لاہور (سہ پہر) پلاک کے نئے ڈائریکٹر جنرل محمد اسلم شاہد کا انقلابی عزم
لاہور (سہ پہر) حال ہی میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پی آئی ایل اے سی) لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر چارج سنبھالنے والے ڈائریکٹر جنرل محمد اسلم شاہد کا کہنا ہے – کہ 2004ء میں قائم ہونے والا حکومتِ پنجاب کا یہ ممتاز ثقافتی ادارہ صوبے کی لسانی ، ادبی ، ثقافتی اور فنی روایات کے تحفظ ، فروغ اور ترویج کےلیے انتھک کام کر رہا ہے ۔ ادارے کا قیام اس احساس کے تحت عمل میں لایا گیا کہ پنجاب کے عظیم تہذیبی ورثے ، علاقائی زبانوں ، لوک دانش اور فنونِ لطیفہ کو نہ صرف محفوظ رکھا جائے بلکہ انہیں عصری تقاضوں کے مطابق نئی نسل تک بھی منتقل کیا جائے ۔
انکا کہنا ہے کہ
پِلاک کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے ۔ یہ ادارہ پنجابی ، سرائیکی ، پوٹھوہاری اور پنجاب کی دیگر علاقائی زبانوں کی ترویج ، ادبی تخلیقات کی اشاعت ، تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی اور کلاسیکی و معاصر ادبی ورثے کی دستاویز بندی کا فریضہ انجام دیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ لوک موسیقی ، تھیٹرز ، مصوری ، دستکاری اور دیگر فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے مختلف تقریبات ، ورکشاپس، سیمینارز، کانفرنسوں اور ثقافتی میلوں کا انعقاد بھی پلاک کی نمایاں سرگرمیوں میں شامل ہے ۔ ہمارا یہ ادارہ ایک FM ریڈیو نیٹ ورک بھی چلاتا ہے جس میں پاکستان کے اولین (اور مقبول ترین) پنجابی ریڈیو سٹیشن ایف۔ایم 95 پنجاب رنگ- لاہور کے علاوہ راولپنڈی اور ملتان کے ریڈیو چینل شامل ہیں – ان سے پنجاب کی ثقافت ، ادب ، موسیقی اور زبان کے بارے میں دلچسپ اور معلوماتی پروگرام نشر ہوتے ہیں – مختلف ادبی سرگرمیوں کے فروغ کو پِلاک کے مقاصد میں نمایاں حیثیت حاصل ہے – اہم مواقع پر علمی و ادبی کانفرنسوں، سیمیناروں اور مشاعروں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ پِلاک ہر سال پنجاب کے اہم ادیبوں، فنکاروں اور دستکاروں کی حوصلہ افزائی کےلئے خطیر مالی معاونت بھی کرتا ہے – نیز سالانہ “پلاک بیسٹ بُک ایوارڈ” کے ذریعے پنجابی زبان و ادب اور تحقیق پر مبنی نئی کتابوں کو قابلِ ذکر نقد انعامات اور اعزازات سے نوازا جاتا ہے-
محمد اسلم شاہد کا کہنا ہے کہ ادارہ پنجاب کے ثقافتی ورثے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ مختلف ممالک کے ثقافتی اداروں کے ساتھ روابط ، مشترکہ پروگراموں کے انعقاد اور بین الاقوامی وفود کے تبادلوں کے ذریعے پلاک ثقافتی سفارت کاری کو فروغ دیتا ہے ، جس سے پنجاب کا مثبت تشخص عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے ۔ اسی ضمن میں ایک نمایاں پیشرفت دوست ملک چین کا پِلاک میں قائم شدہ “جیانگسو کلچرل سینٹر” بھی ہے جو چینی زبان سکھانے کے ایک مستند مرکز کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے باہمی ثقافتی روابط کو مضبوط تر کرنے میں قابلِ ذکر کردار ادا کر رہا ہے –
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب گلوبلائزیشن اور تیز رفتار سماجی تبدیلیاں مقامی زبانوں اور ثقافتی روایات کے لئے چیلنج بن رہی ہیں پلاک کی اہمیت اور ذمہ داریاں دوچند ہو جاتی ہیں ۔ یہ ادارہ نہ صرف پنجاب کی تہذیبی شناخت کے تحفظ کا ضامن ہے بلکہ نئی نسل میں اپنی زبان ، تاریخ اور ثقافت سے وابستگی پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے ۔
پِلاک کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر انشاء اللہ میری کوشش ہوگی کہ پنجاب کے کلچر، آرٹ اور زبانوں کے تحفظ اور فروغ نیز ثقافتی تنوع، سماجی ہم آہنگی، تخلیقی اظہار اور فکری ہم آہنگی کی ترویج کےلئے پہلے سے کوشاں اس ادارے کے کردار اور منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے اور صوبے کے طول و عرض ، بالخصوص پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے باصلاحیت ادیبوں ، شاعروں ، فنکاروں اور دیگر شعبوں سے وابستہ ماہرین کی حوصلہ افزائی کےلئے نئے پروگرام بھی شروع کئے جائیں گے –
عوام سےگزارش ہے کہ ہمارے لئے نیک خواہشات کے اظہار کے ساتھ ساتھ پِلاک کے مختلف منصوبوں سے بہتر آگاہی حاصل کریں ، ہمیں میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ سپورٹ کریں اور اس کے تحت منعقدہ مختلف ایونٹس میں بھرپور شرکت فرمائیں – اس کے ساتھ ہی پلاک آپ کی قابلِ قدر آراء اور مثبت ، تعمیری تجاویز کا شدت سے منتظر رہے گا اور ان کی روشنی میں ہم اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی سنجیدہ اور پُرخلوص کوششیں جاری رکھیں گے –

