LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیے بند ہوتی ہے؟ ایک عام پاکستانی کے سوال سے جنم لینے والی معاشی بحث

اسلام آباد (سہ پہر) آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیے بند ہوتی ہے؟ ایک عام پاکستانی کے سوال سے جنم لینے والی معاشی بحث

پاکستان میں پٹرول کی قیمت صرف ایک عدد نہیں، یہ عام آدمی کی زندگی کا روزانہ بدلتا ہوا حساب ہے۔ موٹر سائیکل سوار مزدور سے لے کر رکشہ ڈرائیور، کسان، استاد، ملازم، تاجر اور صنعت کار تک، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت ہر شخص کی جیب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پٹرول مہنگا ہو تو صرف پٹرول پمپ پر رقم زیادہ ادا نہیں ہوتی، بلکہ ٹرانسپورٹ، سبزی، دودھ، آٹا، تعمیراتی سامان اور تقریباً ہر چیز کی قیمت میں اس کا اثر شامل ہو جاتا ہے۔

ایسے میں پاکستانی عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کا اثر بنگلہ دیش، بھارت اور دوسرے ممالک پر بھی پڑتا ہے تو پاکستان میں اس کا بوجھ نسبتاً اتنا شدید کیوں محسوس ہوتا ہے؟ کیا آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیے بند ہوتی ہے؟

یہ سوال طنزیہ ضرور ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک سنجیدہ معاشی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔

سب سے پہلے بنگلہ دیش کی مثال دیکھیے۔ یکم جون 2026 کو بنگلہ دیش نے پٹرول کی قیمت 135 سے بڑھا کر 140 ٹکہ فی لیٹر کی، جبکہ ڈیزل 115 ٹکہ پر برقرار رکھا گیا۔ اس کے بعد جولائی اور پھر اگست میں بھی حکومت نے انہی قیمتوں کو برقرار رکھا۔ اگست میں بھی پٹرول 140 اور ڈیزل 115 ٹکہ فی لیٹر رہا۔

یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ بنگلہ دیش میں قیمتیں بالکل منجمد نہیں ہیں۔ وہاں 2024 سے خودکار قیمتوں کا نظام موجود ہے، جس میں عالمی قیمت، درآمدی لاگت، ٹیکس، ڈیوٹیز، شرحِ مبادلہ، BPC کا مارجن، VAT اور تقسیم کے اخراجات کو دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اس نظام میں بنیادی طور پر ماہانہ بنیاد پر جائزہ لیا جاتا ہے، نہ کہ پاکستانی طرز پر ہر کاروباری دن عوام کو نئی قیمت کا سامنا کرنا پڑے۔

بھارت کی مثال بھی دیکھیے

اب بھارت کی مثال سامنے رکھیں۔ بھارت بھی دنیا کے بڑے oil importers میں شامل ہے، اس لیے عالمی crude oil price میں اضافہ وہ وہاں معیشت ، بےروزگاری اور foreign exchange پر دباؤ ڈالتا ہے۔ یعنی یہ کہنا درست نہیں کہ بھارت عالمی oil crisis سے محفوظ ہے۔

لیکن 2026 کے موجودہ بحران میں ایک اہم فرق نظر آیا۔ جب آبنائے ہرمز کے بحران کے باعث عالمی کروڈ آئیل میں شدید اضافہ ہوا تو بھارت نے عام مقامی صافین پر اس پورے اضافے کو فوری طور پر منتقل نہیں کیا۔ دہلی میں مارچ 2026 کے مقابلے میں جون 2026 تک petrol کی قیمت میں تقریباً 7.8 فیصد اور diesel میں تقریباً 8.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کہیں زیادہ تھا۔ بھارت کی حکومت کے مطابق اسی عرصے میں ریلٹیل فیول پرائس کو نسبتاً مستحکم رکھنے کی کوشش کی گئی۔

یہاں ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے۔ جون 2026 میں عالمی سپلائی منقطع ہونے کے دوران بھارت نے پیٹرول اور ڈیزل کی retail sale پر عارضی پابندی بھی عائد کیں تاکہ تیل کی مجوزہ کمی اور black marketing کو روکا جا سکے۔ یکم جولائی سے یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں جب سپلائی کے حالت بہتر ہوئی۔ یعنی بھارت نے صرف قیمت کا مسئلہ نہیں دیکھا بلکہ تیل کی موجودگی اور supply security کو بھی اہمیت دی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت نے عوام کو مفت پٹرول دیا یا عالمی بحران کا نقصان خود ختم کر دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ وہاں ریاست نے عالمی shock کو خریدار تک منتقل کرنے کی رفتار اور شدت کو کچھ حد تک سنبھالا کیا۔

اب سری لنکا کی مثال دیکھ لئیں سری لنکا کی مثال بھی اس بحث میں اہم ہے کیونکہ وہ خود بھی imported fuel پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور ماضی میں شدید fuel crisis کا سامنا کر چکا ہے۔

2026 میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران سری لنکا میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی ہوئی۔ Ceylon Petroleum Corporation کے آفیشل ڈیٹا کے مطابق 31 مئی 2026 کو پیٹرول کی قیمت 434 Sri Lankan rupees فی لیٹر تھی، جبکہ 30 جون کو اسے کم کرکے 414 روپے کر دیا گیا۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت 407 سے کم ہو کر 382 روپے فی لیٹر ہوئی۔

یعنی عالمی حالات میں جب قیمتوں کا دباؤ آیا تو سری لنکا بھی اس سے متاثر ہوا، لیکن جب حالات میں بہتری آئی تو صارف کو قیمتوں کی کمی کا فائدہ بھی دیا گیا۔

یہی اصل نکتہ ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ بھارت یا سری لنکا میں پٹرول کبھی مہنگا نہیں ہوتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ عالمی قیمت میں اضافہ اور کمی صارف تک کس رفتار اور کس proportion میں منتقل ہوتی ہے۔

بھارت نے عالمی بحران کے دوران retail consumers کے لیے تیل کی قیمت کو نسبتاً مستحکم رکھنے کی کوشش کی، جبکہ سری لنکا نے عالمی حالات میں بہتری آنے پر تیل کی قیمت میں کمی کی۔ پاکستان کے لیے سوال یہی ہے کہ کیا یہاں بھی عالمی price shock کو مرحلہ وار اور متوازن انداز میں عوام تک منتقل نہیں کیا جا سکتا؟

یہی فرق اصل بحث ہے۔

پاکستان میں مسئلہ عالمی قیمت نہیں، قیمت کا ڈھانچہ ہے

پاکستان نے جولائی 2026 میں پٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمت مقرر کرنے کا نظام نافذ کیا۔ OGRA کو اختیار دیا گیا کہ وہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق ہر کاروباری دن قیمت کا تعین کرے۔ موجودہ نظام میں بنیادی عالمی benchmark کے لیے گزشتہ سات کاروباری دنوں کی Platts قیمتوں کا rolling average استعمال ہوتا ہے، جبکہ ڈالر کا exchange rate، import premium، freight، customs duty اور دیگر اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔ ہفتہ اور اتوار کو قیمت برقرار رہتی ہے۔

یعنی یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت محض اپنی مرضی سے ہر صبح پٹرول کی قیمت لکھ دیتی ہے۔ ایک باقاعدہ فارمولا موجود ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اچھا فارمولا لازماً اچھا عوامی نظام بھی ہوتا ہے؟

ضروری نہیں۔

اگر فارمولا عالمی قیمت بڑھنے کو فوراً عوام تک منتقل کرے اور عالمی قیمت کم ہونے کا فائدہ محدود یا تاخیر سے منتقل ہو تو مسئلہ فارمولا میں نہیں بلکہ اس کے consumer-protection design میں ہے۔

پاکستان میں پہلے قیمتوں کا جائزہ عموماً پندرہ روزہ بنیاد پر ہوتا تھا۔ عالمی بحران کے دوران اسے ہفتہ وار کیا گیا اور پھر جولائی 2026 میں روزانہ کر دیا گیا۔ جولائی کے آخری ہفتے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مسلسل مختلف سمتوں میں تبدیل ہوتی رہیں، جس سے یہ واضح ہے کہ نیا نظام واقعی روزانہ اتار چڑھاو پیدا کر رہا ہے۔

یہ نظام مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو حکومت سے زیادہ تیزی سے صارف تک پہنچاتا ہے۔

لیکن کیا عام آدمی کی آمدنی بھی روزانہ تبدیل ہوتی ہے؟

یہاں سے اصل ناانصافی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

تنخواہ ماہانہ، پٹرول روزانہ!

ایک سرکاری ملازم کی تنخواہ روزانہ عالمی تیل کی قیمت کے ساتھ نہیں بڑھتی۔ مزدور کی اجرت روزانہ ڈالر کے exchange rate کے ساتھ ایڈجیسٹ نہیں ہوتی۔ رکشہ ڈرائیور کا کرایہ ہر صبح Platts benchmark کے مطابق نہیں بدلتا۔

پھر پٹرول کی قیمت روزانہ کیوں؟

اگر روزانہ قیمت کا اصول ضروری سمجھا جاتا ہے تو اس کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی لازمی ہونا چاہیے:

عالمی قیمت بڑھے تو اضافہ، عالمی قیمت گرے تو اسی رفتار سے کمی۔

اور صرف کمی نہیں، بلکہ مکمل فارمولا عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔

حکومت نے خود اعلان کیا ہے کہ OGRA روزانہ قیمت کے تمام اجزاء ظاہر کرے گا تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ قیمت کیسے بنتی ہے۔

یہ شفافیت اگر واقعی مکمل طور پر نافذ ہو جائے تو موجودہ نظام پر بہت سے سوالات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

پٹرول کی قیمت میں حکومت کا حصہ کتنا ہے؟

یہاں عوام کے لیے سب سے اہم سوال پٹرولیم لیوی ہے۔

قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی سرکاری معلومات کے مطابق مئی 2026 کے قیمت کے structure میں پٹرول پر پیٹرولیم لیوی 78.02 فی لیٹر اور کسٹم ڈیوٹی .23.75 تھی، جبکہ climate support levy Rs2.50 تھی۔ اس حساب سے صرف ان اجزا کا مجموعہ Rs129.72 فی لیٹر بنتا تھا، جبکہ HSD پر اسی نظام میں مجموعی taxes/duties/levies تقریباً Rs82.81 فی لیٹر تھے۔

بعد کے اگست کے price structure میں بھی پٹرول پر تقریباً Rs110 سے زیادہ کے taxes/duties رپورٹ ہوئے، جبکہ HSD پر بھی نمایاں ٹیکس اور لیوی موجود رہی۔

اس لیے عوام کا یہ سوال غلط نہیں کہ پٹرول مہنگا ہونے کی پوری ذمہ داری صرف آبنائے ہرمز یا عالمی منڈی پر ڈال دینا کافی نہیں۔

عالمی قیمت ایک حصہ ہے، ملکی taxation دوسرا حصہ ہے۔

اور جب حکومت خود پٹرول کو ریونیو کولیکشن کا ذریعہ بنائے گی تو عوام پر بوجھ ضرور بڑھے گا۔

“پیٹرولیم لیوی” عوام کے لیے ٹیکس ہے، مگر محسوس بھتے کی طرح کیوں ہوتا ہے؟

لفظ سخت ہے، لیکن عوام کا احساس سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ایک عام شہری کے لیے پٹرولیم لیوی دراصل حکومت کو ہر لیٹر کے ساتھ دی جانے والی رقم ہے۔ اگر حکومت کا بجٹ دباؤ میں ہو تو پٹرولیم مصنوعات سے revenue حاصل کرنا آسان راستہ ہے۔

یہاں حکومت کو لاکھوں چھوٹے کاروباروں کا حساب نہیں کرنا پڑتا۔ اسے غیر رسمی معیشت کے ہر فرد تک نہیں پہنچنا پڑتا۔ پٹرول پمپ پر قیمت میں رقم شامل ہوتی ہے اور صارف خود ادا کر دیتا ہے۔

اسی لیے fuel taxation حکومت کے لیے آسان ریونیو کا نظام ہے۔

لیکن آسان revenue عوام کے لیے ہمیشہ منصفانہ revenue نہیں ہوتا۔

پٹرول پمپ مالکان کا مارجن اور عام آدمی کا سوال

یہ معاملہ بھی عوامی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ جولائی 2026 میں پٹرولیم ڈیلرز نے اپنے مارجن کو 8 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومت کے ساتھ قیمتوں کے تعین کا طریقہ اور deregulation پر بھی بات چیت ہوئی۔

کاروباری طبقے کو مناسب مارجن ملنا چاہیے۔ پٹرول پمپ بھی کاروبار ہیں اور ان کے اخراجات ہوتے ہیں۔

لیکن پھر سوال یہ ہے:

اگر منظم کاروباری طبقہ اپنے مارجن کے لیے حکومت سے مذاکرات کر سکتا ہے تو عام صارف کے تحفظ کے لیے کون مذاکرات کرے گا؟

غریب موٹر سائیکل سوار کی کوئی تنظیم نہیں جو ہر روز وزارتِ خزانہ کے سامنے بیٹھے۔

رکشہ ڈرائیور کے پاس کوئی price-protection committee نہیں۔

ملازم کی تنخواہ عالمی crude oil price کے ساتھ index نہیں ہوتی۔

اس لیے حکومت کا فرض ہے کہ وہ صرف صنعت کو نہیں بلکہ صارف کو بھی قیمتوں کا نظام میں تحفظ دے۔

کیا روزانہ قیمت کا نظام غلط ہے؟

ضروری نہیں۔

بلکہ شفافیت کے ساتھ دیکھا جائے تو روزانہ قیمت کا نظام ایک جدید مارکیٹ طریقہ کار بن سکتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو روز کی قیمتوں کا تعین نہیں بلکہ روزانہ شفافیت بھی چاہیے۔

مثلاً ہر روز OGRA کو ایک جدول جاری کرنا چاہیے:

عالمی Platts قیمت + freight + import premium + exchange rate + customs duty + petroleum levy + دیگر charges + OMC margin + dealer margin + inland freight = آخری قیمت

اور اگر عالمی قیمت گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہوئی ہے تو عوام کو بتایا جائے کہ پاکستانی قیمت میں کمی کتنے فیصد ہوئی۔

اگر عالمی قیمت 10 فیصد بڑھی ہے تو بتایا جائے کہ پاکستانی قیمت میں اضافہ کتنا ہوا۔

یہی اصل حساب کتاب ہے۔

بنگلہ دیش ہم سے بہتر کیوں نظر آتا ہے؟

بنگلہ دیش نے بھی automatic fuel pricing اپنائی ہے۔ مگر وہاں ماہانہ review نے صارف کو زیادہ predictability دی ہے۔ جون کے بعد جولائی اور اگست میں قیمت برقرار رکھی گئی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنگلہ دیش نے کوئی جادو کر لیا ہے۔

اصل فرق policy stability کا ہے۔

پاکستان میں عام آدمی کو یہ خوف رہتا ہے کہ آج پٹرول کی قیمت کیا ہوگی، کل کیا ہوگی، اور اگلے ہفتے کیا ہوگی۔

ایک کاروباری شخص کے لیے یہ غیر یقینی بہت مہنگی ہوتی ہے۔

ٹرانسپورٹر اپنی قیمت کا حساب نہیں کر پاتا۔

کسان اپنی ڈیزل کی قیمت کا اندازہ نہیں لگا پاتا۔

صنعت اپنی درست طرح سے تعین نہیں کر پاتی۔

اور آخرکار یہ غیر یقینی افراط زر بن کر عوام تک پہنچتی ہے۔

حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان کو ایک ایسا نظام بنانا چاہیے جس میں عالمی قیمت کے جھٹکے عوام تک مرحلہ وار منتقل ہوں۔

مثلاً ایک price-band بنایا جا سکتا ہے۔ اگر عالمی قیمت معمولی تبدیل ہو تو پٹرول کی قیمت نہ بدلے۔ اگر تبدیلی ایک مخصوص حد سے تجاوز کرے تو adjustment ہو۔

دوسرا اصول یہ ہونا چاہیے کہ اضافہ اور کمی symmetrical ہوں۔

تیسرا، petroleum levy کی maximum حد واضح قانونی طریقے سے مقرر ہو۔

چوتھا، حکومت fuel prices کو بجٹ خسارہ پورا کرنے کا آسان ذریعہ نہ بنائے۔

پانچواں، strategic petroleum ریزر وقائم کیے جائیں۔ خود حکومت نے بھی strategic petroleum reserve کی feasibility پر کام کا اعلان کیا ہے۔

چھٹا، مقامی oil exploration، refinery upgrades اور storage capacity میں سرمایہ کاری کی جائے۔

ساتواں، electric motorcycles، public transport اور alternative energy کو حقیقی پالیسی بنایا جائے، محض تقریروں کا موضوع نہ بنایا جائے۔

آخر میں اصل سوال

پاکستان میں ہر بحران کا جواب ایک ہی کیوں ہوتا ہے؟

ڈالر مہنگا ہوا—عوام برداشت کریں۔

تیل مہنگا ہوا—عوام برداشت کریں۔

آبنائے ہرمز میں بحران آیا—عوام برداشت کریں۔

بجٹ خسارہ بڑھا—پٹرولیم لیوی بڑھا دیں۔

لیکن جب عالمی تیل سستا ہوتا ہے تو عوام کو وہ فائدہ پوری رفتار سے کیوں نہیں ملتا؟

یہی وہ سوال ہے جس کا جواب حکومت، OGRA، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ پٹرولیم کو مل کر دینا چاہیے۔

آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیے بند نہیں ہوتی۔ عالمی منڈی میں بحران صرف پاکستانی معیشت کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ فرق یہ ہے کہ کچھ ممالک اپنے شہریوں اور عالمی جھٹکے کے درمیان حفاظتی دیوار بناتے ہیں، جبکہ پاکستان میں وہ جھٹکا اکثر سیدھا عام آدمی کی جیب تک پہنچ جاتا ہے۔

پٹرول کی قیمت 331 روپے ہو یا 390 روپے، اصل بحث صرف قیمت کی نہیں۔

اصل بحث یہ ہے کہ ریاست اپنے شہری کو عالمی بحران سے کتنا محفوظ رکھ سکتی ہے۔

ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو ہر عالمی نقصان کا بل عوام کو بھیج دے۔

مضبوط ریاست وہ ہے جو بحران کا کچھ بوجھ خود اٹھائے، اپنے نظام کے نقصانات کم کرے، غیر ضروری اخراجات ختم کرے، ٹیکس نیٹ وسیع کرے اور عام آدمی کو کم از کم بنیادی ضروریات کی قیمت میں تحفظ دے۔

پاکستان کو پٹرول کا صرف نیا فارمولا نہیں چاہیے؛

پاکستان کو ایک نیا انصاف چاہیے—ایسا pricing system جس میں عالمی منڈی کا حساب بھی ہو اور غریب آدمی کی جیب کا حساب بھی۔

ورنہ سوال بار بار اٹھتا رہے گا:

“آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیے بند ہوتی ہے؟”

X