LOADING

Type to search

پاکستان

بلوچستان (سہ پہر) آپریشن ردّ الفتنہ-1: بلوچستان میں دہشتگرد نیٹ ورک کا خاتمہ

بلوچستان (سہ پہر) پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں کامیابی کے ساتھ آپریشن ردّ الفتنہ-1 مکمل کیا، جس کے تحت بھارتی معاونت یافتہ دہشتگرد عناصر کے خلاف ہدف شدہ، تیز اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کی گئیں ہیں، یہ دہشتگرد معصوم شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر بلوچستان میں امن و ترقی کو خراب کرنے کی سازش کر رہے تھے۔ سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک کی تحقیق کے مطابق آپریشن کا آغاز 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ہرنائی کے نواحی علاقوں میں ہوا، جب قابل اعتماد اور تصدیق شدہ انٹیلی جنس میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی کی اطلاع ملی، جو مقامی عوام کے لیے فوری خطرہ تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورس نے کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہیں بلوچستان میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور اندرونی سیکیورٹی آپریشنز پر جامع بریفنگ دی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق بریفنگ میں حالیہ دہشتگرد حملوں، ان کے پس پردہ بھارتی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر نامزد دہشتگرد تنظیم فتنہ الہندوستان کے کردار اور سیکیورٹی فورسز کے بروقت اور جارحانہ ردعمل سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں نے بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔اس موقع پر ریاست کی رٹ مزید مضبوط بنانے، عوام اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ کسی بھی دہشتگرد یا اس کے سہولت کار کو نہیں بخشا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جواز کے تحت تشدد اور دہشت گردی کو درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔آرمی چیف نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم ناکام بنانے پر ان کی خدمات کی تعریف کی۔بعد ازاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ کمبائنڈ ملٹری اسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زخمی اہلکاروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے زخمی جوانوں کے بلند حوصلے کو سراہا اور مادرِ وطن کے دفاع میں ان کی جرات و استقامت کو خراج تحسین پیش کیا۔اس مرحلے میں دہشتگرد ٹھکانوں پر کارروائیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں بھارتی پروکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ریاست مخالف حملوں کو ناکام بنانے کے لیے مزید تیز اور ہدفی کارروائیاں جاری رکھی۔ متعدد علاقوں میں دہشتگردوں کے سلیپر سیلز کو تباہ کرنے کے لیے مسلسل کلیئرنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
آپریشن ردّ الفتنہ-1 کے دوران، پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں باہمی ہم آہنگی اور منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کرتی رہیں۔ اس منظم کارروائی کے نتیجے میں 216 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جس سے دہشتگرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔۔

اس دوران غیر ملکی ہتھیار، گولہ بارود، دھماکا خیز مواد اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا، جس کے ابتدائی تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ دہشتگردوں کو بیرونی سطح پر مالی، فنی اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔بدقسمتی سے، آپریشن کے دوران 36 معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، شہید ہوئے، جبکہ 22 بہادر سیکیورٹی اہلکار نے پاکستان کی سرحدی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ آئی ایس پی آر نے ان قربانیوں کو پاکستانی فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت، عزم اور خدمت کے اعلیٰ روایات کی عکاسی قرار دیا اور شہدا کے اہلخانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔پاک افواج نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں حکومت پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری رہیں گی اور دہشتگردانہ خطرات کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی آپریشنز جاری رہیں گے۔آپریشن ردّ الفتنہ-1 بلوچستان کے عوام اور پاکستان کی امن پسندی، اتحاد اور ترقی پسندی کا مظہر ہے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک و قوم ہمیشہ تشدد کے بجائے امن، انتشار کے بجائے اتحاد اور تباہی کے بجائے ترقی کو ترجیح دیتی ہے۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیاب تکمیل پر پاک فوج، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش ناکام بنی۔صدرِ مملکت نے آپریشن کے دوران شہید ہونے والے معصوم شہریوں اور بہادر سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ ملک سے بیرونی پشت پناہی میں ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ حکومت اور ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ انٹیلی جنس پر مبنی مربوط کارروائیوں کے ذریعے دہشتگرد نیٹ ورکس کی قیادت اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے آپریشن ردّالفتنہ کی کامیاب تکمیل پر افواجِ پاکستان کی قیادت، افسران اور جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی کمان کی کمر توڑنے اور مجموعی طور پر 216 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور عزم کو سراہا۔ بنانے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وطن عزیز کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 22 سیکیورٹی اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بزدل دہشتگردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کے دشمن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اس عفریت کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وطن عزیز کے دفاع کے لیے پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جاتا رہے گا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیابی پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے 216 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، عزم اور حوصلے کو سراہا اور کہا کہ ان کی شجاعت اور مؤثر کارروائیوں نے بلوچستان میں بدامنی کی سازش کو ناکام بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے اور دہشتگردانہ نیٹ ورک کی قیادت اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا ہمارا فخر ہیں اور ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اگر یہ سیاسی مسئلہ ہوتا تو بات چیت سے حل ہو جاتا، لیکن یہ معاملہ سیاسی نہیں ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آئین پاکستان کے بعد سب سے بڑی دستاویز نیشنل ایکشن پلان ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی کی وجہ لوگوں کی محرومی نہیں، جبکہ لاپتا افراد کا معاملہ تشدد کو جسٹیفائی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دہشتگرد جب بھی شہروں میں کارروائی کرتے ہیں تو انسانوں کو ڈھال بنا لیتے ہیں۔ لاپتا افراد کا معاملہ تشدد کو جسٹیفائی کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں، خیبرپختونخوا میں بھی لاپتا افراد کا مسئلہ ہے، لیکن شور زیادہ بلوچستان میں مچایا جاتا ہے۔بلوچستان میں دہشتگردوں کو 2 سے 3 فیصد سے زیادہ عوام کی حمایت حاصل نہیں۔بلوچستان میں دہشتگردوں کی تعداد 4 سے 5 ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی، آپریشن کی وجہ سے حالیہ دہشتگرد حملوں کی شدت کم رہی ہے۔دہشتگردی کے واقعات میں مصالحتی پالیسی کی وجہ سے اضافہ ہوا اور 2018 سے پہلے ریاست کی پالیسی مصالحت کی نہیں تھی۔سرفراز بگٹی نے بین الاقوامی میڈیا سے درخواست کی کہ دہشتگردوں کو دہشتگرد کہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی و عسکری قیادت میں اتفاق رائے تھا۔31 سویلین اور 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، دہشتگردوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 بھی نہیں تھی۔۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےوزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مخصوص جغرافیائی حالات کی وجہ سے اس علاقے میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی لازمی ہے، دہشتگردوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں گے بلکہ بھرپور قوت سے جواب دیا جائےگا۔ حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں چمن بارڈر پر ایک بڑا احتجاج بھی ہوا۔ احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیاکہ نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔واضح کیاکہ یہ لوگ نہ تو حقیقی سیاسی ہیں اور نہ قوم پرست، بلکہ بنیادی طور پر ان کی تحریک کاروباری نقصان کے ازالے اور روزانہ کی بنیاد پر تیل کی اسمگلنگ سے اربوں روپے کمانے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔مزید کہاکہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کررہے ہیں اور بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔ بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں 177 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 17 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری شہید ہوئے۔وزیر دفاع نے ایوان کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگردوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی اور ریاست پوری قوت کے ساتھ عورتوں، بچوں اور سیکیورٹی فورسز کو شہید کرنے والوں کو جواب دے گی تمام سیاستدانوں کو دہشتگردوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا، ہم آپس کی سیاسی لڑائیاں رکھ سکتے ہیں مگر دہشتگردی کے خلاف سب کو ایک ہونا پڑے گا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے بلیک میلنگ کی جاتی رہی اور سرداری نظام نے صوبے کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے لاپتا افراد کے اعداد و شمار حاصل کیے تھے جو 700 سے 750 کے درمیان تھے۔ بلوچستان ایک بہت بڑا علاقہ ہے جسے کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ہے، وہاں لڑنے والوں کے پاس ایسا جدید اسلحہ موجود ہے جو بعض اوقات سیکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں، سوال یہ ہے کہ اتنا جدید اسلحہ آ کہاں سے رہا ہے۔ مزید کہا کہ آج بلوچستان میں 15 ہزار 96 اسکولز، 13 کیڈٹ کالجز اور 13 بڑے اسپتال موجود ہیں، اس کے باوجود احساسِ محرومی کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے۔بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے نتیجے میں اہم پیشرفت سامنے آگئی دستیاب اعداد و شمار کے مطابق حالیہ آپریشنز کے دوران 177 دہشتگرد ہلاک کیے گئے جبکہ 17 سیکیورٹی اہلکار (10 پولیس، 6 ایف سی اور 1 لیویز) شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ گوادر اور مکران میں 33 شہریوں کی شہادتیں رپورٹ ہوئیں۔بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ 3 لاکھ 47 ہزار 190 مربع کلومیٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 44 فیصد) ہے اور صوبے کی آبادی ایک کروڑ 48 لاکھ کے لگ بھگ ہے جو ملک کی مجموعی آبادی کا 6.1 فیصد بنتی ہے۔صوبے کا کل بجٹ 1028 ارب روپے مقرر ہے۔بلوچستان میں بدامنی کی جڑیں سنہ 1950 کی دہائی سے جڑی ہیں جہاں بعض بااثر سردار اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے اسمگلنگ مافیا کی سرپرستی کرتے آ رہے ہیں۔ یہ مافیا منشیات، غیر قانونی ایرانی تیل اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ریورس اسمگلنگ میں ملوث ہے۔1960 کی دہائی سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے لیے رہداری نظام موجود ہے جسے اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ ریاست کی جانب سے تعلیم، صحت اور روزگار کے منصوبے ان عناصر کے مفادات کے خلاف جاتے ہیں اس لیے ترقیاتی منصوبوں کی شدید مخالفت کی جاتی ہے۔بی ایل اے اور دیگر کالعدم تنظیموں کو انہی جرائم پیشہ عناصر کا مسلح ونگ قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت کی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے باعث ان کے مفادات کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ مثال کے طور پر ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ 20 ملین لیٹر یومیہ سے کم ہو کر صرف 10 لاکھ لیٹر یومیہ رہ گئی ہے جو مقامی ضرورت کے لیے کافی ہے۔دہشتگرد اور ان کے سہولت کار دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ ایک جانب وہ دہشتگرد کارروائیوں کے ذریعے ریاستی رٹ کو کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب نوجوانوں، ادیبوں اور لبرل حلقوں کو استعمال کرتے ہوئے ریاست مخالف بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت اور افغانستان ان عناصر کو کھلے عام سفارتی اور غیر سفارتی سطح پر حمایت فراہم کر رہے ہیں۔بلوچستان ایک متنوع آبادی کا حامل صوبہ ہے جہاں 40 فیصد بلوچ، 30 فیصد پشتون، 17 فیصد براہوی اور باقی دیگر اقوام بشمول ہزارہ اور آبادکار شامل ہیں۔ بلوچستان سے زیادہ بلوچ آبادی جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں آباد ہے جو ’آزادی بلوچستان‘ کے بیانیے کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔ سنہ 1947 سے اب تک ہونے والی ترقی بھی محرومی کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔دفترِ خارجہ پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کو بطور پالیسی استعمال کر رہا ہے، جبکہ بلوچستان کو خاص طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حالیہ حملوں کے بعد اسلام آباد نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی سرگرمیوں کا نوٹس لےپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 30 جنوری کو ہونے والے مہلک دہشتگرد حملے اور اسی روز بھارت میں نیٹ فلکس پر فلم ’دھرندھر‘ کی ریلیز نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق 30 جنوری کے واقعات اور اس دن بھارتی فلم کی ریلیز کو الگ الگ واقعات کے طور پر دیکھنا مشکل ہے، کیونکہ اس سے ایک مخصوص نفسیاتی اور سیاسی پیغام جاتا ہے۔ تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ان معاملات کی غیرجانبدارانہ عالمی تحقیقات ضروری ہیں۔ سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں واقعات کا ایک ہی روز رونما ہونا محض اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان پہلے ہی بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارتی کردار کا الزام عائد کر چکا ہے۔حکام کے مطابق بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے اور ماضی میں بھی ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن میں بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کے روابط کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا اور معاشی و سٹریٹجک منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ حیران کن طور پر انہی حملوں کے روز، یعنی 30 جنوری کو ہی، بھارت میں نیٹ فلکس پر فلم ’دھرندھر‘ ریلیز کی گئی، جس کا موضوع تشدد، خفیہ کارروائیاں اور جارحانہ بیانیہ بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس ٹائمنگ کو محض اتفاق قرار دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ بھارت ماضی میں بھی فلم، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنے بیانیے کے فروغ اور نفسیاتی دباؤ کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے مواد کی ریلیز کا حساس سکیورٹی واقعات سے ہم وقت ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان بارہا عالمی فورمز پر بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کرتا رہا ہے۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشتگردی کے ہر واقعے کے پیچھے موجود عناصر کو بے نقاب کرتا رہے گا، چاہے وہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے ناکام بناتے ہوئے 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 133 دہشتگرد مارے گئے۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ بتایا گیا کہ دہشتگرد بیگناہ شہریوں، خواتین، بچوں، بوڑھوں اور مزدوروں کو نشانہ بنا رہے تھے، جس سے عوام میں خوف و پریشانی پھیلی۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف یکجہتی اور سخت مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر حملوں کی مذمت کی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بلوچستان کو نشانہ بنانا دراصل پورے پاکستان پر حملے کے مترادف ہے، اور حکومت و اپوزیشن اس معاملے پر ایک آواز ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی اور اسے موجودہ حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔اجلاس میں ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے بھی بلوچستان میں دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارت اب کرکٹ کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے بگ تھری کے نام پر دھوکا دیا، تاہم پاکستان نے مئی میں اس کی برتری کا خاتمہ کیا، جبکہ آئی سی سی عملاً انڈین کرکٹ کونسل بن چکی ہے۔جے یو آئی (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہر فورم پر دہشت گردی کی لہر پر قابو پانے کی بات کرتے رہے ہیں، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپنے علاقوں میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں جاری صورتحال نہ کسی تحریک کا حصہ ہے اور نہ ہی حقوق کی جدوجہد، بلکہ یہ سراسر دہشتگردی ہے۔انہوں نے شہادت پانے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عوام کی قربانیوں کو بھی سراہا، تاہم سوال اٹھایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بات کیوں نہیں کی جا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ دشمن ملک پاکستان کو توڑنے کی بات کر رہا ہے جبکہ یہاں وضاحتی بیانات دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ بلوچستان کی تاریخ سے آگاہ نہیں، کیونکہ یہ بہادروں کی سرزمین ہے۔جمال رئیسانی نے زور دیا کہ منافقت کی زنجیروں کو توڑ کر ایک آواز بننا ہوگا، کیونکہ یہ ایوان کمزور نہیں اور بلوچستان ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا۔ آہنگی کے ساتھ آگے بڑھیں گےاعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں مختلف واقعات میں شہید ہونے والے عام شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی ۔اجلاس میں مجموعی طور پر صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، ملک دشمن عناصر کے خاتمے اور مکمل امن و استحکام کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جامع پالیسی کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں، معززین اور وفاقی حکومت کے درمیان مشاورت، تعاون اور عملی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ایپکس کمیٹی نے واضح کیا کہ حکومت خیبر پختونخوا فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں سمیت اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کے محرکات کی نشاندہی، ان کا خاتمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ حکومت اور عوام مل کر ملکی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنا سکیں۔حکومت کا ایجنڈا بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی مفاد کے ذریعے قوم کو دہشتگردی کے خلاف متحد کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع میں تبدیل کیا جائے گا اور ترقیاتی، سماجی اور معاشی خدمات کی فراہمی کے ذریعے محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق ایک منظم پروگرام کے تحت ان علاقوں میں سیکیورٹی، مواصلات، صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے گا۔

X