اسلام آباد(سہ پہر)معدنیات کو ترقی کا زینہ بنانے کا عزم
پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان منرلز سمت سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں معدنی خزانوں کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے کوئی بھی ذی شعور پاکستانی انکار نہیں کرسکتا- سپہ سالار کا کہنا تھا ہماری سرزمین بہت سی معدنیات سے مزین ہیں اور اس صلاحیت کو مکمل طریقے سے استعمال میں لانے کے لئے بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ پاکستان میں چھپے خزانوں کی دریافت میں اپنا کردار ادا کریں–
قرآن پاک کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے انہو ںنے کہا کہ سورة رحمان میں اللہ رب العزت نے فرمایاہے کہ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے’ اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں-ہمارے پاس بہت سے قدرتی منرلز ہیں اگر ہم نے انہیں دریافت نہیں کیا تو یہ ہمارا قصور ہے اب ہم نے جو انیشی ایٹو لیا ہے اس کو چھوڑنا نہیں ہے ہمیں ملک کی ترقی کے لئے مل کر آگے بڑھنا ہے-معدنیاتی منصوبے عوام کی ترقی کا زینہ ہیں-ہم مل کر محنت کرکے ملک کو درپیش مشکلات سے نکالیں گے’ اللہ تعالی کامیابی دے گا’ ہم مقامی ریڈ ٹیپ ازم اور بیورو کریٹک رکاوٹوں سے نکلنا چاہتے ہیں-
بیرونی سرمایہ کار اس اعتماد کے ساتھ یہاں آئیں کہ فوری فیصلے ہوں گے ان کا سرمایہ ضائع نہیں ہوگا ان کی مائننگ لائسنسنگ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوگی ان کا کہنا تھا کہ کہ اگر ہمارا یہ مشترکہ عزم رہا تو پھر آسمان کی بلندیاں ہماری حد اور اس کی وسعتیں ہماری منتظر ہیں ہم ایسے سرمایہ کار دوست نظام کو یقینی بنائیں گے جس میں آسان شرائط ہوں اور غیر ضروری التواء سے بچا جاسکے’ ہم آہنگی’ ثابت قدمی اور امید کے ذریعے موجودہ چیلنجوں پر قابو پالیں گے- پاکستان منرلز سمت سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے نائب وزیر کان کنی خالد صالح المظفر کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت پاکستان کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں تعلقات بڑھانے کی خواہاں ہے’ سعودی عرب اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا-
اللہ تعالی نے پاکستان کو وہ سب کچھ دیا ہے جس کی کسی بھی قوم کو خوشحالی اور ترقی کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے پاس پورے ایشیائی براعظم میں بہترین جغرافیہ ہے، ہمارے پاس تمام موسم ہیں، ہمارے پاس ہر قسم کے مناظر ہیں، ہمارے پاس بلند ترین پہاڑ، زرخیز زرعی میدان، دریا، صحرا اور دنیا کے مصروف ترین سمندری تجارتی راستوں کے ساتھ ساتھ وسیع ساحلی پٹیاں ہیں۔ پاکستان کے پاس پیسہ کمانے اور ہماری معیشت کو مضبوط کرنے کے بے پناہ وسائل ہیں ۔نہ صرف ہماری زمین پر بلکہ زمین کے نیچے بھی بہت زیادہ معدنی وسائل ہیں۔ہماری زمینوں کے نیچے سونا، تانبا، لوہا، جواہرات، سنگ مرمر، تیل، گیس اور دیگر بہت سی معدنیات موجود ہیں جنہیں ہم حتمی شکل دینے کے بعد اگر صحیح طریقے سے نکال کر مارکیٹ میں لائیں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے-
پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان 6 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط معدنیات کے بڑے ذخائر سے مالا مال ہے۔یہاں 92 معروف معدنیات ہیں جن میں سے 52 کا تجارتی استعمال کیا جاتا ہے جن کی کل پیداوار 68.52 ملین میٹرک ٹن سالانہ ہے۔یہ ایک امید افزا شعبہ ہے جس کی اوسط نمو 2.3% سالانہ ہے جس میں 5 ہزار سے اوپر آپریشنل کانیں موجود ہیں، 50 ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور 3 لاکھ کارکنان کا براہ راست روزگار وابستہ ہے-
ملک میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کانیں ہیں – تانبے سونے کے پانچویں بڑے ذخائر ہیں-کوئلے کے دوسرے بڑے ذخائر کے ساتھ ساتھ اربوں بیرل خام تیل بھی موجود ہے۔لیکن یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ معدنی دولت کے سب سے بڑے ذخائر ہونے کے باوجود ہماری معیشت میں معدنیات کا حصہ بہت کم ہے اور اس کی بڑی وجہ ٹیکنا لوجی اور مہارت کی کمی ہے- پاکستان کے جی ڈی پی میں معدنیات کے شعبے کا حصہ تقریبا 3 فیصد ہے اور ملک کی برآمدات دنیا کی کل برآمدات کا صرف 0.1 فیصدہے ۔ سال 2017 میں دنیا کی کل معدنی برآمدات 401 بلین امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستان کی کل معدنی برآمدات 0.5 بلین امریکی ڈالر تھیں۔
ضلع چاغی میں واقع دہت کوہن، نوکنڈی میں بھی تانبے کے ذخائر موجود ہیں۔ تانبے اور سونے کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔ تانبے اور سونے کی کان کنی کے جدید منصوبو ں میں کاپر ریفائننگ پلانٹ اورگولڈ ریفائننگ پلانٹ شامل ہیں-پاکستان میں کوئلہ کے کل ذخائر 185 بلین ٹن ہیں، لیکن ایک تو وہ اچھی قسم کا نہیں ہے اور دوسرا ملکی ضرورتوں کے لیے ناکافی ہے جس سے ملکی کھپت کا 11 فیصد حصہ ہی پورا ہوتا ہے۔ پاکستان میں کوئلے کا زیادہ تر استعمال تھرمل بجلی پیدا کرنے، گھروں اور بھٹہ خِشت پر اینٹیں پکانے میں ہوتا ہے۔سندھ میں کوئلے کے ذخائر جھمپیر اور ضلع جامشورو کے علاقہ لاکھڑا کی اراضی میں موجود ہیں۔
الغرض پاکستان میں کئی قیمتی قدرتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں لیکن پاکستان میں بر ست اقتدار آنے والی کسی بھی قیمت نے ان قدرتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر پاکستان کی ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے اور عوام کی تقدیر بدلنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی- موجودہ سیاسی وعسکری قیادت کا معدنیاتی منصوبوں کو عوام کی ترقی کا زینہ بنانے اور پاکستان میں چھپے ہوئے خزانوں کو دریافت کرنے کے لئے بیرونی سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کرنے کے لئے فوری اور تیز رفتار اقدامات انتہائی قابل تحسین ہیں-
سول ملٹری اسپیشل انویسٹمنٹ کونسل اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں معدنیات سے کیمیکلز کی تیاری کے غیر روایتی شعبے کو بھی شامل کرے تاکہ ویلیوایڈڈ معدنی مصنوعات کی کھربوں ڈالر کی عالمی تجارت میں پاکستان بھی اپنا اہم حصہ شامل کر سکے۔پاکستان 92 اقسام کی معدنیات سے مالا مال ہے جس کی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے کر پاکستان عالمی سطح پر نئی کیمیکلز مصنوعات متعارف کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے، فی الوقت پاکستان سے خام معدنیات نکال کر سستے داموں پر برآمد کیا جا رہا ہے۔معدنیات واحد شعبہ ہے جو ملک کو معاشی بحران سے نکال کر ترقی کی جانب گامزن کر سکتا ہے، اس شعبے میں ویلیوایڈیشن کو فروغ دے کر ویلیوایڈڈ معدنی مصنوعات کو مہنگے داموں پر برآمد کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی کا کوئی ثانی نہیں اس کے بلندوبالا پہاڑ، برف سے ڈھکی چوٹیاں، بہتے جھرنے، ندیاں،خوبصورت جھیلیں، پانچ دریا،زرخیز اور سر سبز و شاداب وادیاں، قدیم تہذیبیں، تاریخی مقامات، معدنی ذخائر سے مالا مال چٹانی سلسلے، گھنے جنگلات،وسیع ریگستان، گہراسمندر، خوبصورت ساحل، جزائر اور چارموسموں کی موجودگی کے ساتھ ہر قسم کی آب و ہوا اس کو سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بناتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف رنگا رنگ ثقافتیں، بولیاں، اور قدیم اور تاریخی تہذیبوں کی موجودگی پاکستان کو ایک بہترین اور مثالی ملک بنا دیتی ہے۔
بلا شبہ ہم قدرت کے ان انمول خزانوں کو صحیح منصوبہ بندی اور افرادی قوت کے درست اور بر وقت استعمال کے ذریعے نہ صرف پاکستان کو تیز ترین معاشی وسماجی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرسکتے ہیں-ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک وطن کی سلامتی، دفاع اور تحفظ کے ساتھ اس کی تعمیر و ترقی و خوشحالی کے لئے ہم سب پرعزم ہو کر ایک صف میں کھڑے ہوجائیں۔ اس کے لئے حکومت، فوج، عدلیہ اور عوام کو نیک نیتی کے جذبے کے ساتھ ایک سوچ پر آنا ہوگا اور وہ سوچ ہوگی ملکی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کی سوچ، پائیدار امن کی سوچ، اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی سوچ۔ اگر ہم متحد ہوگئے تو دنیا کی کوئی طاقت آسمان کی بلندیوں کو ہماری حد بنانے سے نہیں روک سکتی…