LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام ۤباد (سہ پہر) لودھراں پائلٹ پراجیکٹ (ایل پی پی ) نے ڈبلیو ایچ ایچ، آر ڈی ایفاورسباوونکے اشتراک اور جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (بی ایم زیڈ)کی مالی معاونت سے گرین سکلز پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد میں کو دو روزہ نیشنل ورکشاپ کا انعقاد کیا

اسلام ۤباد (سہ پہر) لودھراں پائلٹ پراجیکٹ (ایل پی پی ) نے ڈبلیو ایچ ایچ، آر ڈی ایفاورسباوونکے اشتراک اور جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (بی ایم زیڈ)کی مالی معاونت سے گرین سکلز پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد میں کو دو روزہ نیشنل ورکشاپ کا انعقاد کیا۔اس ورکشاپ کا مقصد جو کہ گرین اسکلز پراجیکٹ(گرین سکلز) کے ذریعے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی استقامت کو بہتر بنانے کے لیے TVETایکٹرز کی نیشنل ، صوبائی اور ضلعی سطح پر کی گئی نقشہ سازی کی توثیق کرنا، TVET اداکار سے وابستہ اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کو مضبوط بنانا، گرین اسکلز کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک شراکت داروں کی نشاندہی کرنا ۔ اور ان اقدامات کا مقصد پاکستان کی گرین اکانومیکی جانب منتقلی میں معاونت فراہم کرنا اور نوجوانوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے درمیان تعاون کے مواقع تلاش کرنا تھا۔

ورکشاپ میں سرکاری وغیر سرکاری اداروں کے نمائندگان جس میں ٹیوٹا پنجاب سےڈائریکٹر جنرل عامر عزیز، ٹیوٹاسندھ ا ینڈ کےپی ، پی بی ٹی ایسےچیئرمین ڈاکٹر فیصل محمود، زاہدہ بتول اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل پی ایس ڈی اے، NAVTTC سےیاسر احمد، ZABTech سےایگزیکٹو ڈائریکٹر وحیدہ ماہیسر ، پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایس ڈی اے)، پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل (پی وی ٹی سی)، آئی سی آئی ایس ڈی ڈی، ڈبلیو ایچ ایچ سے ہیڈ آف پروگرامز محترمہ ازابیل بوگورنسکی اوراکمل خان، سباوون سے ملک مسعود، آر ڈی ایف سےنیاز حسین سیال اور الطاف سومرو،پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(پی سی سی آئی)، تعلیمی ادارے، لیبر اینڈ ہیومن رسارس ڈپارٹمنٹ، سول سوسائٹی آرگنائزینشنز(CSOs)، اور دیگرنمائندوں نےبھی شرکت کی۔

ورکشاپ کے افتتاحی سیشن میں ایل پی پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالصبور اور ڈبلیو ایچ ایچ کی ہیڈ آف پروگرامز محترمہ ازابیل بوگورنسکی نے خطاب کیا۔ ورکشاپ کے دوران موجودہ گرین اسکلز اقدامات، اداروں کے کردار، باہمی رابطے میں موجود خلا، صنعتی شعبے کی شمولیت اور گرین اکانومی میں روزگار کے ابھرتے ہوئے مواقع پر توجہ مرکوز کی گئی۔ پینل ڈسکشنز اور گروپ ورک کے ذریعے شرکاء نے اسٹیک ہولڈرزکی میپنگ کا جائزہ لیا، موجودہ کمیوں کی نشاندہی کی، نئی شراکت داریوں کے امکانات کا جائزہ لیا اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کو بہتر بنانے اور مجوزہ نالج اینڈ ایکسچینج ہبز (علم اور تبادلے کے مرکز) کو مؤثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کی گئیں۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مہارتوں کی ترقی کو لیبر مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے حکومتی اداروں، تربیتی اداروں، صنعتی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، باہمی تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ورکشاپ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نوجوانوں کو گرین اسکلز کے حصول اور روزگار کے مواقع تک مساوی اور جامع رسائی فراہم کی جائے، بالخصوص خواتین، معذور افراد اور دیگر ایسے طبقات کے لیے جو عموماً ان مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ورکشاپ کا اختتام اسٹاک ہولڈر کی شمولیت کو مزید مؤثر بنانے، اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے، گرین اسکلز کے فروغ اور پاکستان میں نوجوانوں کی روزگار کے حصول کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے سفارشات اور آئندہ کے لائحۂ عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔

X