اسلام آباد (سہ پہر) سندھ طاس معاہدہ , پانی پاکستان کی ریڈ لائن
اسلام آباد (سہ پہر) پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، معاہدوں کے تقدس اور عالمی امن کے تحفظ پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اہم نشست منتقد کی جس میں سلامتی کونسل کے اراکین کے علاوہ دنیا کے تمام خطوں سے تعلق رکھنے والے رکن ممالک نے شرکت کی۔ پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت آریا فارمولا کے تحت اہم اجلاس کا موضوع بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے معاہدات کے تقدس کو برقرار رکھنا تھا۔
اجلاس میں ممتاز ماہرین پر مشتمل پینل نے بریفنگ دی پینل میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے قانونی امور کے ٹریٹیز سیکشن کے سربراہ ڈیوڈ نینوپولوس شامل تھے ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے صدر اور پاکستان کے سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی پینل کاحصہ تھے۔پینل میں انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور سابق اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پرنس زید رعد الحسین شامل تھے۔بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے پروفیسر و سابق ڈین پروفیسر عادل نجم پینل کاحصہ تھے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ عاصم افتخار احمد نے اگست 2025 میں عدالتِ ثالثی کے فیصلے کا حوالہ دیاان فیصلوں نے اس امر کی توثیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔اس کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار لازمی نوعیت کے ہیں، یسے معاہدات کو کمزور کرنا دنیا بھر میں مشترکہ وسائل، سرحدی نظم و نسق اور اعتماد سازی کے معاہدوں کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے سندھ طاس معاہدے کے معاملے میں پاکستان کو ایک بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل ہوگئی ہے29 جنوری 2026 کو جاری ہونے والے ثالثی عدالت کے پروسیجرل آرڈر نمبر 19 میں پاکستان کے معاہدے پر مبنی مؤقف کی واضح توثیق کر دی گئی ہے جبکہ عدالت ثالثی نے نہ صرف اپنی قانونی اتھارٹی برقرار رکھی بلکہ پاکستان کے پیش کردہ شواہد کو آگے بڑھاتے ہوئے تعمیل کی ذمہ داری براہِ راست بھارت پر عائد کر دی ہے۔پاکستان اپنے مختص کردہ پانی کے بہاؤ میں یکطرفہ طور پر رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ریڈ لائن کے طور پر دیکھتا ہے۔ بھارت کا پانی کو جبر کے آلے کے طور پر استعمال کرنا نقصان دہ ہوگا اور متناسب سفارتی، قانونی اور تزویراتی ردعمل کو مدعو کرے گا۔ پانی ایک انسانی ضرورت ہے نہ کہ جنگ کا ہتھیار۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں بشمول یکطرفہ پانی روکنا، مخالفانہ بیان بازی، معطلی کی دھمکیاں، اور ثالثی میں شامل ہونے سے انکار پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار بنانے کی دانستہ حکمت عملی کو بے نقاب کرتا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ جارحانہ ہائیڈرو پولیٹیکل مہم نہ صرف پاکستان کی آبی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون، کثیر جہتی معاہدوں کے تقدس اور جنوبی ایشیا میں امن کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔حکومت پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے متعلق عدالت کا کردار نہایت اہم ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور، بشمول مقبوضہ کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی، پر بھارت سے بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔اس حوالے سے پاکستان کا بیانیہ یہ ہے کہ آئی ڈبلیو ٹی کو معطل کرنے کی ہندوستان کی کوشش ناجائز ہے۔بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا اور ایسی کوئی بھی کارروائی قانونی طور پر باطل، اخلاقی طور پر ناقابل دفاع اور ویانا کنونشن آن دی لا آف ٹریٹیز اور بین الاقوامی واٹر کورس قانون کی خلاف ورزی ہے فیصلے کے بعد یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ بھارت کو نہ صرف ثالثی کارروائی روکنے کا اختیار حاصل نہیں بلکہ مستقبل میں بھی وہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ عدالت کا یہ فیصلہ پاکستان کی 2016 میں رتلے اور کشن گنگا منصوبوں پر دائر کی گئی شکایت کے تناظر میں آیا ہے، جس میں بھارت کی طرف سے ورلڈ بینک کے ذریعے کارروائی روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو مسترد کرنے کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک سیاسی مفاہمت نہیں، بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر یک طرفہ طور پر نظر ثانی یا انکار ممکن نہیں۔ پاکستان اس معاہدے کا مکمل احترام کرتا ہے اور اپنے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گا۔ بھارت کی طرف سے معاہدے کو معطل کرنے یا مسترد کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں، کیونکہ سندھ طاس معاہدہ اقوام متحدہ کے زیرِ اثر طے پایا تھا اور یہ عالمی قوانین کے تحت دونوں ممالک کو اس پر عمل درآمد کا پابند کرتا ہے۔ معاہدے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی کوشش نہ صرف انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ عالمی برادری کے لیے بھی خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے اپنے بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل پاسداری کرتا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد جاری رکھے گا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنے یک طرفہ، غیر قانونی اور اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات سے باز رہے اور معاہدے پر بلاتعطل عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ایسے جارحانہ اور غیر قانونی رویے کا نوٹس لے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ پاکستان نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ اپنے آبی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور کسی بھی قسم کی زیادتی کو برداشت نہیں کرے گا۔بھارتی وزیر اعظم مودی سمیت ہندوستانی رہنماؤں نے کھلے عام پاکستان کو پانی تک رسائی کی دھمکی دی ہے، جیسے کہ خون اور پانی ساتھ نہیں ہوگا۔ اس طرح کی بیان بازی، اکثر انتخابی مہموں کے دوران، ہائیڈرولوجیکل جارحیت کے ذریعے زبردستی کی ایک گہری حکمت عملی کو بے نقاب کرتی ہے۔مغربی دریاؤں پر بگلیہار اور کشن گنگا جیسے منصوبے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور پاکستان کی پانی کی دستیابی کو کم کرتے ہیں، جس سے پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ملک میں زراعت، معاش اور غذائی تحفظ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔چاہے کلبھوشن جادھو کیس ہو یا جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان نے کبھی بھی سویلین انفراسٹرکچر پر سیاست نہیں کی۔ اس نے مسلسل سندھ طاس معاہدے کا احترام کیا ہے۔ بھارت کے اقدامات معاہدے کی روح اور ساخت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
سنہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں آئی ڈبلیو ٹی کو جان بوجھ کر سیاسی اور فوجی کشیدگی سے دور رکھا گیا۔ بھارت کی اسے وسیع تر تنازعات سے جوڑنے کی کوشش معاہدے اور پرامن آبی تعاون کے بین الاقوامی فریم ورک دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔بھارت نے ثالثی میں شامل ہونے سے انکار کرکے اور ضامن کے طور پر بینک کے کردار کی بے عزتی کرکے عالمی بینک کے طریقہ کار کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس سے نہ صرف سندھ طاس معاہدہ کمزور ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں پر عالمی اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ پانی کو ہتھیار بنانا بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کے واٹر کورسز کنونشن اور بغیر نقصان کے اصولوں کے تحت، سرحدی پانیوں کا باہمی تعاون کے ساتھ انتظام کیا جانا چاہیے دوسری جانب حکومت پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کا بھارتی اقدام کو غیرقانونی کہنا پاکستان کے مؤقف کی تائید ہے۔ حکومت پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے متعلق عدالت کا کردار نہایت اہم ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور، بشمول مقبوضہ کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی، پر بھارت سے بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔عدالتِ ثالثی نے واضح طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ثالثی کا عمل مکمل طور پر فعال ہے اور کسی ایک فریق کی عدم شرکت کارروائی کو روک نہیں سکتی۔عدالت نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ سیاسی بیانات یا یکطرفہ اعلانات معاہداتی طریقہ کار کو معطل نہیں کر سکتے۔حکم میں کہا گیا کہ تعمیل کا تعین زمینی اور عملی حقائق کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ مبالغہ آمیز یا مفروضاتی منصوبہ بندی پر۔ عدالت نے کارروائی میں بھارت کی جانب سے مقررہ ٹائم لائنز پر عدم جواب دہی کو باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔ اہم پیشرفت کے طور پر عدالت نے ہدایت دی ہے کہ بھارت مقررہ مدت کے اندر اپنے آپریشنل لاگ بکس اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرے اور واضح کیا کہ عدم تعاون سندھ طاس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کی ذمہ داریوں کو کمزور نہیں کرتا۔پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام کو آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر بدستور نافذ العمل ہے اور کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کینیڈا کے مستقل مشن اور اقوام متحدہ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ گلوبل واٹر بینکرپسی پالیسی راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سفیر نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر مکمل طور پر برقرار ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپریل گزشتہ سال بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کا اعلان، اس کے بعد بغیر اطلاع پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں اور ہائیڈرولوجیکل معلومات روکنا، معاہدے کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے دریائے سندھ کے نظام کے منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی انتظام کے لیے ایک آزمودہ فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔ یہ نظام پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زرعی پانی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ 24 کروڑ سے زائد افراد کے روزگار اور خوراک کا دارومدار اسی پر ہے پانی کی عدم تحفظ اب محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی نظامی خطرہ بن چکا ہے، جو خوراک کی پیداوار، توانائی، صحتِ عامہ، روزگار اور انسانی سلامتی کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کو شدید سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، زیرِ زمین پانی کی کمی اور تیز رفتار آبادی میں اضافے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جو پہلے سے دباؤ میں موجود آبی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔پاکستان آبی لچک ڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے، جن میں مربوط آبی منصوبہ بندی، سیلاب سے تحفظ، نہری نظام کی بحالی، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی شامل ہیں، جن میں لیونگ انڈس اور ریچارج پاکستان جیسے منصوبے نمایاں ہیں۔مشترکہ دریائی نظاموں میں پانی کے خطرات کا مقابلہ کوئی بھی ملک اکیلا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے شفافیت، پیش بینی اور باہمی تعاون کو سرحد پار آبی نظم و نسق کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ سفیر نے مطالبہ کیا کہ 2026 کی اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس سے قبل پانی کے عدم تحفظ کو ایک عالمی نظامی خطرے کے طور پر تسلیم کیا جائے اور بین الاقوامی آبی قوانین کے احترام کو مشترکہ آبی نظم و نسق کا مرکز بنایا جائے۔پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن نے اپنے فیصلے میں بھارت کے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور ثالثی عدالت کے کردار کو محدود کرنے کے اقدام کو ناقابلِ قبول اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ معاہدے میں کسی بھی فریق کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر ثالثی کارروائی کو روک دے یا عدالت کے دائرہ کار کو محدود کرے۔ فیصلے کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی سے متعلق کوئی شق موجود نہیں، اور اس معاہدے کا اطلاق صرف دونوں ممالک کی باہمی رضا مندی سے ہی ختم یا معطل کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ اگر ایک فریق معاہدہ معطل کرنے کی کوشش بھی کرے تو بھی عدالت کی کارروائی اور فیصلہ سازی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی شقیں تنازعات کے حل کے لیے ثالثی عدالت کو لازمی اور فعال کردار سونپتی ہیں۔ کسی ایک فریق کی طرف سے ثالثی کو روکنے کی کوشش معاہدے کی روح کے منافی ہے۔ عدالت سندھ طاس معاہدے پر فیصلہ سازی جاری رکھے گی اور منصفانہ، مؤثر اور ذمہ دارانہ طریقے سے کردار ادا کرتی رہے گی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ایک کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی اقدام لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ پاکستان پانی اور دیگر اہم قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو مسترد کرتا ہے مندوب نے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن واںصاف اوراجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، آج بین الاقوامی وقانون کے احترام کو کڑی آزمائش کاسامناہے، یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کےعالمی قوانین پراعتماد کو مجروح کیا، جب قانون طاقت یامصلحت کے آگے جھکے گاتوعدم استحکام گہراہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یکطرفہ اقدامات کومعمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کوکمزورکرتی ہیں، پاکستان نےخودبھی ایسی خلاف ورزیوں کاسامنا کیاہے، بھارت نے گزشتہ سال پاکستانی خودمختاری کیخلاف ورزی کرکےجارحیت کاارتکاب کیا، پاکستان نے حق دفاع کوذمہ دارانہ محتاط اورمتناسب اندازمیں استعمال کیا۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیامیں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پرغیرقانونی قبضہ ہے، جموں کشمیرمیں بھارت کشمیریوں پرمظالم کرکے پائیدار امن کوخطرے میں ڈال رہاہے، بھارت کی سندھ طاس معاہدےکی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، پاکستان تنازعات کے پرامن تصفیہ کیلئے پرعزم ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر امریکی جریدے نے پاکستانی مؤقف کی بھرپور حمایت کردی۔ دی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ بھارت کا دُلہستی اسٹیج ٹو منصوبہ سندھ طاس معاہدے کے خلاف قدم ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی جانب سے آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار بنا رہا ہے۔ پانی کا بحران جنوبی ایشیا میں بڑا انسانی خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، بھارت پر مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے مہیا کرنا قانونی طور پر لازم ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پانی کو ہتھیار بنانے کی بھارتی کوشش عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی قانون کی نظر میں ناقابل قبول ہے۔دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق: ’انڈیا کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا اور ایک ایسی ریاست کے طور پر اس کی ساکھ پر سوال اٹھے گا جو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کا دعویٰ کرتا ہے۔ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘ انڈیا نے 22 اپریل 2025 کو اپنے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 اموات کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے سمیت دیگر یکطرفہ اقدامات کیے تھے، تاہم اسلام آباد پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے انڈین الزام کی تردید کرتا ہے۔ پاکستان نے انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ خلاف ورزی پر متعدد بار تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر قانونی اور ملک کے لیے ’سرخ لکیر‘ قرار دیا ہے۔دفتر خارجہ نے انڈیا پر ’دہشت گردی کو فروغ دینے‘ اور ’علاقائی عدم استحکام میں اضافہ‘ کے الزامات عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’خطے بالخصوص پاکستان کے خلاف، دہشت گرد سرگرمیوں کے فروغ میں انڈیا کے کردار سے سب بخوبی آگاہ ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیے گئے انڈین جاسوس کلبھوشن یادو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’پاکستان کے خلاف منظم، ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔‘ مزید کہا گیا کہ ’اسی طرح ماورائے سرحد قتل، پراکسیز کے ذریعے تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت کے بار بار سامنے آنے والے واقعات بھی نہایت تشویش ناک ہیں۔ یہ طرزِ عمل ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے اور اس کے پرتشدد حامیوں سے مطابقت رکھتا ہے پاکستان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند سرحد پار حملے کرتے ہیں، جنہیں انڈیا کی حمایت بھی حاصل ہے، لیکن کابل اور نئی اس کی تردید کرتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے جموں و کشمیر پر انڈیا کے ’غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضے‘ کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’پاکستان کشمیری عوام کی ان کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عزم پر قائم ہے تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خود ارادیت کو حاصل کر سکیں۔‘