اسلام آباد (سہ پہر) نئی نسل کا نصاب قومی مشاہیر کے تذکرے سے بالکل خالی ہے: ڈاکٹر فاروق عادل
اسلام آباد (سہ پہر):نئی نسل کا نصاب قومی مشاہیر کے تذکرے سے بالکل خالی ہے: ڈاکٹر فاروق عادل
قرارداد مقاصد پیش کرنا و منظور کروانا لیاقت علی خان کا بڑا کارنامہ ہے: پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ
لیاقت علی خاں نے بھارت سے اقلیتوں کے تحفظ کا معاہدہ کرکے بڑا کام کیا: میاں محمد جاوید
آج ہماری نئی نسل اپنے محسنوں کو اس لیے نہیں پہچانتی کہ انکے تعلیمی نصاب ہمارے قومی مشاہیر کے تذکرے سے بالکل خالی ہیں۔ دوسری جانب جدید ذریعہ تعلیم انہیں گلوبل ولیج کا شہری بنانے میں مصروف ہے۔ ایسے میں نئی نسل بیچاری کیا کرے؟۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز دانشور اور رحمت اللعالمین اتھارٹی کے ممبر ڈاکٹر فاروق عادل نے ایوان قائد میں نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے زیر اہتمام خان لیاقت علی خان کی برسی کی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انکا کہنا تھا کہ آج ہم انسانیت اور پاکستانیت کے فقدان کا شکار ہیں اور ہماری فکری و نظریاتی سمت کا تعین ضروری ہے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ نے کہا کہ اگر لیاقت علی خان کے دور میں قراردادِ مقاصد منظور نہ ہوتی تو آج ہم اپنے قومی مشن سے بہت دور ہو چکے ہوتے۔ اللہ تعالی نے لیاقت علی خان کو یہ توفیق بخشی کہ انہوں نے تاریخ ساز قرارداد پیش کی اور اسے منظور کروایا۔ یہ مملکتِ خداداد پاکستان اللہ اور رسول کے نام پر قائم ہوئی ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ کونسل کے چیئرمین میاں جاوید نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے یاد کیا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو لیاقت علی خان کا تذکرہ ہمارے سکولوں کے نصاب اور فضا میں ہوتا تھا۔ وہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے دستِ راست تھے۔ انہوں نے لیاقت علی خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک بڑا تاریخی کارنامہ بھارت کے ساتھ “پروٹیکشن آف مائناریٹیز ایگریمنٹ” اقلیتوں کے تحفظ کا معاہدہ تھا، جو انہوں نے اس لیے کیا تاکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ معروف دانشور و ماہر اقبالیات سید ظہیر گیلانی نے اپنے مضمون میں کہا کہ
قیام پاکستان کے وقت ملک کو بڑے مسائل کا سامنا تھا۔ خان لیاقت علی خان نے وزیر مالیات کے طور پر تاریخی بجٹ پیش کیا جسے غریبوں کا بجٹ قرار دیا گیا۔ لاکھوں مہاجرین کی بحالی، معاشی بدحالی اور سرحدوں کے تنازعات کو لیاقت علی خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے انتہائی تدبر اور حکمت عملی کے ساتھ نمٹا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ معروف دانشور داؤد کیف نے کہا کہ تاریخ میں ایسے حکمران بھی گزرے ہیں جنہوں نے اقتدار کے بعد اپنے ذاتی اثاثے بھی قوم کے نام کر دیے۔ لیاقت علی خان نے دلی میں اپنی قیمتی رہائش گاہ پاکستان کے سفارت خانے کے حوالے کر دی تھی، جو آج بھی پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ استعمال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائدِ اعظم اور لیاقت علی خان میں ایک بڑی مماثلت یہ تھی کہ دونوں نے اپنے کسی عزیز و اقارب کو کسی بھی منصب یا نمایاں عہدے پر تعینات نہیں کیا۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار تزئین اختر کا کہنا تھا کہ برطانوی استعمار، انتہا پسند ہندو لابی اور اندرونی مخالفتوں کے باوجود لیاقت علی خان نے جس سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا اس نے دنیا کا نقشہ تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ معروف کہانی کار افشاں عباسی نے کہا کہ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔ لیاقت علی خان نے اپنا تمام چین و سکون اپنی قوم کے لیے وقف کر دیا تھا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی یہ بڑی خوش قسمتی تھی کہ انہیں لیاقت علی خان جیسا مخلص اور مدبر ساتھی ملا۔
تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے حمید قیصر نے تمہیدی گفتگو میں کہا کہ شہید ملت کو یاد کرنے کا حقیقی مقصد صرف انکی شخصیت کو یاد کرنا نہیں بلکہ انکے افکار، قومی کردار اور پاکستان کے استحکام کیلئے انکی جدوجہد سے راہنمائی حاصل کرنا بھی ہے۔ نظریہ پاکستان کونسل کیلئے یہ اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی کہ وہ نئی نسل کو اپنے قومی محسنوں کی تاریخ انکی جدوجہد اور نصب العین سے روشناس کرائے۔
تقریب کے اختتام پر شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی اور شرکاء نے ان کے افکار و کردار کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی، استحکام اور فکری بلوغت کیلئے بھرپور عزم کے ساتھ کام کرنے کا اعادہ کیا۔