اسلام آباد (سہ پہر) سعودی عرب سے زرعی تعاون، برآمدات بڑھانے کا سنہری موقع
اسلام آباد (سہ پہر) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے دونوں برادر ممالک نے پاکستانی زرعی و غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات کو آئندہ دو سال کے دوران 3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے سعودی وزیر ماحولیات پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن اے الفضلی کی قیادت میں اعلی سطحی سعودی وفد اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے درمیان مذاکرات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں چاول، سرخ گوشت پھل فروٹ کنسنٹریٹس، سبز چارے اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کو باہمی تعاون کے ترجیحی شعبے قرار دیا گیا وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی وفد سے ملاقات کے دوران زرعی اور غذائی شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا مملکت سعودی عرب کا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ غیر معمولی تعلق محبت کی بنیاد پر استوار اور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے مبرا ہے گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی دفاعی اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں یہ رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوا ہے سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کی فلاح اور خوشحالی کی جدوجہد میں اس کے ساتھ کھڑا رہا ہے سعودی عرب مشرق وسطی میں پاکستان کا سب سے قریبی دفاعی شراکت دار ہے دونوں کے درمیان وسیع سطح کا فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کا اشتراک ہے جسے دنیا کے قریبی ترین تعلقات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے دونوں ممالک کا 1947 سے قائم تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی ویژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کے زرعی و غذائی برآمدی شعبے کے درمیان موجود ہم آہنگی سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور پاکستانی زرعی و غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات کو آئندہ دو سال کے دوران 3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق اس بات کا غماز ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے پاکستان نے 2025 میں سعودی عرب کو تقریبا 163 ملین ڈالر مالیت کے ایک لاکھ 69 ہزار ٹن چاول برآمد کیے سعودی وفد نے آئندہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان چاول کی دوطرفہ تجارت مزید بڑھانے کے علاوہ سرخ گوشت کے شعبے میں بھی پاکستان سے سالانہ 167 ملین ڈالر مالیت کے تقریبا 30 ہزار ٹن سرخ گوشت کی فراہمی کا جائزہ لیا اور اس کی درآمد کو بتدریج دگنا کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے دونوں جانب سے پھلوں اور فروٹ کنسنٹریٹس کی برآمدات بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا جبکہ نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط، میچ میکنگ اور معیار کی سرٹیفکیشن کی باہمی منظوری کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن اے الفضلی کی قیادت میں اعلی سطحی سعودی وفد اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے درمیان مذاکرات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میںباہمی مفاہمتوں اور تعاون کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے رابطہ اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کی ترقی کے لئے انتہائی اہم اور جی ڈی پی میں اضافے کے لحاظ سے ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے پاکستان میں زرعی شعبے کے لئے دود جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر زمینی اصلاحات کی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی جس کی وجہ سے زرعی اجناس برآمد کرنے والا ملک زرعی اشیاء برآمد کرنے پر مجبور ہوچکا ہے ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے یہ پاکستان کے لئے انتہائی افسوس ناک عمل ہے دنیا میں اس وقت سب سے بڑا اور بہترین نہری نظام پاکستان میں ہے اس کے باوجود زرعی شعبے کی تنزلی سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی زراعت اور معیشت کس سمت میں جار ہی ہے ایسی صورتحال میں ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی جس سے جدید کاشتکاری کے ذریعے نا صرف فوڈ سیکورٹی کو بہتر بنایا جا سکے بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا دیا جائے موجودہ حکومت نے زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے موثر اور پائیدار حل نکالنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے جس کے نتیجہ میں زرعی شعبہ کو ایک بار پھر عروج پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہیں جو خوش آئند ہے حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں آئندہ چند سالوں میں صورتحال بہتر ہو جائے گی کسانوں کی خوشحالی کیلئے پیکج دیئے جا رہے ہیں پاکستان کے دیرینہ دوست ملک چین نے پاکستان کے شعبہ زراعت کی ترقی کیلئے ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں چین کے تعاون سے سٹوڈنٹس کو زرعی شعبے کی ترقی اور پیداوار میں اضافہ سمیت جدید ترین مشینری کے استعمال اور معیاری بیج کھادیں زرعی ادویات کے حوالے سے تربیت فراہم کی جا رہی ہے شعبہ زراعت سے منسلک ہزاروں پاکستانی زرعی سائنس دانوں کو چین کے مختلف زرعی شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے وفاق نے زرعی گریجویٹس کیلئے چین مین تربیت سازی کے لیے 4ارب روپے مختص کئے ہیں زرعی گریجوایٹس کی تربیت سے پاکستان میں شعبہ زراعت کی ترقی میں بڑی مدد ملے گی موجودہ صورت حال میں پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے سعودی عرب کا تعاون ناگزیر ہے سعودی عرب اس خطے کی سب سے بڑی معاشی قوت بھی ہے دونوں ممالک کے برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو صنعتی وکاروباری شراکت میں ڈھالنے کے لئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن 2030 باہمی شراکت داری کو قائم کرنے میں آسانی پیدا کرسکتا ہے سعودی سرمایہ کاروں کے لئے پاکستان کے زرعی’ تیل گیس سیاحت ٹرانسپورٹ انڈسٹریز’ آئی ٹی میڈیا’ مواصلات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی وسیع گنجائش موجود ہے پاکستان کے پاس سعودی عرب کی بعد از صنعتی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لئے کافی ہنر مند نوجوان موجود ہیں اس طرح ترسیلات زر کے ذریعے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی بڑھایا جاسکتا ہے پاکستان نے اگر ری بونڈ کرنا ہے اور اگلے دو سال میں 10 سے 15 بلین ڈالر کی اپنی آمدنی فوری طور پر بڑھانی ہے تو زرعی شعبے کے ترقی کے ذریعے ہی ممکن ہے حکومت کو نجی شعبے کو زراعت کی جانب راغب کرنے کے لئے ٹیکس چھوٹ جیسی کچھ مراعات دینی ہوں گی**