LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) سی ڈی اے نے آئی-15 میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے زمین واگزار کروا لی، دو دہائیوں بعد قانونی الاٹیز کے لیے 500 پلاٹس کی ترقی کی راہ ہموار

اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026 (سہ پہر): سی ڈی اے نے آئی-15 میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے زمین واگزار کروا لی، دو دہائیوں بعد قانونی الاٹیز کے لیے 500 پلاٹس کی ترقی کی راہ ہموار

شہریوں کی جانب سے 500 پلاٹس کو تجاوزات سے واگزار کروانے پر سی ڈی اے کی شاندار کارکردگی کو سراہا گیا

چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے سیکٹر آئی-15 کے سب سیکٹر 1 میں طویل عرصے سے قائم تجاوزات ختم کرکے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ اس کارروائی سے تقریباً 500 پلاٹس کی منصوبہ بندی کے مطابق ترقی کی راہ ہموار ہوگئی ہے، جن کے قانونی الاٹیز کی سرمایہ کاری 2005 میں سیکٹر کے آغاز سے اب تک زمیں پر ناجائز قبضہ تھا۔

شہریوں نے تقریباً 500 پلاٹس کے لیے اراضی کو تجاوزات سے واگزار کروانے پر سی ڈی اے کی بہترین کارکردگی کو سراہا ہے۔ شہریوں کے مطابق اس اہم اقدام سے سیکٹر آئی-15 کی ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور قانونی الاٹیز کو ان کے پلاٹس کا قبضہ فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (انفورسمنٹ) سی ڈی اے ڈاکٹر انعم فاطمہ کی نگرانی میں تقریباً دو ماہ کی مسلسل کوششوں کے بعد شیخ پور گاؤں میں قائم تجاوزات کو کامیابی سے ختم کروا لیا گیا۔ آپریشن کے دوران 300 سے زائد مکانات، باڑے اور حویلیاں خالی کروائی گئیں، جس کے نتیجے میں طویل عرصے سے قائم وہ تجاوزات ختم ہوگئیں جو سیکٹر کی منصوبہ بندی کے مطابق ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔

اس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 36.5 ایکڑ تعمیر شدہ اراضی واگزار کروا لی گئی، جو سیکٹر کے تقریباً ایک چوتھائی حصے پر مشتمل ہے۔ یہ پیش رفت آئی-15 کی منصوبہ بندی کے مطابق ترقی اور تقریباً دو دہائیوں بعد قانونی الاٹیز کو ان کے پلاٹس کا قبضہ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔

متاثرہ الاٹیز کی ایک بڑی تعداد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر مشتمل ہے، جن کی سرمایہ کاری کئی سال سے انتظار کر رہی تھی۔ تجاوزات کے خاتمے سے ان کے دیرینہ مسائل کے حل اور پلاٹس کے قبضے کی حوالگی کی جانب پیش رفت کی توقع ہے۔

رہائشی پلاٹس کے علاوہ، تجاوزات کے زیرِ قبضہ مراکز کے پلاٹس بھی واگزار کروا لیے گئے ہیں، جس سے سیکٹر کی منصوبہ بندی کے مطابق ترقی کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

یہ معاملہ چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کے نوٹس میں سی ڈی اے کی کھلی کچہری کے دوران لایا گیا تھا۔ ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ نے تجاوزات کے خاتمے اور اراضی واگزار کروانے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔

سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ کو ہدایت کی گئی ہے کہ واگزار کروائے گئے علاقے کی منصوبہ بندی اور ترقیاتی کاموں کا عمل ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے، تاکہ ضروری قانونی و انتظامی کارروائی مکمل کرکے قانونی الاٹیز کو جلد از جلد پلاٹس کا قبضہ دیا جا سکے۔ اراضی واگزار کروانا اس مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم قبضے کی باقاعدہ حوالگی ضروری منصوبہ بندی اور ترقیاتی مراحل کی تکمیل کے بعد عمل میں لائی جائے گی۔

چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت میں ادارہ قانونی الاٹیز کے حقوق کے تحفظ، سرکاری اراضی کو تجاوزات سے واگزار کروانے اور منظور شدہ منصوبوں و متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق اسلام آباد کے رہائشی سیکٹرز کی ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

X