LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) تاریخی سنگِ میل: پاک-کینیا تجارت 1 ارب ڈالر سے تجاوز، برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

اسلام آباد  (سہ پہر) نیروبی –پاکستان کی معاشی سفارت کاری میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر، پاکستان اور کینیا کے درمیان دوطرفہ تجارت نے باضابطہ طور پر 1 ارب امریکی ڈالر کی اہم حد عبور کر لی ہے، جو کہ 1.023 ارب امریکی ڈالر کی بے مثال سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال 2025/26 کے دوران کینیا کو پاکستان کی برآمدات 434.7 ملین امریکی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی تاریخ میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی برآمدی مالیت ہے۔یہ شاندار کامیابی دونوں ممالک کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے اقتصادی تعلقات اور کینیا میں پاکستان ہائی کمیشن کے کمرشل سیکشن کی انتھک لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سٹریٹجک پلاننگ اور مسلسل مارکیٹ روابط کے ذریعے، کمرشل کونسلر نے کینیا کے سرکاری اداروں، علاقائی چیمبرز آف کامرس، معروف تجارتی تنظیموں اور نجی کاروباری اداروں کے ساتھ فعال تعاون کر کے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے انتہائی اہم راہیں کھولیں ہیں۔گزشتہ دو سالوں میں قائم کی جانے والی ٹھوس بنیاد نے اس تاریخی معاشی کارکردگی کی راہ ہموار کی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان ٹریڈ مشن کے حاصل کردہ چند اہم سنگِ میل درج ذیل ہیں:انتہائی موثر تجارتی وفود: ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے زیرِ اہتمام پاکستان میں منعقد ہونے والی پانچ بڑی تجارتی نمائشوں بشمول FoodAg ،HEMS ،PATDC ،TEXPO اور WHX میں شرکت کے لیے کینیا کے کاروباری وفود کی میرٹ پر تشکیل، جس کے نتیجے میں کینیا کے خریداروں نے موقع پر ہی لاکھوں ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے۔چاول کے برآمد کنندگان کے لیے کسٹمز ٹیرف میں بڑی ریلیف: کینیا ریونیو اتھارٹی (KRA) کے ساتھ کامیاب سفارتی لابنگ کے ذریعے پاکستانی چاول کی کسٹم ویلیو ایشن کو 615 امریکی ڈالر سے کم کروا کر 450 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن کروانا، جس سے درآمدی لاگت نمایاں طور پر کم ہوئی اور کینیا کی مارکیٹ میں پاکستانی چاول انتہائی مسابقتی بن گیا۔فارماسیوٹیکل سیکٹر (ادویات) میں اہم پیش رفت: کینیا کے ‘فارمیسی اینڈ پوائزنز بورڈ’ سے 35 سے زائد پاکستانی فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی تکنیکی مانیٹرنگ اور باضابطہ رجسٹریشن کے عمل کی قیادت کرنا، جس سے پاکستانی ادویات کے لیے مشرقی افریقہ کی ہیلتھ کیئر مارکیٹ کے دروازے کھل گئے۔پہلی فزیکل جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی: پاک-کینیا جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی (JTC) کے دوسرے اجلاس کا انعقاد، جو تجارتی تاریخ میں پہلی بار فزیکلی (آمنے سامنے) منعقد ہوا تاکہ ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور اور دوطرفہ کاروبار کو تیز کیا جا سکے۔ایسٹ افریقن کمیونٹی (EAC) کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ اور باسمتی چاول کا تحفظ: مشرقی افریقی کمیونٹی (EAC) کے ساتھ جامع فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کے لیے مذاکرات کو تیزی سے آگے بڑھانا، اور ساتھ ہی باسمتی چاول کے جیوگرافیکل انڈیکیشن (GI) کیس کی قانونی پیروی کو مضبوطی سے سنبھالنا، جس میں پاکستان کے حق میں سازگار نتائج کے لیے قوی امیدیں وابستہ ہیں۔پاکستان ہائی کمیشن برآمدی پورٹ فولیو کو مزید وسعت دینے، ترقی کے اس مثبت تسلسل کو برقرار رکھنے اور مشرقی افریقہ میں پاکستان کو ایک اولین اقتصادی شراکت دار کے طور پر مضبوط کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے

X