LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) مسلمانوں کی زبوں حالی کی وجہ غیر کے آگے سجدہ ریزی ہے: اختر نواز جنجوعہ

اسلام آباد (سہ پہر): مسلمانوں کی زبوں حالی کی وجہ غیر کے آگے سجدہ ریزی ہے: اختر نواز جنجوعہ

آج گفت و شنید سے امید کی روشنی پھوٹتی نظر آتی ہے: میاں محمد جاوید

وہ دن دور نہیں جب عالمی سطح پر سب پاکستان کی ہاں میں ہاں ملائیں گے: مقررین کا تقریب سے خطاب

آج ہمارے معاشرے اور خصوصاً اقوام عالم میں مسلمانوں کی زبوں حالی کی بڑی وجہ اغیار کے سامنے سجدہ ریز ہونا ہے۔ علامہ اقبال نے درست نشاندھی کی تھی کہ تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من۔ مسلمان کیلئے صرف اللہ کو سجدہ کرنا جائز ہے لیکن جب وہ اپنی شخصی کمزوریوں یا مفادات کیلئے غیر کے سامنے جھک جاتا ہے تو اپنا ایمان و وقار کھو دیتا ہے۔ آج ہماری تنزلی و بدحالی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز دانشور بریگیڈیئر (ر) اختر نواز جنجوعہ ایوان قائد میں 6 ستمبر یوم دفاع کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع “دفاع وطن اور ہماری ذمہ داریاں” تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ گزشتہ برس 5 مئی کو سرحد پار سے دراندازی کے بعد پاکستان نے جس ثابت قدمی سے دشمن کو نہ صرف بروقت جواب دیا بلکہ اللہ کے کرم سے گھنٹوں میں پسپا کردیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے پاکستان کو عالمی سطح پر عزت وقار اور سربلندی ملنا شروع ہوا۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی ہاں میں سب ہاں ملائیں گے۔ نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے چیئرمین میاں محمد جاوید کا کہنا تھا کہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ آج آپ نے پہلی بار ہمارے پلیٹ فارم پر ایسی فکر انگیز اور چشم کشا باتیں کیں جو ہمارے نظریہ پاکستان کونسل کی اساس ہیں۔ آپ نے دین اسلام کی عظمت، حضور سرور کائنات، انبیائے کرام، خلفائے راشدین اور پھر قائد اعظم اور علامہ اقبال کے افکار کا بھی ذکر کیا یہی بنیادی عناصر نظریہ پاکستان کونسل کی بنیاد ہیں اور یہی وہ پیغام ہے جسے ہم اپنی نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں۔

آج کی تقریب میں ہونے والی گفت و شنید سے پاکستان کیلئے امید کی روشنی پھوٹتی نظر آتی ہے۔ تقریب کے مہمان اعزاز بریگیڈیئر (ر) شاہد اصغر نے کہا کہ افواج پاکستان اپنے محاذ پر جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن عزیز کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہمارے لکھاری اور عوام بھی بجا طور پر اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں۔

دوسرے مہمان اعزاز وحید شریف نے کہا کہ آج ہم یہاں اپنے وطن سے وفا، اسکے تحفظ اور تجدید عہد کیلئے جمع ہوئے ہیں تاکہ شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرسکیں۔

ماہر اقبالیات عبدالغفور عابد کا کہنا تھا کہ ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین حالیہ معاہدہ مثبت مستقبل کی غمازی کرتا ہے جسکی پیشگوئی علامہ اقبال اپنی شاعری میں کرگئے ہیں۔

علامہ محمد محمود احمد تبسم نے کہا کہ پاکستان سرور کونین کے توسط سے عطاء کردہ اللہ کا بہترین انعام ہے ہمیں اسکی قدر کرنی چاہئیے۔ ہمیں وطن کی حفاظت کیلئے نئی نسل کو تیار کرنا چاہئیے۔ وفا چشتی کا کہنا تھا کہ باہمی اختلافات ہمارے معاشرے کا خوفناک المیہ ہیں جو انسانی بھائی چارے کو ختم کرکے ہمیں کمزور کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیرت النبی ہمارے نوجوانوں میں انجیکٹ کردی جائے تو بڑی کامیابی ہوگی۔

تقریب کے موضوع کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنا اپنا کردار نبھانے ہوئے پہرہ دینا ہوگا کہ دشمن وردی پہن کر نہیں جھوٹی خبر بن کر بھی حملہ آور ہو جاتا ہے۔

تقریب کے میزبان حمید قیصر نے کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں میں حب الوطنی کو محض نعروں تک محدود نہیں رکھنا بلکہ اسے علم، کردار، خدمت، حب الوطنی اور قومی ذمہ داری سے جوڑنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو خوشحال پاکستان دیا جاسکے۔

تقریب کے اختتام پر وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کیلئے اجتماعی دعائے خیر کی گئی۔

X