LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) آپریشن شعبان;پاک فوج کا دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن

اسلام آباد (سہ پہر) بلوچستان میں امن کی خاطر فورسز کی قربانیاں اور کامیابیاں تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔ ​دہشت گرد ملک و قوم پر بوجھ ہیں، ان کا جڑ سے خاتمہ ناگزیر ہے۔ امن دشمنوں کو کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی
پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ “آپریشن شعبان” بھرپور انداز میں جاری ہے، چوبیس گھنٹوں میں 16 خارجی ہلاک ہوئے۔ بلوچستان میں یہ ہائی انٹینسٹی کاؤنٹر ٹیررازم مہم جولائی 2026 کے آغاز میں منگی ڈیم پولیس اسٹیشن اور چیک پوسٹ پر ہونے والے ہائی پروفائل دہشت گردانہ حملے کے ردِعمل میں شروع کی گئی۔ اس حملے میں دہشت گردوں نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور اغوا کے بعد انہیں شہید کر دیا تھاسیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ عسکری فورسز، ایف سی بلوچستان اور پولیس انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مربوط کارروائیاں کر رہی ہیں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیےدشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں جدید نگرانی، ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے زمینی اور فضائی حملے تیز کیے ہیں۔ یہ کارروائی بنیادی طور پر ان عناصر کے خلاف ہے جنہیں حکام ‘فتنہ الخوارج’ (ٹی ٹی پی) اور ‘فتنہ ہندوستان’ (بی ایل اے) کے ناموں سے پکارتے ہیں۔ سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس آپریشن کے دوران اب تک بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں آپریشن شعبان تک اس مخصوص آپریشن میں 64 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں 5 جولائی 2026 سے جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو ملا کر ہلاک ہونے والے خوارج کی تعداد 102 تک پہنچ چکی ہے اس مہم کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے خضدار کے علاقوں (زیدی اور زہری) میں پولیس اسٹیشنز پر کیے گئے حملوں کو فورسز نے کامیابی سے پسپا کیا اور جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے کلیئرنس کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، ہینڈ گرینیڈز، بارودی مواد اور مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ قیادت نے واضح کیا ہے کہ سول اور عسکری انتظامیہ کا یہ مشترکہ اور حتمی فیصلہ ہے کہ صوبے میں ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہے گا۔
وزیراعظم نے آپریشن شعبان کی کامیابی پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 79 دہشت گردوں کو ہلاک کرنا فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں آپریشن ، فورسز کی حکمت عملی قابل ستائش ہے،خضدار میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کا حملہ پسپا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ ناکام کرنے پر پاک فوج اور ایف سی کے دستوں کی کارروائی کو سراہتے ہیں، فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسزکے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی،ملک سے دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکیں گے، بلوچستان کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش ناکام بنا دی جائے گی،پوری قوم اپنی بہادر افواج اور پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی سیکیورٹی فورسز کی جرات اور بہادری کی تعریف کی۔وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے پیغام میں کہا کہ مانگی ڈیم حملے کے بعد آپریشن شعبان کے دوران 43 دہشت گرد ہلاک ہوئے،5 جولائی سے جاری آپریشنز میں 79دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، پاک فوج، ایف سی اور پولیس کی دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زہری پولیس اسٹیشن پردہشت گرد حملہ بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا، بلوچستان میں ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم رکھی جائے گی، دہشت گردوں کے لیے بلوچستان کی سرزمین تنگ کر دی گئی ہے، دہشت گرد اپنے منطقی انجام سے نہیں بچ سکتے۔ملک کی سالمیت، خوشحالی اور پائیدار ملکی ترقی کے لیے عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان مضبوط تزویراتی تعلق اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
جب تک یہ تینوں ستون ایک پیج پر متحد ہو کر کام نہیں کرتے، ملک اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا مؤثر طریقے سے نہیں کر سکتا۔اس کے بنیادی پہلو قومی سلامتی اور اندرونی استحکام ہیں, افواجِ پاکستان کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سرحدوں کی حفاظت، جب تک عوام اپنی فوج کی پشت پر نہ ہوں، کوئی بھی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اندرونی تخریب کاری اور دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پہلی دفاعی لائن ہے
موجودہ معاشی منظرنامے میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل حکومت اور عسکری قیادت کے مشترکہ تعاون کی بہترین مثال ہے زراعت، آئی ٹی، اور معدنیات کے شعبوں میں ہونے والی اس مشترکہ پیش رفت کا براہِ راست فائدہ عوام تک روزگار اور کاروباری مواقع کی صورت میں پہنچتا ہے ,سویلین اور ملٹری انٹیگریشن: سیلاب، زلزلے، یا کورونا جیسی وباء کے دوران حکومت کی انتظامی حکمتِ عملی، افواجِ پاکستان کی لاجسٹک صلاحیتوں اور عوام کے رضاکارانہ جذبے کے بغیر ادھوری رہتی ہے۔ یہ باہمی اشتراک بحرانوں کے دوران نقصانات کو کم سے کم کرنے اور متاثرین کی فوری بحالی کو ممکن بناتا ہے۔ دشمن عناصر ہمیشہ “ففتھ جنریشن وارفیئر” کے ذریعے عوام، حکومت اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان تینوں اداروں کے درمیان مضبوط اور شفاف تعلق دشمن کے اس پروپیگنڈے کو ناکام بناتا ہے اور دنیا کو ایک مستحکم اور متحد پاکستان کا تاثر دیتا ہے۔ملکی بقا کا دارومدار اس بات پر ہے کہ حکومت بہترین طرزِ حکمرانی اور پبلک سروس فراہم کرے، افواج ملک کے آئینی دفاع کو یقینی بنائیں، اور عوام محبِ وطنی کے جذبے کے ساتھ ریاست کے فیصلوں کا ساتھ دیں ملکی ترقی، امن اور خوشحالی کیلئے عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کے مابین ہم آہنگی اور مضبوط تعلق ناگزیر ہیں۔ ریاست کے یہ تینوں ستون مل کر ہی اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور ملکی استحکام کو یقینی بنا سکتے ہیں عوام، حکومت اور مسلح افواج کے درمیان یگانگت دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بناتی ہے اور قوم کے حوصلے بلند کرتی ہے سیاسی استحکام اور درست حکومتی فیصلوں سے معاشی ترقی ہوتی ہے، جس کے ثمرات عوام تک پہنچتے ہیں اور ملک آگے بڑھتا ہے۔ افواجِ پاکستان ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہیں، اور عوام کی بھرپور حمایت ہی انہیں اس مشن میں تقویت بخشتی ہے
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ہم بھارت کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان نے نہ پہلے ہندوستان کی اجارہ داری قبول کی اور نہ آئندہ کبھی کرے گا، افغانستان سے ایک ہی تقاضا ہے کہ وہ ہندوستان کی دہشتگردانہ پراکسیز فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کو جگہ نہ دیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر )کے مطابق 52 ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے افسروں سے اہم خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ ملک کی ترقی اور کامیابی کے لیے عوام، حکومت اور افواج کے درمیان مضبوط تعلق نا گزیر ہے ۔ ریاست کی تمام اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی کی اساس پاکستان کی انتظامیہ اور سول بیوروکریسی ہے ، اسکی بھاری اور اہم ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے ۔ معرکہ حق میں ریاست کی تمام اکائیوں نے مثالی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے کشمیر لائن آف کنٹرول سے لیکر ساحل سمندر تک بھارت کی بلا جواز جارحیت کیخلاف بہترین جواب دیا ۔ اﷲ نے معرکہ حق میں ہماری مدد کی کیوں کہ ہم حق پر تھے ۔ افواج پاکستان دور حاضر کے جنگی تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ہمہ وقت تیار رکھتی ہیں۔ہم ہندوستان کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان نے نہ پہلے ہندوستان کی اجارہ داری قبول کی اور نہ آئندہ کبھی کرے گا۔ دہشتگردی ہندوستان کا اندرونی مسئلہ ہے جو اس کا اپنی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں پر متعصبانہ اور ظالمانہ رویوں کا نتیجہ ہے ۔ خطے میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست خود بھارت ہے ۔ بحیثیت قوم ہم پاکستانی کبھی ہندوستان کے آگے جھکے ہیں نہ جھکیں گے ۔ افغانستان ہمارا برادر پڑوسی اسلامی ملک ہے اور ہم اس سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں تاہم ہم ان سے ایک ہی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کی دہشتگردانہ پراکسیز فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کو جگہ نہ دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افسر اپنی انفرادی اور علاقائی پہچان سے بڑھ کر پاکستانیت کی پہچان کو اپنائیں۔ ہر نظام میں مسائل اور کمزوریاں ہوتی ہیں، آپکا کام ہے کہ کمزوریوں اور منفی قوتوں کو نظام پر حاوی نہ ہونے دیں۔ جو اقوام اپنی تاریخ کو بھول جاتی ہیں ، انکا مستقبل بھی تاریک ہو جا تا ہے ۔ پاکستان کی کہانی اور تاریخ کو جانیے اور اپنی اگلی نسلوں تک پہنچائیں۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ ملک سے محبت اور وفاداری اولین اور بنیادی شرط ہے ۔ اپنے اندر جرات، قابلیت اور کردار پیدا کریں اور اگر ان میں سے ایک جزو کو چننا ہو تو ہمیشہ کردار کو فوقیت دیں۔

پاکستان کی افواج محض ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ ریاست کے نظریے، جغرافیہ، اور عوام کی محافظ ہیں۔ افواج نہ صرف بیرونی دشمنوں سے سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ قدرتی آفات، داخلی مسائل اور دہشتگردی جیسے چیلنجز میں بھی عوام کی خدمت میں پیش پیش رہتی ہیں۔ یہ ادارہ قومی خودمختاری کی علامت اور عوام کے اعتماد کا مرکز ہے۔ جب عوام اور افواج کے درمیان رشتہ مضبوط ہوتا ہے تو ریاست کی نظریاتی اور جغرافیائی سلامتی کو ناقابلِ تسخیر تحفظ حاصل ہوتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بھارت نے پاکستان کے وجود کو چیلنج کیا، پاکستان نہ صرف ان سازشوں کے خلاف کامیابی سے نبرد آزما ہوا بلکہ مزید مضبوط بن کر ابھرا۔ 1948، 1965 1971, 2025,1999 کی جنگیں، سرحدی دراندازیوں کے علاوہ کلبھوشن یادیو جیسے جاسوسوں کی گرفتاری یہ سب بھارت کے ان عزائم کا اظہار ہیں جن کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا تھا۔ لیکن ہر موقع پر پاکستانی قوم نے غیرمعمولی اتحاد، افواج نے غیر متزلزل عزم، اور قیادت نے دفاعی اور سفارتی محاذوں پر دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔بھارت کی مسلسل دشمنی نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ نہ صرف عسکری میدان میں خود انحصاری اختیار کرے بلکہ عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو مستحکم بنائے۔ آج پاکستان ایک نیوکلیئر پاور ہے، اپنی دفاعی صنعت میں نمایاں ترقی کر چکا ہے، اور چین، ترکی، سعودی عرب، اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک تعلقات قائم کر چکا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کا خطے میں اثر و رسوخ کم ہوتا جا رہا ہے نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ جیسے قریبی ممالک اب بھارتی چنگل سے نکل کر دیگر علاقائی طاقتوں کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان نے ہر بھارتی چال کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ اسے اپنی قومی یکجہتی، دفاعی مضبوطی اور عالمی وقار میں اضافے کا ذریعہ بنایا۔ حالیہ دنوں میں بھارت کی طرف سے بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور جارحیت نے ایک بار پھر اس خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ لیکن اس بار ایک فرق نمایاں طور پر نظر آیا , وہ یہ کہ بھارتی اشتعال انگیزی نے پاکستانی قوم کو بیدار کر دیا۔ قوم نے نہ صرف اپنے نظریے کو یاد کیا بلکہ افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر اپنی یکجہتی اور حب الوطنی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔بھارت کے جارحانہ رویے نے ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی کرائی کہ نظریاتی ریاستیں صرف فکری نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط افواج، عوامی اتحاد اور قومی شعور سے محفوظ رہتی ہیں۔ پاکستانی عوام نے جس اعتماد اور جذبے سے افواج کی حمایت کی، وہ اس بات کا غماز ہے کہ یہ تعلق پاکستان کے مستقبل میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ باہمی اعتماد نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے وقار میں اضافہ کرے گا۔افواجِ پاکستان نے جس مہارت، نظم و ضبط اور جدید ٹیکنالوجی سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر مسلط کی جائے تو دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے بھارت کو دفاعی میدان میں منہ توڑ جواب دینے کے بعد پاکستان کو ایک اور محاذ پر نئی قوت حاصل ہوگی وہ اندرون ملک بھارتی معاونت سے چلنے والی دہشت گرد کارروائیوں کا خاتمہ ہے۔ سالہا سال سے پاکستان میں دہشت گردی کی کئی لہریں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی پشت پناہی سے پنپتی رہیں، جن کا مقصد پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنا تھا۔ لیکن اب قوم متحد ہے اور دشمن کی اصلیت کھل کر سامنے آ چکی ہے، ریاستی اداروں کو خوارج، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ عوامی حمایت حاصل ہے، یہ جذبہ، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کرے گا اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو ایک نئی جہت دے گا۔ قوم کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ داخلی امن اور نظریاتی و جغرافیائی سلامتی لازم و ملزوم ہیں، اور اب ہر پاکستانی اس جنگ کا سپاہی بن کر دشمن کے ناپاک عزائم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننے کو تیار ہے۔ اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ قوم اور افواج پاکستان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ بھارت کی جارحیت نے بظاہر خطے کو خطرے میں ڈالا، مگر درحقیقت اس نے پاکستانی قوم کو جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ پاکستان کی ریاست ایک زمینی حدود کا نام نہیں بلکہ ایک نظریے پر قائم وہ وحدت ہے جس نے دنیا کے نقشے پر ایک الگ اور خودمختار ریاست کی صورت میں جنم لیا۔ یہ نظریہ اسلام کے سنہری اصولوں پر مبنی ایک منصفانہ، خودمختار، اور خوددار معاشرہ قائم کرنے کا تصور پاکستان کی روح ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ داخلی انتشار، سیاسی عدم استحکام، اور معاشی چیلنجز نے قوم کو نظریے سے بتدریج دور کیا، اور قومی وحدت کمزور ہوتی دکھائی دی۔ کسی بھی نظریاتی ریاست کے لیے نظریہ اور جغرافیہ دونوں لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ نظریہ ریاست کو فکری بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ جغرافیہ اس نظریے کے نفاذ کی عملی سرزمین مہیا کرتا ہے۔ اگر نظریہ نہ ہو تو جغرافیہ محض ایک زمین کا ٹکڑا رہ جاتا ہے، اور اگر جغرافیہ نہ ہو تو نظریہ محض ایک خیال۔ پاکستان کے تناظر میں یہ تعلق اور بھی زیادہ مقدس ہو جاتا ہے کیونکہ یہ سرزمین لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی تھی، اور اس کی بنیاد ہی نظریہ اسلام تھا۔ آج کا پاکستان اپنے نظریے سے منسلک، اپنے جغرافیے کا محافظ، اور اپنی افواج پر یقین رکھنے والی ایک زندہ اور متحد قوم بن کر ابھر رہا ہے۔ اور یہی وہ پاکستان ہے جس کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح نے رکھی تھی,

X