اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان ورکرز فیڈریشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری محمد یٰسین، جنرل سیکرٹری اسد محمود، صدر شوکت علی انجم، چیئرمین عبدالرحمان عاصی اور دیگر عہدیداران نے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین، محنت کشوں اور پنشنرز کے لیے ریلیف پیکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوشربا مہنگائی، بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے
اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان ورکرز فیڈریشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری محمد یٰسین، جنرل سیکرٹری اسد محمود، صدر شوکت علی انجم، چیئرمین عبدالرحمان عاصی اور دیگر عہدیداران نے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین، محنت کشوں اور پنشنرز کے لیے ریلیف پیکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوشربا مہنگائی، بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے،سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن موجودہ معاشی حالات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہو چکی ہیں جس کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں مناسب اضافہ کرے تاکہ ان کی قوتِ خرید بحال ہو سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزدور کی کم از کم اجرت 70 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے، چاروں ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے تمام پے سکیلز پر نظرِثانی کی جائے جبکہ ملازمین کے کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں کم از کم 200 فیصد اضافہ کیا جائے۔
مزدوررہنماؤں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں آؤٹ سورسنگ اور نجکاری کی پالیسی سے ملازمین میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے لہٰذا سی ڈی اے سمیت دیگر سرکاری اداروں میں آؤٹ سورسنگ کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور کنٹریکٹ و ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ حکومت محنت کش طبقے کے لیے سوشل سکیورٹی، ہیلتھ انشورنس اور ویلفیئر اسکیموں کا دائرہ کار وسیع کرے جبکہ تمام لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر انھوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت بجٹ میں محنت کشوں، سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے جائز مطالبات کو ترجیح دے گی تاکہ موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کو کچھ ریلیف مل سکے اور ان کے معاشی مسائل میں کمی واقع ہو۔