرات تک مکمل استعداد کے ساتھ کام کریں گی، ججوں کے پیٹرولیم کوٹے میں 50 فیصد اور عدالتی افسران کے کوٹے میں 25 فیصد کمی کر دی گئی۔

X