اسلام آباد (اردو ٹائمز) `ایران بات چیت کیلئے تیار; امریکی صدرکاڈیل کیلئے اصرار
اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران بات چیت کیلئے تیارہے جبکہ امریکی صدر نے ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرارکیاہےدوسری جانب ,وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملاقات کی ہے جس دوران عباس عراقچی نے وزیراعظم کو ایرانی قیادت کے مؤقف سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔وزیراعظم اور عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے ۔ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔عباس عراقچی نے وزیراعظم کو ایرانی قیادت کے مؤقف سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا،ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکراتی امور پر خدشات سے متعلق پاکستانی قیادت کو اعتماد میں لیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن و استحکام کیلئے سفارتی کوششوں کے فروغ پر زور دیا، پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے تسلسل کی اہمیت پر زوردیا گیا ۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا،ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔دونوں ممالک نے امن، استحکام اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔ ایرانی سفارتخانےکی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےپہلی باضابطہ ملاقات فیلڈمارشل عاصم منیرسےملاقات کی، ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک بھی موجود تھے۔ ایران کے نائب وزیرخارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد عباس عراقچی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ’جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت‘ پر تبادلۂ خیال کیا اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ’اپنی سوچ اور مؤقف‘ بیان کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ اس دوران پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے کی تازہ صورتحال پر غور کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سہولت کاری کے عمل سے متعلق پاکستان کا سرکاری مؤقف صرف وہی ہے جو وزارت خارجہ یا دیگر سرکاری ذرائع سے جاری کیا جاتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پرنٹ یا سوشل میڈیا میں بے نام پاکستانی حکام یا ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبریں پاکستان کے سرکاری مؤقف کی عکاسی نہیں کرتیں۔واضح رہے کہ پاکستان
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن چکا ہے۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق اہم پیش رفت درج ذیل ہے:
امریکی وفد کی آمد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے نئے دور کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔ امریکی صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران ایک ایسی پیشکش کر رہا ہے جو امریکی مطالبات (بالخصوص جوہری پروگرام کے خاتمے) کو پورا کر سکتی ہے۔
ایرانی موقف: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کو اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اگرچہ ایران نے فی الحال امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم وہ پاکستان کے ذریعے اپنی تجاویز واشنگٹن تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کا کردار: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے کے وسیع تر مفاد میں ایران اور امریکہ کے درمیان “سہولت کار” کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستانی حکام کی درخواست پر ہی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی (Ceasefire) میں توسیع کی ہے تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کا اصرار: امریکی صدر ایک ایسی نئی ڈیل پر اصرار کر رہے ہیں جو ان کے بقول 2015 کے معاہدے سے بہتر ہو اور جس میں ایران جوہری افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔ اس صورتحال میں پاکستان ایک “پل” کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا ہےکہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے،دیکھنا ہےایران کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں،دیکھتے ہیں ایران کس قسم کی پیش کش لاتا ہے۔برطانوی خبررساں ایجنسی سےگفتگو میں امریکی صدر نےکہاہے کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئےبات چیت کرناچاہتاہے،تہران امریکی مطالبات کےمطابق پیش کش دینا چاہتاہے،ہم ایران میں ان لوگوں سےمذاکرات کررہے ہیں جو بااختیار ہیں,
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نےکہاہے کہ امریکا ایران پرمعاشی دباؤ بڑھا رہا ہے،امریکا ایران کی غیر قانونی تیل کی تجارت کو روکنےکیلئےفیصلہ کن اقدامات کررہا ہے،ایرانی تجارت کوسہارا دینے والے نیٹ ورک پردباؤ میں اضافہ کرینگے،ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا آپریشن اکنامک فیوری کا حصہ ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کاکہنا ہےکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں،چین میں قائم آئل ریفائنری، 40 شپنگ کمپنیوں اورآئل ٹینکرپرپابندیاں لگائی گئی ہے،پابندیاں ان پر لگائی گئی ہیں جو ایران کے ساتھ کاروبار اورتیل منتقل کرنےمیں ملوث ہیں،امریکاایران کےساتھ تیل کاکاروبارکوروکنے مزید سخت اقدامات کر رہا ہے۔واضح رہے کہ جون 2025 میں، جب امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ایرانی وفد کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے، اس دوران امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیاتھا۔ مسقط مذاکرات کے تلخ تجربے کے بعد، امریکی ایلچیوں (وٹکوف اور کشنر) کی اسلام آباد میں موجودگی ایک انتہائی نازک سفارتی موڑ ہے۔ اس وقت صورتحال کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
اعتماد کا شدید فقدان: ایرانی حکام کا موقف ہے کہ مسقط مذاکرات کے دوران حملہ ایک “سفارتی دھوکہ” تھا، اس لیے وہ اب کسی بھی نئی ڈیل سے پہلے ٹھوس ضمانتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جوہری پروگرام پر تعطل: ایران کے سخت گیر حلقے جوہری افزودگی کو ملکی بقا کا ضامن سمجھتے ہیں اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کے مخالف ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کا بنیادی مطالبہ ہی جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ ہے۔
پاکستان کا مشکل ترین امتحان: اسلام آباد اس وقت ایک ایسی “سہولت کاری” کر رہا ہے جہاں دونوں فریقین ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی طرح جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں بدلا جائے تاکہ خطہ مزید فوجی کارروائیوں سے بچ سکے۔
فوجی تیاری بمقابلہ سفارت کاری: ایران کی جانب سے فوجی تیاریوں پر زور اور امریکہ کا بنکر بسٹر ٹیکنالوجی کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کے پس منظر میں اب بھی طاقت کا استعمال ایک آپشن کے طور پر موجود ہے۔
مذاکرات کی سمت اب بھی غیر واضح ہے، لیکن پاکستان کی سرزمین پر ان دونوں وفود کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ شاید “بند گلی” سے نکلنے کا کوئی خفیہ راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایاتھا، جس کے لیے بنکر بسٹر گولہ بارود سے لیس بی ٹو بمبار طیارے استعمال کیے گئے۔ اس کے بعد سے ان دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے اور ایسے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔اسی سال فروری میں، وٹکوف اور کشنر نے مسقط میں عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔ ان سفارتی کوششوں کے دوران ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاتھا کہ وہ مذاکرات کے انداز سے ’خوش نہیں‘ ہیں۔ اب یہی امریکی ایلچی مذاکرات کے لیے پاکستان ہیں۔ ایرانی حکام بدستور گہرے شکوک کا اظہار کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے، ساتھ ہی وہ فوجی تیاری پر زور دیتے ہیں۔ سخت گیر حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام زیر بحث نہیں آ سکتا، حالانکہ صدر ٹرمپ نے جوہری افزودگی کو ایران پر حملے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا تھا۔جو مذاکرات تعطل کا شکار تھے، وہ اب آگے بڑھتے تو دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی سمت واضح نہیں۔
امریکی سینٹ کام کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہےکہ امریکی فوج نے ایرانی پرچم والے ایک اور بحری جہاز کو روک دیا،ایرانی جہاز کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر روکا گیا،بحری جہاز ایرانی بندرگاہ کی طرف جارہا تھا۔ایرانی پاسداران انقلاب نے براہ راست مذاکرات کی درخواست کا وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیاہے, جاری بیان میں کہا کہ امریکا طرف سےبراہ راست مذاکرات کی باتیں جھوٹ ہیں،امریکی ناانصافیوں کے باعث مذاکرات کا کوئی فیصلہ نہیں ہواہے۔
ترجمان ایرانی وزارت دفاع رضاطلائی نیک نے اپنےبیان میں کہامیزائلوں کابڑا ذخیرہ اب بھی موجود ہے، جسےاستعمال نہیں کیا گیا،جنگ بندی شروع ہونے تک دشمن کے زیرِکنٹرول علاقوں کی فضائی حدود پر کنٹرول تھا۔
ایرانی رہبراعلیٰ کےمشیرمحسن رضائی نےاپنےبیان میں کہا ایران متحداورامریکا الجھاؤکاشکارہے،ایرانی عوام یکجا اورایک آوازہیں،امریکا الجھن اورمسلسل اسٹریٹجک غلطیوں میں مبتلاہے،ایران کےبہادرفرزند امریکی طاقت کے ٹوٹنےکی آواز دنیا تک پہنچائیں گے۔
امریکی صدرکی دھمکیوں پر ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کےچیئرمین ابراہیم عزیزی نےردعمل دیتے ہوئےکہا امریکی صدرکو ایران کےبارے میں بات کرنےکا کوئی حق نہیں،انکی اپنی مقبولیت اٹھارہ فیصد گرگئی ہے،کانگریس میں مواخذے کی باتیں ہورہی ہیں،یہ جارح مزاج اورمجرم شخص اپنےکیےپرشدید پچھتائےگا۔
ایرانی آرمی چیف میجرجنرل امیرحاتمی نےکہا ہم ایرانی قوم اور انقلابی مسلمان ہیں،ہمارا اتحاد فولادی ہے،رہبر اعلیٰ کی قیادت میں مجرم جارح کو اپنے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کریں گے۔اس سے پہلے رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دشمن کی کوشش ہے قومی اتحاد اورسلامتی کو کمزور کیا جائے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن عوام کے ذہنوں اور نفسیات کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن عوامی اتحاد نے دشمن میں دراڑ ڈال دی۔ ہماری کسی غفلت سے دشمن کا مذموم منصوبہ کامیاب نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران میں کوئی شدت پسند یا اعتدال پسند نہیں، ہم سب ایرانی ہیں ۔ ہم سب انقلابی ہیں۔ قوم اور حکومت میں آہنی اتحاد اور رہبر انقلاب کی مکمل اطاعت ہے۔ حملہ آور مجرم کو اپنے اقدامات پر پچھتانا پڑے گا ۔۔ ایران کی فتح تک جدوجہد جاری رہے گی۔ ایکس پر پیغام میں کہا عوام پہلے سے زیادہ متحد ہیں، اسرائیل کی ناکامی ایران کے ریاستی اداروں کے اتحاد سے ظاہر ہوتی ہے۔ میدانِ جنگ اور سفارتکاری ایک ہی محاذ کے دو حصے ہیں اور ہم مکمل ہم آہنگی سے چل رہے ہیں۔گزشتہ روز ایرانی پاسداران انقلاب نےایک غیرملکی جہاز کو قبضےمیں لینےکا اعلان کیا،کہاامریکی فوج کے ساتھ تعاون کے شبے میں جہازکو تحویل میں لیا گیا،غیرملکی جہاز نے متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہابرطانیہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی قانون سازی کرے گا،ریاست کو نقصان پہنچانے والے گروہوں کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے، چند ہفتوں میں پارلیمنٹ کے نئے اجلاس میں قانون پیش کریں گے۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا امریکا ایران پرمعاشی دباؤ بڑھا رہا ہے،امریکا ایران کی غیر قانونی تیل کی تجارت کو روکنے کیلئے فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے ایرانی تجارت کو سہارا دینے والے نیٹ ورک پر دباؤ میں اضافہ کرینگے،ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا آپریشن اکنامک فیوری کا حصہ ہے۔ دوسری جانب روسی میڈیاکی جانب سےدعوی سامنےآیا ہےکہ امریکا مشرق وسطیٰ میں فوجی قوت بڑھانے لگا ہے،امریکا درجنوں طیارےمسلسل مشرق وسطیٰ پہنچارہا ہے،امریکی جنگی طیارے بغیر کسی تعطل کے مشرق وسطیٰ آرہے ہیں،امریکا خاموشی سے ری فیولنگ طیارے بھی اسرائیل پہنچارہا ہے۔ دوسری طرف عالمی ادارے بلوم برگ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیدوار میں 57فیصد کمی آگئی۔ عالمی ادارے کے مطابق آبنائے ہرمزکی بندش کی وجہ سے تیل کی پیدوار میں نمایاں کمی آئی، آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیجی ممالک کی تیل پیداوار میں بہت بڑی کمی آئی ہے امریکا اور ایران کےدرمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے،بین الاقوامی رپورٹس کےمطابق امریکا اور ایران کےدرمیان تجارتی جہازوں کوتحویل میں لینےسے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے،جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ خام تیل 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 97 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، برطانوی خام تیل میں 2 فیصد اضافہ، 107 ڈالرفی بیرل پر فروخت جاری ہے۔ اس سے پہلےایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد اسلام آباد پہنچا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وفد کا نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا ۔اس اہم دورے کا مقصد خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور پائیدار امن کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے, جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ عباس عراقچی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کو مختلف دفاعی اور سفارتی بحرانوں کا سامنا ہے، اور پاکستان اس تناظر میں اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے دورہ پاکستان کا اعلان کیا گیا تھا ، عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے کا آغاز کر رہا ہوں، دوروں کا مقصد شراکت داروں کے ساتھ علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے، ہمارے ہمسایہ ممالک ہماری اولین ترجیح ہیں۔ دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاوس نے بھی امریکی وفد اسٹیووٹکوف اور کشنراسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا ، وائٹ جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے پیش رفت نظر آرہی ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق جے ڈی وینس امریکا میں رہ کر صورتحال پر نظر رکھیں گے،ضرورت پڑنے پر سب کو پاکستان جانے کیلئے اسٹینڈ بائے رکھا جائے گا،امریکی وفد پاکستان کی ثالثی میں ہونیوالے مذاکرات کیلئے جارہا ہے،پورے مذاکراتی عمل میں پاکستان شاندار اور بہترین ثالث ثابت ہوا ہے۔
اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تجارتی جہازوں کو تحویل میں لینے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خام تیل 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 97 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، برطانوی خام تیل میں 2 فیصد اضافہ، 107 ڈالرفی بیرل پر فروخت جاری ہےاگرچہ ایرانی دفترِ خارجہ نے فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست ملاقات کی تردید کی ہے، تاہم پاکستانی وزارتِ خارجہ انٹیلی جنس اور سفارتی چینلز کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی منتقلی اور ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے کوشاں ہےیاد رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کہہ چکے ہیں کہ عباس عراقچی اس سفر کے دوران صرف اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقات کریں گے اور ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے امریکی صدر کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جو بھی معاہدہ طے پائے وہ دیرپا اور مستحکم ہو۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی خصوصی درخواست پر ہی امریکی صدر نے نہ صرف جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا بلکہ اسے کسی حتمی تاریخ کے بغیر کھلا چھوڑ دیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کے لیے بھرپور وقت مل سکے یہ سفارتی کوششیں صرف جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے آخری لمحات تک محدود نہیں تھیں بلکہ پاکستانی قیادت مسلسل دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں رہی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی پوری قوت سے جاری ہے۔ پاکستان اس وقت ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو امریکا کی جانب سے دیے گئے امن کے ڈھانچے کو ایرانی حکام تک پہنچا رہا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ اس وقت فریقین کے درمیان براہِ راست رابطوں کی کمی کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں کا محور یہ ہے کہ ایران اور امریکا ایک ایسے معاہدے پر متفق ہو جائیں جو نہ صرف جنگ کا خاتمہ کرے بلکہ مستقبل میں بھی کسی بڑے تنازع کی راہ روک سکے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے صدر ٹرمپ کو قائل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے جس سے جنگ کے بادل فی الحال چھٹ گئے ہیں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہےدوسری طرف صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایک بہترین معاہدہ طے پا جائے گا، کیونکہ ان کے بقول ایران کی فوجی طاقت کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔اس دوران اب تمام نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں کہ کیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔پاکستان آمد سے قبل خود ایرانی وزیر خارجہ عباس راقچی نے بھی ایکس پر پیغام میں کہا تھا کہ ’ان کے دوروں کا مقصد دو طرفہ معاملات پر شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنا اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے