LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) عوام دوست اور متوازن پر وزیر اطلاعات کااظہاراطمینان

اسلام آباد (سہ پہر) عوام دوست اور متوازن پر وزیر اطلاعات کااظہاراطمینان. وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب اور میڈیا بیانات کے دوران مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے انکم ٹیکس ریلیف پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلاف سے ہٹ کر حکومت کے اس عوامی اور مثبت اقدام کی کھل کر تعریف کرے۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ ملک کو ڈیفالٹ کے خطرات سے نکالنے کے بعد اب معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔وزیر اطلاعات کے بیان کے اہم نکات50 ہزار تک ٹیکس چھوٹ: ماہانہ 50,000 روپے (سالانہ 6 لاکھ روپے) تک کمانے والے ملازمین پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔کم آمدن والوں پر کم ترین ٹیکس: ماہانہ 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک کی آمدن پر محض 1 فیصد ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے۔
اپوزیشن کو دعوت:
انہوں نے کہا کہ جمہوری روایات کا تقاضا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے کیے گئے ان تاریخی اقدامات کو سراہا جائے۔
معاشی اعشاریے:
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات کی بدولت مہنگائی سنگل ڈیجیٹ میں آ چکی ہے اور پالیسی ریٹ 11 فیصد پر آ گیا ہے۔
بجٹ 2026-27 میں انکم ٹیکس کی نئی اور کم شدہ شرحیں حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کے مختلف سلیبز کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں جو واضح کمی پیش کی گئی ہے،
اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
سالانہ آمدنی کا سلیبپرانی ٹیکس شرحنئی تجویز کردہ ٹیکس شرح (ریلیف)22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے23%20%32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے30%25%41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے35%29%56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے35%32%اس کے علاوہ، تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد اضافی سرچارج کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے تاکہ ملازمت پیشہ افراد کی جیب پر بوجھ کم ہو سکے.
یہ کہ پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ کے دوران سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک نے وزیر اطلاعات کو 12 سوالات پر مشتمل تحریری سوال نامہ پیش کیا وزیر اطلاعات سے براہ راست سوال پوچھتے ہوئے سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک نےمشکل حالات میں عوام دوست بجٹ حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے
کہا کہ عوام دوست اور متوازن ہے,سوال یہ ہے کہ.
:- سرکاری ملازمین کی تنخواہیں: “آپ نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں صرف 7 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے، جبکہ ملک میں گزشتہ چند سالوں کی اوسط مہنگائی اس سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ کیا یہ اضافہ موجودہ معاشی حالات میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر نہیں ہے؟
:-“مزدور کی کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ تو کیا گیا ہے، لیکن نجی شعبے (Private Sector) میں اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے حکومت کے پاس کیا ٹھوس میکانزم ہے؟
:۔ “بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے 4 نئے ٹیکس سلیبز متعارف کروا کر 3 فیصد ریلیف کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن دوسری طرف بالواسطہ ٹیکسز (Indirect Taxes) اور پٹرولیم لیوی میں اضافے سے یہ ریلیف ختم ہو جائے گا۔ تنخواہ دار طبقے پر مجموعی بوجھ کم کرنے کے لیے کوئی مستقل پالیسی کیوں نہیں بنائی گئی؟
:- “چھوٹے دکانداروں پر 1 فیصد فکسڈ ٹیکس لگایا گیا ہے، لیکن ہول سیلرز اور بڑے نان فائلر تاجروں کو اب بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سخت اقدامات کیوں نہیں نظر آ رہے؟
:- “بجٹ کا سب سے بڑا حصہ (تقریباً 8,054 ارب روپے) صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی میں جا رہا ہے۔ اس دلدل سے نکلنے اور آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے تحت لگنے والی کڑی شرائط سے عام آدمی کو بچانے کا کیا پلان ہے؟
:۔ “حکومت نے 23,775 گرین جابز اور ماحولیاتی اقدامات کا ذکر تو کیا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چھوٹے کسانوں کے لیے کھاد، بیج اور سولر ٹیوب ویل پر براہ راست سبسڈی دینے کا کوئی بڑا اعلان کیوں نہیں سامنے آیا؟”
: “بجٹ دستاویزات کے مطابق، ملکی ریونیو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی (8,054 ارب روپے) اور دوسرا بڑا حصہ دفاع (3,000 ارب روپے) پر خرچ ہو جائے گا۔ ان دو بڑے اخراجات کے بعد حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں اور پسماندہ طبقات کو ریلیف دینے کے لیے کیا رقم بچے گی؟ کیا ہم مستقل خسارے کا بجٹ بنانے کی طرف نہیں جا رہے؟”
: ” بھارت کا کل دفاعی بجٹ لگ بھگ 80 ارب ڈالر کے قریب ہے، جبکہ پاکستان کا بجٹ صرف 9 ارب ڈالر کے ارد گرد ہے۔
پاکستان کا دفاعی بجٹ ہر سال بڑھ رہا ہے، لیکن ہماری دفاعی صنعت (Defense Industry) سے حاصل ہونے والی برآمدات اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہیں۔ کیا اس بجٹ میں کوئی ایسا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے ملکی معیشت پر بوجھ بننے کے بجائے زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بنے؟
یہ کہ مئی 2025 کے پاک-بھارت فضائی ٹکراؤ اور پاک-افغان سرحد پر مسلسل آپریشنز کے بعد ملکی دفاعی ضروریات بلاشبہ بڑھ چکی ہیں۔ لیکن اس بجٹ میں دفاع کے لیے 3,000 ارب روپے مختص کرنے کے بعد، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ترقیاتی بجٹ کو بری طرح کاٹا گیا ہے۔ کیا حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ایک دباؤ کا شکار اور کمزور معیشت کے ساتھ، صرف دفاعی بجٹ بڑھا کر ملک کو تزویراتی طور پر طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اگلے مالی سال کا بجٹ ریلیف پر مبنی ہے اور اس میں معاشرے کے تمام طبقات کے مطالبات کا خیال رکھا گیا ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے حکومت کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں اتنی بڑی اصلاحات کبھی نہیں ہوئیں، ایف بی آر یعنی ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کا تمام اسٹرکچر اب ہر قسم کی سفارش سے بالکل پاک ہے اور اس میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ تنکا تنکا جوڑ کر بجٹ میں یہ گنجائش پیدا کی گئی ہے اور بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے کیونکہ وزیراعظم عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں اور ہماری معاشی ٹیم نے اس عوام دوست بجٹ کو بنانے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ہے۔ وزیر اطلاعات نے معیشت پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب کسی برآمد کنندہ کا منافع بڑھتا ہے تو وہ نئی انڈسٹری لگاتا ہے اور یہ ایکسپورٹ یعنی باہر مال بیچنے کا ماڈل پوری معیشت پر اچھے اثرات ڈالتا ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ہاؤسنگ اسکیم کی بدولت اب ایک عام ڈرائیور اور مزدور کو بھی اپنا گھر بنانے کے لیے قرضہ ملا ہے جو ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ وزیر اطلاعات نے قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کے بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو ماہرینِ اقتصادیات اور رائے عامہ بنانے والوں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے۔عطا اللہ تارڑ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دیا گیا ہے اور انہوں نے واضح کیا کہ یہ ریلیف پورے تنخواہ دار طبقے کے لیے ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 50,000 روپے ماہانہ تک کمانے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے، جبکہ 50,000 سے 100,000 روپے ماہانہ کمانے والوں پر صرف 1 فیصد ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔وزیر اطلاعات نے بجٹ میں برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) کو دیے گئے ریلیف کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ تعمیراتی شعبے کے لیے ریلیف کے ساتھ ساتھ ’اپنا گھر اسکیم‘ سے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ ایف بی آر میں اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایسا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان پر اب ان لوگوں کا بوجھ نہیں پڑے گا جو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔مالی سال کے بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے نوٹ کیا کہ بجٹ کو ماہرینِ اقتصادیات اور رائے عامہ بنانے والوں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے۔ حکومت اپوزیشن کی جانب سے تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بجٹ میں متعارف کرائے گئے مثبت اقدامات کا اعتراف اپوزیشن ارکان کو بھی کرنا چاہیے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے معاشی استحکام میں تعاون پر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی کریڈٹ دیا۔ ملکی معاشی منظرنامے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مضبوطی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے حاجی جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بجٹ میں بلوچستان کی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے اور کوئٹہ کے پانی کے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ شاہد احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے امن و امان اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی اونچی قیمتوں کی وجہ سے کم آمدنی والے طبقات کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سید حسین طارق نے کہا کہ بے روزگاری سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی پالیسی اقدامات ضروری ہیں، انہوں نے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر بھی زور دیا۔ اسد قیصر نے کہا کہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں کو ریلیف اور سبسڈیز دی جانی چاہئیں۔ اسد قیصر کے کچھ ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے یاد دلایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ن لیگ کے رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا۔ شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بجٹ میں نوجوانوں کے لیے کوئی ٹھوس چیز نظر نہیں آتی، انہوں نے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ امیر ڈوگر نے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پانی کے ذخائر کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کرنے کی شرح بڑھائی جائے۔ شاہدہ بیگم نے کہا کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف دینے کے لیے جی ایس ٹی میں کمی پر غور کرے۔ سید وسیم حسین نے کراچی کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کو حل کیا جانا چاہیے۔ سید وسیم احمد کے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حیدرآباد-سکھر موٹروے اگلے تین سے چار سالوں میں مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایم نائن کراچی-حیدرآباد کی نئی الائنمنٹ پر کام شروع ہو چکا ہے، جبکہ کے فور منصوبہ اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد صوبائی حکومت اس کے توسیعی کام انجام دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے گرانٹ بھی فراہم کی ہے۔وفاقی حکومت نے نئے مالی سال 27-2026 کے لیے دفاع بجٹ کی مد میں 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، دفاعی بجٹ کا تخمینہ جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق مالی سال کے نظر ثانی شدہ 2595 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ و وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہےبجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی اخراجات کا تخمینہ 3000 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 450 ارب روپے زائد ہے، علاقائی سیکیورٹی صورت حال اور دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ 18 فیصد اضافے سے 3000 ارب روپے رکھا جائے گا جو کہ مجموعی وفاقی بجٹ کا تقریبا 15 فیصد ہے۔ نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں پاک فوج کے لیے 1284 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جب کہ پاک فضائیہ کے لیے 573 ارب روپے اور پاک بحریہ کے لیے 293 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ رواں سال دفاعی بجٹ میں پاک فوج کے لیے 1184 ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ پاک فضائیہ کے لیے 520 ارب روپے اور پاک بحریہ کے لیے 273 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 7 ارب 95 کروڑ رکھے گئے تھے، جو نظر ثانی کے بعد 11 ارب 74 کروڑ ہو چکے ہیں، نئے مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 10 ارب 90 کروڑ رکھے گئے ہیں۔ نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 967 ارب کے اخراجات تجویز کیے گئے ہیں جب کہ جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 846 ارب کے اخراجات رکھے گئے تھے جو نظرثانی کے بعد 851 ارب روپے ہیں۔ نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 743 ارب تجویز کیے گئے ہیں، جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 704 ارب رکھے گئے تھے، جو نظرثانی کے بعد 721 ارب روپے ہیں۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں کمی کرتے ہوئے دفاعی اور سیکیورٹی ضروریات کو ترجیح دی ہے، دستاویز کے مطابق دفاعی بجٹ میں عام طور پر شامل اخراجات پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے آپریشنل اخراجات افسران اور جوانوں کی تنخواہیں و الاؤنسز بھی شامل ہیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو اسلام آباد میں دیگر وزراء کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے نئے بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ملک کی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالی وزیر خزانہ نے عوام کو امید دلاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال میں نے کہا تھا ہماری معیشت درست سمت میں جا رہی ہے اور اب بجٹ میں ہم نے معیشت کے جس سفر کی بات کی تھی، اس میں واضح بہتری آ رہی ہے، ہم معاشی استحکام سے اب ترقی کی جانب بڑھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کی کوئی ایک آخری منزل نہیں ہوتی، لیکن ہم ترقی کی طرف چل پڑے ہیں اور جتنا ممکن ہو سکا ہم نے سرکاری فنڈز کی گنجائش کو عوامی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے تنخواہ دار طبقے کے سب سے کم آمدنی والے لوگوں کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں آئی ٹی کی برآمدات یعنی باہر کے ممالک کو بھیجی جانے والی سروسز ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی جبکہ نوجوانوں کو کاروبار کے لیے دو سو باسٹھ ارب روپے کے قرضے دیے جا رہے ہیں۔زراعت کے شعبے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے قرضے پندرہ فیصد اضافے کے ساتھ بیس کھرب روپے سے بڑھ گئے ہیں اور اس بجٹ میں زراعت کے لیے ایک سو پچیس ارب روپے الگ رکھے گئے ہیں جبکہ کاشتکاروں کی سہولت کے لیے زراعت سے متعلق آلات پر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کو ختم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دکانداروں کے لیے ریٹیلر اسکیم بھی بجٹ میں پیش کی گئی ہے۔سولر پینل کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ کس نے کہا تھا کہ سولر کا ریٹ بڑھ رہا ہے، میں افواہوں سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، سب ذرائع کو سچ کی طرف واپس جانا چاہیئے اور احتساب کرنا چاہیئے۔ بڑے شہروں میں مکانات کے لیے قرضے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بڑے شہروں کے لیے ایک کروڑ روپے کا قرضہ شاید کم مالیت ہو، اس لیے اب ہمیں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ یعنی حکومت اور نجی اداروں کے اشتراک کی جانب بڑھنا ہوگا، حکومت سندھ نے یہ کام کر کے دکھایا ہے اور اب نجی شعبے کو آگے بڑھانا ہوگا۔ پیٹرول کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد کو بڑھایا نہیں گیا، ہم پیٹرول اور ڈیزل پر صرف لیوی میں ردوبدل کرتے ہیں۔انہوں نے ہاؤسنگ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے مزید بتایا کہ غریبوں کے گھروں کے لیے ہاؤسنگ اسکیم پر اب تک گیارہ ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں اور اس نئے بجٹ میں ہاؤسنگ اسکیم کے لیے اکہتر ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔

X