اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان کا بھارت کو پانی روکنے کی دھمکی پر کرارا جواب
اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان نے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے یا اس سے پیچھے ہٹنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور عالمی قانون کے سراسر خلاف ہوگی۔
سینئر پاکستانی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے اس سوال پر کہ سیمینار کے ماہرین بشمول ورلڈ بینک اور دیگر نے یہ نکتہ اٹھایا کہ چین کو اس کا کلیدی حصہ ہونا چاہیے اور اسے سندھ طاس معاہدے میں شراکت دار ہونا چاہیے۔ چونکہ زیادہ تر دریا وہیں سے نکلتے ہیں، اس لیے پاکستان اس سلسلے میں کیا کر رہا ہے؟
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا کسی کو مجبور کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان نے پچھلے دنوں ہونے والے سیمینار کا حوالہ دیا اور واضح کیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنی ہمت یا استطاعت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک کر اسے بنجر کر سکے۔ پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کے امن اور سکون کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی، جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اہم بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی بھی نام نہاد کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور بے بنیاد ہے، جسے پاکستان پوری طاقت سے مسترد کرتا ہے اور پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ طاہر اندرابی نے بھارتی سوچ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اصل پریشانی بھارتی قیادت کا وہ رویہ ہے جس کے تحت وہ پانی کو ایک ایسا اثاثہ سمجھ رہے ہیں جسے جب چاہیں روک لیں، موڑ دیں یا اپنے قابو میں کر لیں۔ ان کے مطابق اپنی مرضی سے قبضہ کرنے کی یہ سوچ نہ صرف پانی کے اس پرانے معاہدے کے خلاف ہے بلکہ عالمی قانون کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا بھارت کے اپنے عالمی وعدوں کی خلاف ورزی ہوگی جس سے دنیا بھر میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ اسی بریفنگ کے دوران ترجمان نے وزیراعظم شہباز شریف کے اہم ترین غیر ملکی دوروں کی تفصیلات بتاتے ہوئے اعلان کیا کہ وزیراعظم تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکیہ کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم اپنے اس دورے پر روانہ ہوں گے اور ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی کابینہ کے دیگر اہم وزرا بھی شامل ہوں گے۔ طاہر اندرابی کے مطابق وزیراعظم ایران جا کر وہاں کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے اور دکھ کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا مکرر اظہار کریں گے۔ اس کے بعد وزیراعظم ترک صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول جائیں گے، جہاں وہ ایک بڑی کاروباری کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ طاہر انداربی نے آخر میں قطر میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ دونوں ممالک بات چیت جاری رکھنے پر راضی ہو چکے ہیں اور اگلا اجلاس ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین کے بعد ہوگا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ملک میں ہونے والے حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی سمیت دیگر علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں اٹھائیس جون کو باجوڑ میں ایک بڑے آپریشن کے دوران چار دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، جن میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا بڑا کمانڈر خان فروش عبدالزبل بھی شامل ہے، جبکہ باقی تین دہشتگردوں کا تعلق بھارت کی شہ پانے والی جماعت الاحرار سے تھا۔ ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اور ملکی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق، اس معاملے پر اگلا بڑا قدم اٹھاتے ہوئے انتیس جون کو افغان ناظم الامور کو پاکستان کے دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور کراچی میں ہونے والے دہشتگرد حملے پر افغان حکام کو سخت احتجاجی خط یعنی ڈیمارش دیا گیا۔ اسی طرح کابل میں موجود پاکستان کے سفیر نے بھی افغان وزارتِ خارجہ کو یہ احتجاجی خط پیش کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ سخت قدم اس بنیاد پر اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان شہریوں کی شمولیت صاف سامنے آئی ہے اور ایک افغان حملہ آور کو زندہ بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام شواہد سے یہ بات سچ ثابت ہو چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزارتِ داخلہ نے حکم جاری کر دیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان شہریوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اور جو بھی افغان شہری بغیر ویزے یا قانونی کاغذات کے رہ رہا ہے، اسے گرفتار کیا جائے۔