اسلام آباد (سہ پہر) کشمیر یومِ سیاہ اور موجودہ حکومت کا کردار
اسلام آباد (سہ پہر)ہر سال 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی ‘یومِ سیاہ’ کے طور پر مناتے ہیں۔موجودہ حکومت کا بیانیہ بالکل واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ صرف اور صرف مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔یوم سیاہ کے موقع پر پاکستانی حکومت نے عالمی برادری سے ایک بار پھر یہ مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے نئی دہلی پر دباؤ ڈالے۔ یہ دن 27 اکتوبر 1947 کی یاد میں منایا جاتا ہے، جب بھارتی افواج پہلی بار سرینگر میں داخل ہوئیں اور ریاست جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ جما لیا۔ اس تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ، موجودہ پاکستانی حکومت کا کردار اور اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات درج ذیل نمایاں پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں: 27 اکتوبر 1947 وہ دن ہے جس نے تقسیمِ ہند کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم کیا۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ کو ان کی سلامتی کونسل کی قراردادیں یاد دلانا ہے، جن میں کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: یہ دن وادی میں جاری دہائیوں پر محیط فوجی محاصرے، ماورائے عدالت قتل، اور بنیادی آزادیوں کی سلب سازی کے خلاف مظلوم کشمیریوں کی استقامت کی علامت بن چکا ہے۔
موجودہ پاکستانی حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسئلہ کشمیر اور یومِ سیاہ کے موقع پر سفارتی، سیاسی اور عوامی سطح پر متحرک کردار ادا کرتی آ رہی ہے, حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاسوں، او آئی سی (OIC)، اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر مقبوضہ جموں و کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑا ہے۔ وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کی جانب سے مسلسل عالمی رہنماؤں کو خطوط اور ملاقاتوں کے ذریعے 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔
یومِ سیاہ کے موقع پر صدر اور وزیراعظم پاکستان خصوصی پیغامات کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہیں۔ حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ جب تک کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق نہیں ملتا، پاکستان چین سے نہیں بیٹھے گا۔ اس تناظر میں یوم سیاہ پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے اور وہ اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اس وقت تک کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہے گا جب تک وہ حق خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔ رہنماؤںنے 27 اکتوبر 1947 کو جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیا اور کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لوگ کئی دہائیوں سے “بھارتی افواج کے وحشیانہ جبر کو برداشت کر رہے ہیں”۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج ہی کے دن 79 سال قبل بھارتی افواج سری نگر میں اتری تھیں اور تب سے بھارت نے کشمیری عوام کی اپنی تقدیر خود طے کرنے کی جائز خواہشات کو دبایا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لوگوں نے گزشتہ 79 سالوں کے دوران ان گنت مشکلات کا سامنا کیا ہے، تاہم “ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کو حاصل کرنے کا ان کا عزم اتنا ہی پختہ ہے جتنا کہ 1947 میں تھا۔”
ملک گیر اور سفارتی سطح پر سرگرمیاں: حکومت کی ہدایت پر ہر سال 27 اکتوبر کو پاکستان بھر اور آزاد کشمیر میں ریلیاں، سیمینارز اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارت خانوں میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو بھارتی مظالم کی جانب متوجہ کیا جا سکے۔
سرکاری میڈیا بشمول پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان، نیز وزارتِ اطلاعات کے سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کرنے کے لیے دستاویزی فلمیں اور ڈیجیٹل مواد نشر کیا جاتا ہے، تاکہ نئی نسل اس تنازعے کی حقیقت سے باخبر رہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی جموں و کشمیر سے متعلق ایک درجن سے زائد قراردادیں اس دیرینہ تنازعے کا سب سے اہم قانونی اور عالمی فریم ورک فراہم کرتی ہیں، جن میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو بنیادی اصول تسلیم کیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل نے 1948 سے 1971 کے دوران خطے میں جنگ بندی، فوجوں کے انخلاء اور پرامن حل کے لیے متعدد اہم قراردادیں منظور کیں۔ ان میں سب سے پہلی قرارداد نمبر 38 (جنوری 1948) تھی جس میں دونوں ممالک پر کشیدگی کم کرنے اور سلامتی کونسل کو صورتحال سے باخبر رکھنے پر زور دیا گیا، جس کے فوراً بعد قرارداد نمبر 39 کے تحت “یونائیٹڈ نیشنز کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان” (UNCIP) قائم کیا گیا تاکہ وہ تنازعے کی تحقیقات اور ثالثی کا کردار ادا کر سکے۔ ان تمام فیصلوں میں سب سے تاریخی حیثیت 21 اپریل 1948 کو منظور ہونے والی قرارداد نمبر 47 کو حاصل ہے، جس میں یہ واضح اور غیر مبہم اصول طے کیا گیا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کسی بھی یکطرفہ اقدام کے بجائے اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی ایک آزاد، منصفانہ اور جمہوری استصوابِ رائے (Plebiscite) کے ذریعے کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں UNCIP نے 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اپنی اہم ترین قراردادیں اپنائیں جن میں جنگ بندی اور استصوابِ رائے کے تفصیلی مراحل کی توثیق کی گئی۔ بعد ازاں، جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصر مشن (UNMOGIP) کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ جب بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی مقامی آئین ساز اسمبلی کے ذریعے خطے کے الحاق کی کوششیں کی گئیں، تو سلامتی کونسل نے جنوری 1957 میں قرارداد نمبر 122 پاس کر کے یہ اعلان کیا کہ ایسی کسی بھی اسمبلی کا کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ ریاست کی حتمی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام استصوابِ رائے کا متبادل ہو سکتا ہے۔ سال 1965 کی جنگ کے دوران کونسل نے قرارداد نمبر 209، 210 اور 211 کے ذریعے فوری جنگ بندی اور افواج کی پوزیشنوں پر واپسی کا حکم دیا۔ پاکستان کا یہ مستقل سفارتی مؤقف ہے کہ سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوئی (No Expiry Date) اور مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اب بھی اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر “مسئلہ بھارت و پاکستان” کے عنوان سے ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق جب تک کوئی تنازعہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہو، اس خطے کے آبادیاتی یا جغرافیائی ڈھانچے میں کوئی مادی تبدیلی نہیں کی جا سکتی، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کو ان بین الاقوامی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے ان پر فی الفور عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 79 برس قبل 27 اکتوبر کے روز ہی بھارتی فوجی وادی کشمیر میں داخل ہوئے تھے اور اسی مناسبت سے کشمیر کا یوم سیاہ منایا جاتا ہے، اس روز ہر برس احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اکتوبر 1947 سے ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا تنازعہ بھی جاری ہے۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہر جانب سکیورٹی فورسز کا سخت پہرہ ہے اور تمام طرح کے مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی عائد ہے۔ یوم سیاہ منانے کی کال اعلیٰ کشمیری قیادت آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مقامی حکومت نے دی ۔ اس موقع پر کشمیری رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ پرامن حل کے لیے سہولت فراہم کرے۔ وزیر اعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لوگ کئی دہائیوں سے “بھارتی افواج کے وحشیانہ جبر کو برداشت کر رہے ہیں” تاہم وہ آج بھی اپنے حقوق کے لیے ثابت قدمی سے کھڑے ہیں انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں “نسل کشی” کا نوٹس لے۔ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو اپنی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے اپنے عزم کو پورا کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے۔ بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں جن کے تحت وادی میں بنیادی آزادیوں کو کچلنے کے لیے سخت حفاظتی قوانین کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور یو اے پی اے (UAPA) جیسے کالے قوانین کے تحت ہزاروں کشمیریوں بشمول طلباء، صحافیوں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو بغیر کسی باضابطہ مقدمے یا ٹرائل کے طویل عرصے سے جیلوں میں بند رکھا گیا ہے جبکہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) سکیورٹی فورسز کو وسیع اختیارات اور ہر قسم کے احتساب سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت قتل، حراستی تشدد اور جبری گمشدگیوں کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی اور مقامی میڈیا پر بدترین قدغنیں عائد ہیں جہاں سچ لکھنے والے صحافیوں کو پولیس تفتیش، دھمکیوں اور من مانی حراستوں کا سامنا ہے اور انٹرنیٹ کی بار بار معطلی کے ذریعے ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے تاکہ وادی کی اصل صورتحال دنیا کے سامنے نہ آ سکے۔ مزید برآں، اجتماعی سزا کے طور پر سیاسی کارکنوں کے گھروں کو بلڈوز کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد نافذ کیے گئے نئے ڈومیسائل قوانین کے ذریعے خطے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کر کے مسلم اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں جس پر عالمی برادری، اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں,اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر اور خصوصی مبصرین کی رپورٹس جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کی بین الاقوامی سطح پر سب سے مستند دستاویزی توثیق فراہم کرتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے تاریخ میں پہلی بار 2019 میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر جامع رپورٹس جاری کیں جن میں بھارتی افواج کے ہاتھوں غیر متناسب طاقت کے استعمال، پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال، ماورائے عدالت قتل اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت سکیورٹی فورسز کو حاصل مکمل استثنیٰ کو تفصیلاً دستاویزی شکل دی گئی اور ان سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی “کمیشن آف انکوائری” قائم کرنے کی سفارش کی گئی۔ ان تاریخی رپورٹس کے تسلسل میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے آزاد ماہرین اور خصوصی مبصرین نے حالیہ سالوں میں مقبوضہ کشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے نام پر ہونے والی پامالیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارتی حکام نے پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہزاروں افراد بشمول کشمیری صحافیوں، طلباء اور خرم پرویز جیسے نامور انسانی حقوق کے محافظوں کو من مانی طور پر طویل عرصے سے حراست میں لے رکھا ہے۔ مزید برآں، اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹس میں مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی سزا کے طور پر کشمیری مسلمانوں کے مکانات اور املاک کی مسماری، مواصلاتی ناکہ بندی، موبائل انٹرنیٹ کی بار بار معطلی اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کی کارروائیوں کو آزادیِ اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی ان تمام رپورٹس کا خیرمقدم کرتے ہوئے سلامتی کونسل پر مسلسل زور دیا ہے کہ وہ ان سفارشات پر عملدرآمد کروائے ,27 اکتوبر 1947 کو جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب اس وقت لکھا گیا جب بھارتی افواج نے تقسیمِ ہند کے طے شدہ اصولوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے برعکس جموں و کشمیر کی سر زمین پر زبردستی قدم رکھا اور وادی پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ برصغیر کی تقسیم کے مسلمہ اصول کے تحت مسلم اکثریتی ریاستوں کو پاکستان کا حصہ بننا تھا، اور جموں و کشمیر کی 80 فیصد سے زائد مسلم آبادی قدرتی، جغرافیائی اور نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی تھی، لیکن مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف جا کر ایک متنازع اور خفیہ ‘معاہدہِ الحاق’ کا ڈرامہ رچا کر بھارتی فوج کو سرینگر اترنے کا موقع فراہم کیا۔ اس غاصبانہ تسلط کے خلاف کشمیری عوام نے فوری طور پر بھرپور مزاحمت شروع کی جس کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر کا خطہ تو ڈوگرہ راج اور بھارتی تسلط سے آزاد کرا لیا گیا، مگر وادی کا ایک بڑا حصہ بھارت کے غیر قانونی قبضے میں چلا گیا جسے آج دنیا بھر کے کشمیری اور پاکستانی ‘یومِ سیاہ’ کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن نہ صرف ایک تاریخی المیے کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس طویل اور خونی جبر کی ابتدا کا نشان بھی ہے جو گزشتہ آٹھ دہائیوں سے مقبوضہ وادی میں جاری ہے، جہاں لاکھوں کشمیری اپنی آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ بھارت نے اس وقت عالمی برادری کے سامنے یہ وعدہ کیا تھا کہ حالات معمول پر آتے ہی اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا، اور سلامتی کونسل نے بھی اس کی توثیق کی، مگر نئی دہلی نے اپنے ان تمام وعدوں اور بین الاقوامی قراردادوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے وادی کو دنیا کے سب سے بڑے فوجی محاصرے میں تبدیل کر دیا۔ 27 اکتوبر 1947 کا یہ سیاہ اقدام آج بھی جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے، اور 5 اگست 2019 کو کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کے خاتمے اور موجودہ دور میں جاری آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششوں نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت اسی غاصبانہ سوچ پر کاربند ہے جس کا آغاز 1947 کے اس سیاہ دن ہوا تھا، یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اس دن کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا ظلم اور غصب گردانتے ہیں۔1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور تزویراتی حیثیت اتنی اہم تھی کہ اسے پورے خطے کا سیاسی قلب اور برصغیر کا تاج سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کی سرحدیں بیک وقت کئی بڑی عالمی طاقتوں سے ملتی تھیں۔ جموں و کشمیر کی سب سے بڑی جیو پولیٹیکل اہمیت یہ تھی کہ اس کی حدود نہ صرف نو تشکیل شدہ ریاستوں پاکستان اور بھارت سے ملتی تھیں بلکہ اس کی شمالی سرحدیں اس وقت کی عظیم طاقتوں سوویت یونین اور چین سے جڑی ہوئی تھیں جبکہ شمال مغرب میں واخان راہداری کے ذریعے یہ افغانستان کے بالکل قریب تھا، یہی وجہ تھی کہ برطانوی سلطنت کے لیے یہ خطہ وسطی ایشیا اور روس کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ایک اہم بفر زون کی حیثیت رکھتا تھا۔ جغرافیائی اور قدرتی طور پر کشمیر کا جھکاؤ مکمل طور پر پاکستان کی طرف تھا کیونکہ برصغیر کو وادیِ کشمیر سے جوڑنے والے تمام بڑے، سدا بہار اور قدرتی زمینی راستے راولپنڈی، مری اور جہلم کے راستے گزرتے تھے جبکہ پاکستان کی زراعتی معیشت کا مکمل انحصار جن دریاؤں پر تھا ان کے پانی کے قدرتی ذرائع کشمیر کے پہاڑوں میں واقع تھے، اسی لیے بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اس کے برعکس بھارت کے لیے کشمیر تک رسائی حاصل کرنا اس وقت تک جغرافیائی طور پر ناممکن تھا جب تک اسے کوئی زمینی راستہ نہ ملتا اور یہ راستہ تقسیمِ ہند کے وقت ریڈکلف ایوارڈ کے تحت مسلم اکثریتی ضلع گرداسپور کی تحصیل پٹھانکوٹ بھارت کے حوالے کر کے فراہم کیا گیا، جس نے 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج کو زمینی راستے سے سرینگر میں داخل ہونے کی تزویراتی سہولت فراہم کی۔ فوجی نقطہِ نظر سے بھی کشمیر کا پہاڑی خطہ جس کے شمال میں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے بلند ترین پہاڑی سلسلے واقع ہیں پورے جنوبی ایشیا پر ایک قدرتی دفاعی برتری فراہم کرتا تھا اور جو بھی ملک اس خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کرتا اسے پورے برصغیر کی حدود پر ایک اسٹریٹجک بالادستی حاصل ہو جاتی، یہی تزویراتی اہمیت آج آٹھ دہائیوں بعد بھی اس دیرینہ تنازعے کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہے۔جموں و کشمیر کے دریا اور پاکستان کی آبی سلامتی (Water Security) ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ کشمیر پر کنٹرول کا مطلب پاکستان کی زرعی اور اقتصادی زندگی کی ڈور پر کنٹرول ہے۔ جغرافیائی طور پر پاکستان کی معیشت اور زراعت کا 80 فیصد سے زائد انحصار جس دریائے سندھ کے نظام (Indus River System) پر ہے، اس کے تینوں مغربی دریا—سندھ، جہلم اور چناب—یا تو مقبوضہ کشمیر سے ہو کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں یا ان کے منبع اور بالائی حصے بھارتی کنٹرول میں ہیں۔ ان دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) طے پایا تھا جس کے تحت تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب) کا پانی پاکستان کو اور تین مشرقی دریاؤں (راوی، ستلج، بیاس) کا پانی بھارت کے حوالے کیا گیا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ان دریاؤں پر درجنوں ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹس، ڈیموں اور واٹر اسٹوریج کی تعمیر (جیسے دریائے جہلم پر کشن گنگا اور دریائے چناب پر رتلے، بگلیہار اور دالحستی پراجیکٹس) نے پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ بھارت اگرچہ ان منصوبوں کو “رن آف دی ریور” (پانی کا بہاؤ نہ روکنے والے منصوبے) قرار دیتا ہے، لیکن پاکستان کا یہ دیرینہ اور اصولی موقف رہا ہے کہ بھارت ان ڈیموں کے ڈیزائن اور واٹر گیٹس کے ذریعے پودوں اور فصلوں کی بوائی کے اہم سیزن میں پانی کا بہاؤ روک کر پاکستان میں مصنوعی قحط پیدا کرنے یا سیلاب کے دنوں میں اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کو ڈبونے کی اسٹریٹجک صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ حالیہ سالوں میں، خصوصاً 2025 اور 2026 کے دوران، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ ترامیم کے مطالبات اور معاہدے پر نظرثانی کی دھمکیوں نے اس آبی تنازعے کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی غذائی تحفظ (Food Security) خطرے میں پڑ گئی ہے بلکہ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان پانی کا یہ مسئلہ کسی بڑے فوجی ٹکراؤ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے کشمیر صرف ایک سیاسی یا جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ اس کی بقا اور آبی سلامتی کا ضامن ہے، یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے پانیوں پر بھارتی بالادستی کو پاکستان اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا تزویراتی خطرہ تصور کرتا ہے۔