LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) ترنول پولیس نے اغواء برائے تاوان کی واردات میں، دس کروڑ تاوان کیلئے ایبٹ آباد سے اغواء کیے گئے بارہ سالہ عبداللہ ابراہیم کو بحفاظت بازیاب کروا لیا

اسلام آباد (سہ پہر) ترنول پولیس نے اغواء برائے تاوان کی واردات میں، دس کروڑ تاوان کیلئے ایبٹ آباد سے اغواء کیے گئے بارہ سالہ عبداللہ ابراہیم کو بحفاظت بازیاب کروا لیا، بچے کے اغواء میں مبینہ طور پر ملوث مرکزی ملزم اور اس کے دو ساتھیوں سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان میں مغوی بچے کا چچا زاد محمد اویس، محمد نیاز اور علی احمد شامل ہیں۔ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضانے کے مطابق ترنول پولیس نے معمول کی چیکنگ کے دوران ایک گاڑی کی پچھلی نشست پرموجود بچے کو خوف زدہ اور سہما ہوا پایا۔ پولیس نے صورتحال مشکوک محسوس ہونے بچے کو اعتماد میں لیکر مزید پوچھ گچھ کی تو ۔بچے نے پولیس کو بتایا کہ اسے ایبٹ آباد سے اغواء کرکے اسلام آباد لایا جا رہا ہے۔ بچے کے بیان پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے بحفاظت اپنی تحویل میں لے لیا اور گاڑی میں موجود تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد نے مزید کہا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ مرکزی ملزم محمد اویس مغوی بچے کا چچا زاد ہے اور مبینہ طور پر بچے کے والد سے 10 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث اغواء برائے تاوان کی سنگین واردات کو ناکام بناتے ہوئے بچے کو بحفاظت بازیاب کرلیا گیا۔ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد نے کہا کہ مؤثر چیکنگ، پولیس اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت رسپانس کے باعث ایک معصوم بچے کو بروقت بازیاب کرایا گیا اور واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔بچے کے والدین نے اپنے لختِ جگر کی بحفاظت بازیابی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کا شکریہ ادا کیا اور پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا

X