اسلام آباد (سہ پہر) بچہ چاہے مالک کا ہو یا چوکیدار کا” اسے ایک جیسی کتاب، ایک جیسا معیار اور ایک جیسی عزت ملنا ہی یکساں تعلیم نظام ہے۔یہی قائد اعظم کا خواب تھا،جدید تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں چودھری طیب
اسلام آباد (سہ پہر) معروف ماہر تعلیم اور شائننگ سٹار سکولز سسٹم کے ڈائریکٹر چودھری طیب نے کہا ہے کہ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ یکساں تعلیمی نظام کے بغیر ہم ایک قوم نہیں بن سکتے اور ناہی جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوئے بغیر دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکساں تعلیمی نظام کی بہت بات ہو رہی ہے، لیکن درحقیقت یہ بہت اہم معاملہ ہے اس وقت ملک میں تین طرح کی تعلیم ہے، سرکاری سکول کا بچہ احساس کمتری کا شکار ہے، مہنگے پرائیویٹ سکول کا بچہ احساس برتری کا شکار ہے۔ جب تک ہم نصاب ایک نہیں کریں گے، ہماری سوچ ایک نہیں ہوگی۔ یکساں تعلیمی نظام کا مطلب ہی یہ ہیکہ “بچہ چاہے مالک کا ہو یا چوکیدار کا” اسے ایک جیسی کتاب، ایک جیسا معیار اور ایک جیسی عزت ملے۔ یہی قائد اعظم کا خواب تھا اور اسی خواب کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا تھا، دور حاضر کے جدید تعلیمی نظام پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک بچوں کو رٹہ سسٹم پر لگائے ہوئے ہیں۔ جبکہ دنیا مصنوعی ذہانت (AI)، کمپیوٹر کوڈنگ، فری لانسنگ اور سکل بیسڈ ایجوکیشن پر چلی گئی ہے۔ ہمارے بچے کو ڈگری تو مل جاتی ہے لیکن ہنر نہیں ملتا۔ اس لیے وہ بے روزگار رہتا ہے۔ میرا شروع سے مطالبہ ہیکہ پرائمری لیول سے ہی بچوں کو کمپیوٹر، انگریزی کمیونیکیشن سکلز، اخلاقیات اور ٹیکنالوجی کی تعلیم لازمی دی جائے۔ شائننگ سٹار میں ہم نے الحمدللہ اس کا آغاز کر دیا ہے، ہم بچوں کو صرف کتاب نہیں، ہنر بھی دے رہے ہیں انہوں نے سستی تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے کہا کہ یہ سب سے بڑا چیلنج ہے، والدین فیسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں تعلیم غریب کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ کچھ اداروں نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ظلم ہے۔ تعلیم کاروبار نہیں عبادت ہے۔ ہم نے شائننگ سٹار سکولز اسی جذبے کے تحت بنایا ہے کہ ہم کم فیس میں کوالٹی ایجوکیشن دیں۔ی ہمارے پاس تمام طبقات کا طالب علم عزت کے ساتھ وہی تعلیم حاصل کر رہا ہے جو ایک اچھے خاندان کا بچہ حاصل کر رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اداروں کی سرپرستی کرے جو سستی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا رہے ہیں۔سکولوں میں بہتر معیار تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تین چیزیں بہت ضروری ہیں۔ پہلی چیز قابل اور تربیت یافتہ استاد ہے۔ استاد کو سہولیات دیں گے تو وہ دل سے پڑھائے گا۔ دوسری چیز سکول کا ماحول ہے۔ بچے کو سکول میں خوف نہیں، محبت اور تحفظ ملنا چاہیے۔ تیسری چیز والدین اور اساتذہ کا رابطہ ہے۔اس حوالے سے ہم نے اپنے تمام کیمپسز میں ماہانہ پیرنٹس ٹیچر میٹنگ کو لازمی قرار دیا ہوا ہے، گفتگو کے آخر میں انہوں نے وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے فروغ تعلیم کیلئے کاموں، جاری منصوبوں کی تعریف کی۔ چودری طیب نے پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر کی کوششوں کو بھی سراہا، انہوں نے کہا کہ یکساں نظام تعلیم کو صرف نعروں کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ کیا جانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ میری والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نمبروں کی ریس میں نہ دوڑائیں، ان کی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے اسی نظام سے ایک پڑھا لکھا، ہنر مند اور خوددار پاکستان بنائیں گے۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر شائننگ سٹار سکولز مسز عنبرین طیب، پرنسپل شائینگ سٹار مصریال روڈ محمد علی طیب اور ڈائریکٹر اکیڈمک شائینگ سٹار مہرین طیب بھی موجود تھیں