LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) سندھ طاس معاہدہ;امن ,علاقائی استحکام, چین کوکلیدی شراکت دار ہونا چاہیے ؟

اسلام آباد (سہ پہر) سندھ طاس معاہدہ، امن اورعلاقائی استحکام کا ضامن ہے, اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی بھارتی کوششیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ امن ,علاقائی استحکام, چین کوسندھ طاس معاہدہ کا کلیدی شراکت دار ہونا چاہیے ؟ چین کو شامل کرنے کی تزویراتی اہمیت یکطرفہ بھارتی جارحیت کا توڑہے, بھارت کی جانب سے حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے الزامات کا بہانہ بنا کر معاہدے کو یکطرفہ طور پر التوا میں ڈالنے اور پانی روکنے کی جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، چین کی شمولیت سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔سینئر صحافی اور تجزیہ کار اصغر علی مبارک کا یہ نکتہ انتہائی بروقت اور جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس (Geopolitics) کے لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ چین کو اس سندھ طاس معاہدےکا کلیدی حصہ ہونا چاہیے اور اسے سندھ طاس معاہدے میں شراکت دار ہونا چاہیے, ہفتہ وار پریس بریفنگ میں سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے سوال پر کہ چین کو سندھ طاس معاہدے کا کلیدی حصہ اور شراکت دار ہونا چاہیے, چونکہ زیادہ تر دریا چین سے نکلتے ہیں، اس لیے پاکستان اس سلسلے میں کیا کر رہا ہے؟
جوا ب میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا کسی کو مجبور کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا,۔ ترجمان نے سیمینار کا حوالہ دیا اور واضح کیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنی ہمت یا استطاعت نہیں کہ وہ پاکستان کا پانی روک کر اسے بنجر کر سکے۔ پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کے امن اور سکون کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی، جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں, پاکستان کا دوٹوک موقف رہا ہے پانی کو سیاسی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اورپاکستان کواس کےجائزحصے سےمحروم کرنےکی کوئی بھی کوشش خطے کےامن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی, سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی نام نہاد معطلی یا اس سے انحراف کی بھارتی کوشش غیرقانونی،یکطرفہ بین الاقوامی قانون کے منافی ہے
ترجمان دفترخارجہ نے کہاکہ’سندھ طاس معاہدہ، امن اورعلاقائی استحکام کا ضامن‘ کے عنوان سے ہونے والی تقریب میں سیاسی رہنماؤں،قانونی ماہرین، بین الاقوامی اسکالرز، سفارتی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستان نے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے یا اس سے پیچھے ہٹنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور عالمی قانون کے سراسر خلاف ہوگی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے اہم بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی بھی نام نہاد کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور بے بنیاد ہے، جسے پاکستان پوری طاقت سے مسترد کرتا ہے اور پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مزید کہا کہ اصل پریشانی بھارتی قیادت کا وہ رویہ ہے جس کے تحت وہ پانی کو ایک ایسا اثاثہ سمجھ رہے ہیں جسے جب چاہیں روک لیں، موڑ دیں یا اپنے قابو میں کر لیں۔ ان کے مطابق اپنی مرضی سے قبضہ کرنے کی یہ سوچ نہ صرف پانی کے اس پرانے معاہدے کے خلاف ہے بلکہ عالمی قانون کے بھی خلاف ہے, پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا بھارت کے اپنے عالمی وعدوں کی خلاف ورزی ہوگی جس سے دنیا بھر میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔
ترجمان کےمطابق منعقدہ سیمینار میں سیاستدانوں،سفارتی برادری اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نے سندھ طاس معاہدےکوبرقرار رکھنے،تنازعات کے حل کےلیےسفارتی ذرائع اپنانے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان کی روک تھام پر زور دیا۔
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کا حق ناقابلِ تنسیخ ہے اور ملک ہر قیمت پر اس کا دفاع کرے گا۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین، بشمول واٹر لا ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر گیبریل ایکسٹین اور روسی سائنسی مرکز کی سربراہ ڈاکٹر روکسلانا زیگون، کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک 1960 کے اس تاریخی معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کر سکتا۔ کسی بھی تنازع کی صورت میں معاہدے کے اندر موجود سفارتی و مذاکراتی طریقہ کار کو ہی اپنانا لازم ہے۔ چیئرمین واپڈا اور دیگر دفاعی ماہرین کے مطابق، مغربی دریاؤں پر بھارت کے نئے یکطرفہ آبی منصوبے اور آبی جارحیت نہ صرف پاکستان کی غذائی اور توانائی کی سلامتی بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام اور امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ بھارت کی ان کوششوں کے جواب میں پاکستان کو داخلی اور بین الاقوامی سطح پر درج ذیل اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے پاکستان کو اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور عالمی بینک جو اس معاہدے کا ضامن ہے اسکے سامنے بھارتی خلاف ورزیوں کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرنا چاہیے ملکی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر نئے ڈیمز اور آبی ذخائر کی تعمیر کو تیز کرنا ہوگا تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ روایتی طریقوں کے بجائے ڈرپ اریگیشن اور پانی کی ری سائیکلنگ کے جدید نظام کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔سینئر صحافی اور تجزیہ کار اصغر علی مبارک کا یہ نکتہ انتہائی بروقت اور جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس کے لحاظ سے نہایت اہم ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ حالیہ بین الاقوامی سیمینار (“Indus Water Treaty: An Instrument of Peace & Regional Stability”) میں بین الاقوامی ماہرین اور خاص طور پر چین کے ممتاز پالیسی تھنک ٹینک ‘سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن’ (CCG) کے صدر وکٹر گاؤ (Victor Gao) نے بالکل یہی موقف اپنایا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی پائیداری کے لیے چین کو اس کا شراکت دار بنانا اب وقت کی ضرورت بن چکا ہے اس تجویز کے پیچھے چھپے بنیادی قانونی، جغرافیائی اور تزویراتی محرکات ہیں: جغرافیائی طور پر سچ یہ ہے کہ بھارت بذاتِ خود سب سے اوپری ملک نہیں ہے۔سندھ طاس کے نظام کا ایک بڑا حصہ اور کئی اہم ہمالیائی دریا تبت (چین) کے علاقے سے نکلتے ہیں۔دریائے سندھ تبت سے نکل کر لداخ کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے چین اس پورے آبی نظام کا اصل نقطہ آغاز ہے
چینی ماہرین نے سیمینار میں خبردار کیا کہ پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا “جنگی جرم” کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اگر بھارت پاکستان کا پانی روکنے کی غیر قانونی کوشش کرے گا، تو چین جو کہ بھارت سے اوپر کا ملک ہے بھارت کی طرف جانے والے دریاؤں جیسے برہم پترا کا پانی روکنے کا وہی طریقہ کار بھارت کے خلاف بھی اپنا سکتا ہے۔ 1960 کا اصل معاہدہ صرف دو ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیوں ، گلیشیئرز کے پگھلنے اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے باعث اب پورے خطے کے واٹر شیڈ کو یکجا دیکھنے کی ضرورت ہے ، اگر چین اس معاہدے کا باقاعدہ حصہ بن جاتا ہے، تو یہ صرف پاکستان اور بھارت کا تنازع نہیں رہے گا بلکہ ایک سہ فریقی علاقائی فورم بن جائے گا، جہاں بھارت کے لیے یکطرفہ طور پر کوئی بھی فیصلہ کرنا یا دھمکی دینا ناممکن ہو جائے گا
عالمی سیمینار اور ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی نے پاکستان کا تفصیلی قانونی موقف پیش کیا ہے, پاکستان نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو التوا (Abeyance) میں ڈالنے کے اعلان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے “غیر قانونی، یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ اس معاہدے میں یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی کوئی شق موجود ہی نہیں, پاکستان نے بھارت کی جانب سے 2025 کے پہلگام حملے اور دہشت گردی کے الزامات کو معاہدہ معطل کرنے کا بہانہ بنانے کی کوشش کو یکسر رد کیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق، اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ بھارتی قیادت کی وہ سوچ ہے جس کے تحت وہ ایک بین الاقوامی مشترکہ دریا کے نظام کو ایک “تزویراتی اثاثے” کے طور پر کنٹرول یا موڑنا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کے 25 کروڑ شہریوں کی زندگی، معیشت اور زراعت کا انحصار ان دریاؤں پر ہے۔ پاکستانی قیادت نے دوٹوک الفاظ میں انتباہ کیا ہے کہ اگر بھارت نے پانی کا رخ موڑنے یا پاکستان کا پانی روکنے کی عملی کوشش کی تو اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان کے خلاف “اعلانِ جنگ” تصور کیا جائے گا,پاکستان نے ہیگ میں قائم ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بھی پاکستان کے موقف کی توثیق کی ہے کہ یہ معاہدہ ایک مستقل قانونی نظام ہے جسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا پاکستان کے انتباہ اور عالمی سیمینار کے جواب میں نئی دہلی میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال اور وزیرِ جل شکتی سی آر پاٹل نے انتہائی سخت بیانات جاری کیے ہیں بھارت نے ہیگ کی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو “غیر قانونی اور کالعدم” قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ وہ اس عدالت کی تشکیل کو ہی تسلیم نہیں کرتا ,ایسا معاہدہ جو جنگوں، بحرانوں اور کئی دہائیوں پر محیط سیاسی مخاصمت کے باوجود برقرار رہے، لیکن صرف اس لیے یکطرفہ طور پر ایک طرف رکھ دیا جائے کہ وہ سیاسی طور پر غیر موزوں ہے، بین الاقوامی معاہدوں کے مستقبل کے بارے میں کئی بے چین کر دینے والے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی بھارت کی مسلسل کوشش نے اس معاملے کو، جو کبھی ایک دوطرفہ تنازع سمجھا جاتا تھا، ایک کہیں بڑے مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے، جس کا تعلق معاہدوں کی حرمت، مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور خود بین الاقوامی قانونی نظام کے استحکام سے ہے۔ پاکستان کے خدشات فرضی نہیں ہیں۔ وہ صرف بیانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر بھی مبنی ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی یہ تنبیہ کہ بھارت کم از کم 17 منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن کا مقصد دریائے سندھ کے نظام میں تبدیلی لانا ہے، سنجیدہ بین الاقوامی توجہ کی مستحق ہے، کیونکہ اس کے مضمرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ پانی محض ایک اور اسٹرٹیجک وسیلہ نہیں ہے۔ کروڑوں انسانوں کے لیے یہ بقا، زراعت، معاشی سرگرمی اور صحتِ عامہ کی بنیادی ضرورت ہے۔ سندھ طاس معاہدہ خاص طور پر اس مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا کہ پانی سے متعلق تعاون کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے۔ یہ ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد جنگوں، شدید کشیدگی کے ادوار اور بے شمار سیاسی بحرانوں کے باوجود قائم رہا۔ یہ ان چند پائیدار ادارہ جاتی انتظامات میں شامل تھا جو دوطرفہ تعلقات کے دیگر شعبوں میں گہرے اختلافات کے باوجود مؤثر انداز میں کام کرتے رہے۔ یہی تاریخی پس منظر موجودہ صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیتا ہے۔ بھارت کا معاہدے کے فریم ورک میں اپنی شرکت معطل کرنا اور ایسے منصوبوں پر عمل کرنا جنہیں پاکستان دریائی نظام کی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، نہ صرف خود اس معاہدے بلکہ اس بنیادی اصول کے لیے بھی چیلنج ہے کہ معاہداتی ذمہ داریاں سیاسی حالات کی تبدیلی سے قطع نظر برقرار رہنی چاہییں۔ ایسی مثال کے نتائج نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ میں متعدد مشترکہ دریائی نظام موجود ہیں۔ دریاؤں کے بالائی اور زیریں بہاؤ والے ممالک معمول کے مطابق پانی کی تقسیم، ذخیرہ، سیلابی انتظام اور تنازعات کے حل کے لیے معاہدوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر معاہداتی ذمہ داریوں کو جب چاہا سیاسی مصلحت کی بنیاد پر دوبارہ تعبیر کیا جا سکے یا معطل کیا جا سکے تو اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صرف دریائے سندھ کے طاس تک محدود نہیں رہے گی۔ لہٰذا پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر معقول ہے۔ ملک تصادم کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ وہ اب بھی مذاکرات، سفارت کاری اور قائم شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ یہی وہ طریقۂ کار ہے جس کا تصور خود معاہدے میں کیا گیا تھا۔ اختلافات پیدا ہونا ہمیشہ متوقع تھے۔ معاہدے میں ان اختلافات کے حل کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے۔ یکطرفہ اقدام ان طریقوں میں کبھی شامل نہیں تھا۔ اس مسئلے کا ایک نہایت گہرا انسانی پہلو بھی ہے۔ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کے کروڑوں شہریوں کے روزگار کا ذریعہ ہے اور دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظاموں میں سے ایک کی بنیاد بھی ہے۔ پانی کے بہاؤ کو دانستہ طور پر تبدیل کرنے، محدود کرنے یا اسٹرٹیجک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش لازماً غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور انسانی فلاح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی پانی کی شدید قلت موجود ہو، پانی کی کمی کے نتائج دریا کے انتظام سے متعلق تکنیکی تنازعات سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔ وقت کا انتخاب بھی اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی فی کس پانی کی دستیابی میں مسلسل کمی، موسمیاتی دباؤ میں اضافے اور پانی کے بہاؤ میں بڑھتے ہوئے تغیر کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سرحد پار آبی انتظامات کے بارے میں غیر یقینی ایسے خطرات پیدا کرتی ہے جنہیں کوئی بھی ذمہ دار حکومت نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بھارت کے اقدامات اس کی وسیع تر بین الاقوامی امنگوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ عالمی امور میں زیادہ مؤثر کردار کے خواہاں ممالک سے عمومی طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کو مضبوط کریں گے، نہ کہ انہیں کمزور کریں گے۔ معاہداتی ذمہ داریوں کا احترام ہمیشہ سے ایک قابلِ پیش گوئی بین الاقوامی نظام کی بنیادی اساس سمجھا جاتا رہا ہے۔ معاہدوں پر منتخب انداز میں عمل درآمد نہ صرف مخصوص معاہدوں بلکہ ان وسیع تر اصولوں اور قوانین پر بھی اعتماد کو مجروح کرتا ہے جن پر بین الاقوامی تعاون کا پورا نظام قائم ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی برادری کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو معمول بنانے کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ آج یہ تنازع سندھ طاس سے متعلق ہے، کل دنیا کے کسی بھی سرحد پار دریائی نظام سے متعلق ہو سکتا ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ اصول قائم ہو جاتا ہے تو اس کا اطلاق عموماً صرف ایک ہی معاملے تک محدود نہیں رہتا۔ سوال یہ ہے کہ آیا معاہدے اس وقت بھی پابند رہتے ہیں جب وہ سیاسی طور پر غیر موزوں ہو جائیں، یا پھر صرف طاقت ہی نتائج کا تعین کرتی ہے۔ پاکستان درست طور پر اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ معاہداتی ذمہ داریوں کی اہمیت برقرار رہنی چاہیے۔ اس کے برعکس صورت دنیا کے بہت سے خطوں میں ایسی غیر یقینی پیدا کر دے گی جس کا متحمل بہت کم علاقے ہو سکتے ہیں، اور جسے کوئی بھی ذمہ دار بین الاقوامی نظام قبول نہیں کر سکتا۔سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں نو سال کے طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، جس میں عالمی بینک کا کردار اور معاہدے کی قانونی شقیں اس کے تسلسل کی ضامن ہیں۔ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں اصل معاہدے کی قانونی شقیں اور عالمی بینک کا حالیہ کردار انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اصل معاہدہ پر صدر ایوب خان اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دستخط ہیں انتہائی مضبوط قانونی بنیادوں پر قائم ہے معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس، ستلج) کا پانی بھارت کو جبکہ مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب) کا 80 فیصد پانی پاکستان کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف محدود مقاصد (جیسے بغیر پانی روکنے والے رن آف دی ریور پن بجلی منصوبے) کی اجازت ہے معاہدے کی شق 12(4) کے مطابق، اس معاہدے کو کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر ختم یا تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس میں ترمیم صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان اور بھارت دونوں ممالک مشترکہ طور پر کسی نئی دستاویز پر دستخط کریں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور بین الاقوامی قانون (جیسے ویانا کنونشن 1969) بھی اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ بھارت کا یکطرفہ معطلی کا اقدام غیر قانونی ہے۔ معاہدے میں تنازعات کو حل کرنے کے لیے تین درجاتی میکانزم دیا گیا ہے دونوں ممالک کے کمشنرز کے درمیان براہِ راست مذاکرات۔غیر جانبدار ماہر : تکنیکی اختلافات کی صورت میں عالمی بینک کی طرف سے تقرری۔ثالثی عدالت مستقل قانونی یا ساختی تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی عدالت۔ عالمی بینک کا حالیہ اور تاریخی کردارعالمی بینک اس معاہدے میں محض ایک گواہ نہیں، بلکہ اس کا ثالث، ضامن اور دستخط کنندہ ہے۔ 1950 کی دہائی میں عالمی بینک کے صدر یوجین بلیک کی کوششوں سے یہ معاہدہ ممکن ہوا، اور بینک نے پاکستان میں متبادل نہروں اور ڈیموں (جیسے منگلا اور تربیلا ڈیم) کی تعمیر کے لیے مالیاتی فنڈز بھی فراہم کیے۔تنازعِ کشن گنگا اور رتلے ڈیمز پر حالیہ کردار: حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے دریائے جہلم اور چناب پر متنازع کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر پر پاکستان نے شدید اعتراضات اٹھائے۔ پاکستان نے “ثالثی عدالت” قائم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ بھارت نے “غیر جانبدار ماہر” کی تقرری کا اصرار کیا۔ طویل تعطل کے بعد، عالمی بینک نے معاہدے کو بچانے کے لیے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا اور دونوں میکانزم بیک وقت فعال کر دیے۔ بینک نے ثالثی عدالت کے چیئرمین اور غیر جانبدار ماہر دونوں کی تقرری کی تاکہ متوازی طور پر تکنیکی اور قانونی جائزے لیے جا سکیں۔

X